آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مخالف تحریکیں ہمیشہ حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ کرتی ہیں۔ جائز یا ناجائز طور پر حکومت کی بدنامی ہوتی ہے، کردار کشی اور تہمت تراشی کے ہتھیاروں سے اس کو زیادہ سے زیادہ زخمی کیا جاتا ہے، آج کی صدی میں اقوام متحدہ سے لے کر عالمی طاقتوں تک ایسی حکومتیں، خواہ وہ منتخب ہی کیوں نہ ہوں، اپنے بین الاقوامی اور قومی معاملات طے کرنے میں نہایت پیچیدہ اخلاقی مراحل کے بحران میں داخل ہو جاتی ہیں، انہیں آسانی سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ملتی، احتجاجی تحریکیں ملک کے ریاستی ڈھانچے میں موجود بے شمار شرپسندوں اور منفی طاقت کے کرداروں کو ایک حیات نو عطا کر دیتی ہیں جس کے بل بوتے پر یہ عناصر معاشرے میں انارکی، جرائم میں اضافے، فیصلوں میں تاخیر و تعطل اور معمولات حیات میں جرائم اور خوف کی پیدائش گاہیں بن جاتے ہیں۔ چنانچہ عمران خان کو اپوزیشن کی متوقع مخالف تحریک کی نفی ضرور کرنی چاہئے، اس کے دبائو سے متاثر نہ ہونے کا بھرپور عملی نمونہ پیش کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں تاہم اپوزیشن کی متوقع مخالف تحریک کے وجود کو ’’ٹکے ٹوکری‘‘ کے طور پر ٹریٹ کرنے میں خان صاحب مزید ان کھائیوں میں گرتے چلے جائیں گے جس کی کھدائی کا بصد خلوص انہوں نے ہمیشہ خود بندوبست فرمایا ہے اور اس میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔

مثلاً پاکستان کی تاریخ میں یقیناً منتخب حکومتیں بھی پس پردہ اشاروں اور طاقتوں کی شمولیت سے مبرا نہیں رہیں، البتہ جو تشکیک عمران خاں کی منتخب حکومت کا مقدر قرار پائی وہ ان تقریباً 72برسوں کا استثنائی منتخب واقعہ ہے، نتیجہ عمران خان جب گلی گلی ’’سلیکٹڈ وزیراعظم‘‘ کے عنوان، لاحقے اور نام سے پکارے جاتے ہیں، نہ کسی کو اچھالنا اور نہ کسی کے ذہن میں کوئی سوال یا اعتراض ابھرتا ہے، الٹا لوگ ہنس کے کہہ دیتے ہیں، ’’یار اس میں کیا ہے سب ایسے ہی آتےہیں،‘‘

سوال عمران خان کے خلوص اور تحریک انصاف کی منتخب حکومت کی جان ماری سے متعلق نہیں، سوال صرف ایک ہی ہے جس نے دونوں کو چاروں اور گھیر رکھا ہے، آخر برسراقتدار آنے سے پہلے عالمی سامراج کے ان اداروں کو چیلنج کرنے کی کیا تکلیف تھی جس کے ساتھ معاہدات اور اسٹرکچر شراکتوں میں آپ کا ملک پچھلی چھ سات دہائیوں سے جڑا ہوا ہے، ان سے بغاوت یا علیحدگی اسلام آباد کے کسی کنٹینر پر کھڑے ہو کے نعرہ بار بڑھکوں سے پیدا نہیں ہوتی نہ کبھی ہو سکتی ہے، آئی ایم ایف کی مثال ہی لیں۔

وزیراعظم پاکستان نے مسلم تاریخ کے ایک سرد مجاہد ’’بدر بن مغیرہ‘‘ کی پیروی کرتے ہوئے یا اپنے دل و دماغ ٹیپو سلطان شہید کی روح اوڑھتے ہوئے اعلان کر دیا ’’اگر میں آئی ایم ایف کے پاس جائوں تو؟‘‘ اگلے الفاظ ناقابل اشاعت یا کم از کم مدعی کے لئے بہت ہی توہین آمیز ہیں، خوامخواہ ایسے چیلنج اور دھمکیاں جن کی سرشت ہی میں سچ نہیں، اگر نیت میں سچ ہے تو اس کا کوئی تعلق عملی صورتحال کے نقشے سے نہیں، اب اس آئی ایم ایف کی گزشتہ پانچ چھ ماہ سے خان صاحب اور ان کی ٹیم نے وہ وہ لکڑیاں لیں، وہ وہ منت واسطے ڈالے، وہ وہ آہ و زاری کی جس کے مظاہر نے رتی بھر باشعور پاکستانی کو بھی بوکھلا ہی نہیں دیا گھُسن مار جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔ بڑے آئے عالمی سامراج سے بغاوت کر کے نیا پاکستان بنانے، اپنی ٹیم ہی دیکھ لو، ایک شیخ رشید ہی اس ٹیم کی روحانی جبلت کو نقصان پہنچانے کے لئے کافی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ضروریات زندگی کی مہنگائی کا ریلا ریاستی سطح پر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ گزرے 70برسوں میں بھی قریب قریب ایسا ہی ہوا مگر وہ مہنگائی ریاست کے انتظامی اداروں، تاجروں اور کاروباری منڈیوں کی ملی بھگتوں اور ذہنی پسماندگی کے بے برکت پھل تھے، یہ پہلی حکومت ہے جس نے مملکت خدا داد پاکستان کی اقتصادیات میں مہنگائی کا عنصر محلول کی شکل میں جذب کرا دیا ہے جسے ریاست پاکستان اپنے موجودہ اقتصادی فریم میں لے کر متوقع بجٹ میں اس کی شاہکار تکمیل کرے گی، عوام کی ذہنی موت کا نین نقشہ ناقابل ذکر تصورات سے بھرپور دکھائی دے رہا ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اپنی لیڈر شپ کی صلاحیتوں کا کیا کیا جوہر دکھاتے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن اپنے مذہبی عقیدت مندوں و طلباء کی کتنی تعداد سے تہلکہ مچا تےہیں یا نہیں مچاتے، بعینہٖ دیگر جماعتیں، مسئلہ ہے ہی نہیں۔

مسئلہ ہے وزیراعظم عمران خان کا شکوک اور متنازع انتخابی مقام، تحریک انصاف کی ٹیم کا بہ حیثیت مجموعی حد درجہ مایوس کن چہرہ بین الاقوامی میدان میں پاکستان کا ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کی پوزیشن میں آ جانا اس حکومت کے خرابی بسیار کے بعد لڑکھڑا کر گرنے کے لئے یہی اسباب کافی ہیں، ’’نیا پاکستان‘‘ یہ کیا اپنے پرکھوں کے کارناموں سے برآمد کریں گے؟

جمہوریت کی ماں انگلستان کے وزیراعظم سرونسٹن چرچل کا کہنا ہے ’’سردست جمہوریت سے بہتر کوئی اور نظام نہیں‘‘۔ اشتراکی نظام کے باپ کارل مارکس کے نزدیک جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی ایک عالمگیر سازش ہے جس کے ذریعے عوام کو تبدیلی کے نام پر صرف استحصال کرنے والوں کے درمیان انتخاب کا حق دیا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں تاحال جمہوری ثقافت ابھی اس درجے پر نہیں پہنچ پائی جس پر مغربی اقوام فائز ہیں لہٰذا یہاں جمہوریت اور آمریت جڑواں بہنوں کی طرح ایک دوسرے سے چہرے اور اطوار ادل بدل کرتی ہیں۔ بہتری کی توقع ہر چند ہے لیکن ہمارا قومی معدہ ابھی خاصا کمزور ہے جس کے افاقہ کے لئے جو معجون مرکب ہمیں دیا جاتا ہے، وہ لوٹا کریسی، فلور کراسنگ، برادری ازم، ہارس ٹریڈنگ، تھانہ، کچہری، الزام تراشی اور سبز باغ وغیرہ جیسے اجزاء ہیں، یہ جمہوری معجون دھونس، دھاندلی اور جھرلو جیسی مقویات ڈال کر تیار کیا جاتا ہے جس کے استعمال سے تمام قومی مرکبات میں ضعف رونما ہونے لگتا ہے۔

سیاہ فام عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا کے مطابق ’’حقیقی قائد کی فطرت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ فتح کے موقع پر ہمیشہ پیچھے رہتا ہے تاکہ دوسرے آگے آئیں اور اگر مرحلہ خطرناک ہو تو اپنی چھاتی سب سے آگے رکھتا ہے‘‘۔

اور خان صاحب کا طریق کار کیا ہے، نعرے لگا کر چیلنج کرنا، وقت آنے پر پیادوں کو آگے کر دینا، جیسا کہ آئی ایم ایف کے سلسلہ میں رزم آرائی کے دعوئوں کا انجام ہوا، خان صاحب! اب جون، جولائی، اور اگست، ستمبر کے مہینوں میں متوقع حساس تبدیلیوں کے بعد کہاں کھڑے ہوں گے، کچھ کہا نہیں جا سکتا، البتہ ایک امکان یقین کی حد تک ہے سڑکوں پر ہونے والے بے بسوں کے لئے شیلٹر ہومز کے قیام کی بلند تر نیکی کے علاوہ پاکستان کے ترقیاتی اور اقتصادی ڈھانچے کو انہوں نے جو نقصان پہنچا دیا وہ شاید ہی اس کا ازالہ کر سکیں۔

گفتگو اسی سوچ پر واپس لاتے ہیں یعنی حکومت مخالف تحریکوں کو آسان نہیں لینا چاہئے، حکومتوں کی پوزیشن ان تحریکوں کی کثرت یا شدت سے پارہ پارہ ہو جاتی ہے، خان صاحب نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر قومی سیاستدانوں کی اجماعیت کی جس ’’کردار کشی‘‘ کی سرمایہ کاری کا سہارا لے رکھا تھا وہ سرمایہ اب ختم ہونے کو ہے، ان کے پاس پاکستان کے قومی کردار کو کسی برتر مقام پر لے جانے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ مستقبل قریب میں ان کے اندازوں کی غلطی انہیں ناقابل یقین افسوسناک حیرت انگیز نتائج سے دوچار کرا سکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں