آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان خانہ کعبہ میں تھے تو کسی پاکستانی نے ان پر قابلِ اعتراض جملے کسنا شروع کر دیئے۔ ایسے مقامات مقدسہ کو سیاست سے آلودہ کرنے کے عمل کو ہرگز پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا مگر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ انسان نفرتوں کے جو بیج بوتا ہے وہ خاردار جھاڑیوں کی شکل اختیار کرنے کے بعد کسی روز اسی کے دامن سے لپٹ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی بیہودگی، گالم گلوچ اور بے بنیاد الزامات لگانے کا جو رجحان متعارف کروایا گیا تھا، اب سب دو دھاری تلوار کی مانند اس کی زد میں آرہے ہیں۔ مثال کے طور پروزیر اعظم عمرہ کرنے گئے تو افواہوں اور قیاس آرائیوں کے سیلاب اُمڈ پڑے۔ کسی نے یہ بے پرکی اُڑائی کہ بشریٰ بی بی کے سابقہ شوہر خاور فرید مانیکا بھی ان کیساتھ ہیں تو بہت سے لوگوں نے بشریٰ بی بی کی سابقہ اور موجودہ تصاویر کا موازنہ کرکے شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ تعجب تب ہوا جب بعض سینئر صحافی بھی حالات کے رُخ میں بہتے دکھائی دیئے۔ میری معلومات کے مطابق خاور فرید مانیکا ہرگز اس وفد کا حصہ نہیں، البتہ بشریٰ بی بی کے بچے ان کے ہمراہ تھے۔ بعض ناقدین نے اس بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش بھی کی کہ عمران خان پچھلی مرتبہ عمرہ کرنے گئے تو ننگے پائوں تھے مگر اس بار مسجد کے احاطے میں بھی جوتے پہنے ہوئے تھے۔ کئی نیم مُلائوں نے اس بات پر فتوے صادر کرنے کی کوشش کی کہ دوران طواف تو چہرے کا پردہ نہیں ہونا چاہئے پھر بشریٰ بی بی نے نقاب کیوں کر رکھا تھا۔ اسی طرح بعض خود ساختہ علما نے عمران خان کے احرام باندھنے کے طریقے پر اعتراض کردیا۔ نہ جانے کیوں ہمارا معاشرہ بنیادی معاملات کے بجائے سطحی نوعیت کی باتوں میں اُلجھ کر رہ گیا ہے یا پھر اسے جان بوجھ کر ان باتوں میں اُلجھا دیا گیا ہے۔ اگر آپ عمران خان کے ناقد ہیں تو اسکے طرزِحکومت پر بات کریں، اسکی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنائیں، اسکے فیصلوں سے اختلاف کریں نہ کہ ذاتی زندگی اور نجی معاملات پر رگیدنا شروع کردیں۔ کوئی شخص کب اپنے رب کے ہاں سربسجود ہوتا ہے، کس مقامِ مقدسہ کی زیارت کیلئے جاتا ہے، اسکے ہمراہ کون ہے، اسکی عقیدت کا انداز و اطوار کیا ہے، یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے جس میں کسی کو دخل اندازی کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔

وزیراعظم عمران خان پر ذاتی نوعیت کے حملے کرنے والوں کی تو کوئی کمی نہیں البتہ کسی نے یہ سوال اُٹھانے کی جسارت نہیں کی کہ وزیراعظم قومی خزانے سے پیسے خرچ کرکے کیوں گناہ بخشوا رہے ہیں؟ وزیراعظم نے اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی تو ضرور جاتے مگر جہاز بھر کر لے جانے اور حلوائی کی دکان پر ناناجی کی فاتحہ پڑھنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سے پہلے بھی جب عمران خان نے اہلخانہ کے ہمراہ عمرہ کرنا تھا تو چارٹرڈ طیارہ لے جایا گیا۔ تب یہ تاویل پیش کی گئی کہ ان کے دوست زُلفی بخاری نے اس دورے کے اخراجات برداشت کئے مگر اب سرکاری خرچ پر جہاز لے جانے کی کیا توضیح پیش کی جا سکتی ہے؟ وزیراعظم نے تو کابینہ کے پہلے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ کبھی خصوصی جہاز پر سفر نہیں کریں گے بلکہ جب کبھی بیرون ملک جانا ہوگا تو پی آئی اے کی عام پرواز سے سفر کیا کریں گے لیکن گزشتہ 9ماہ کے دوران ایک بار بھی انہوں نے پی آئی اے کی پرواز سے سفر نہیں کیا۔ ممکن ہے ان کا دفاع کرنے والا کوئی انصافیا کہے کہ وزیراعظم عام پرواز سے بیشک نہیں جاتے مگر اسپیشل طیارہ لیکر بھی نہیں جاتے بلکہ پاک فضائیہ کا طیارہ اُدھار لیکر اس پر سفر کرتے ہیں۔ ایسی بے ڈھب بات کا کیا جواب دیا جائے بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ طیارہ کوئی بھی ہو، ایندھن کے بغیر نہیں اُڑتا اور تمام سرکاری ادارے یہ جہاز اُڑانے کیلئے قومی بجٹ پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ اس سے قبل جب کسی حکومت نے سرکاری خرچ پر حج یا عمرہ کروانے کی کوشش کی تو میڈیا نے ان حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کا پردہ چاک کیا۔ نوازشریف پانامہ کیس میں نااہل ہونے سے پہلے اپنے اہل خانہ کو عمرہ کروانے لے گئے تو پی آئی اے کی ایک پرواز بُک کروائی گئی، جب میڈیا نے شو ر و غوغا کیا تو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی اس پرواز میں 300مسافروں کی گنجائش تھی، شریف خاندان کے علاوہ 60مسافرسوار ہوئے اس لئے وزیراعظم نواز شریف نے باقی 240نشستوں کا کرایہ اور آم کی پیٹیوں کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کئے۔ بہتر ہوگا کہ وزیراعظم کے ترجمان شواہد کیساتھ وضاحت کر دیں کہ اس دورے کے دوران کتنے افراد کو سرکاری خرچ پر عمرہ کی سعادت فراہم کی گئی؟ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جو مقامی میڈیا کے روبرو چند جملے نہیں بول سکتے، انہیں ساتھ لیجا کر او آئی سی کے اجلاس میں کونسی توپ چلوائی گئی؟ یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ جن حکمرانوں کو عمران خان ’’چور‘‘ اور ’’ڈاکو‘‘ کہتے رہے ہیں، معلوم ہو سکے کہ ان میں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے۔ ماضی میں جب وزیراعظم نواز شریف کسی دورے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو ساتھ لے جایا کرتے تھے تو وہ ان پر کڑی تنقید کیا کرتے اور کہتے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کو ساتھ لے جانے اور دیگر وزرائے اعلیٰ کو نظر انداز کرنے سے چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھے گا۔ اب وہ اپنے ساتھ دورہ سعودی عرب میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کو لے گئے ہیں مگر سندھ اور بلوچستان کو نمائندگی نہیں دی گئی تو کیا ان کے اس اقدام سے احساس محرومی نہیں بڑھے گا؟

تحریک انصاف بطور اپوزیشن غیر ملکی دوروں کی سب سے بڑی ناقد تھی اور سابقہ وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں کو سیر وتفریح قرار دیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کابینہ کے پہلے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم ابتدائی تین ماہ کے دوران کوئی غیر ملکی دورہ نہیں کرینگے مگر شاید اسی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کرلیا گیا تھا کہ آج جتنے فیصلے کئے گئے ہیں ان میں سے کسی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا جائیگا۔ موجودہ وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں سے متعلق ابھی تک مصدقہ اعداد و شمار تو دستیاب نہیں البتہ جس حساب سے غیر ملکی دورے کئے جا رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت جلد وہ سابقہ حکومتوں کا یہ ریکارڈ توڑنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں