آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر13؍ربیع الاوّل 1441ھ 11؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نیٹو نے مشکلات میں ترکی کی فوجی قوت کو استعمال کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا تاہم جب ترکی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو نیٹو مختلف حیلوں بہانوں سے ترکی کی مدد سے کتراتا رہا ہے۔ قبرص اور دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کے معاملے میں ہم پہلے ہی نیٹو کے اتحادی ممالک کا ترکی سے متعلق رویہ دیکھ چکے ہیں جبکہ اس وقت بھی نیٹو نے کوئی قابلِ ذکر مدد نہ کی جب ترکی پر شامی سرحدوں کی جانب سے مسلسل گولہ باری کی جا رہی تھی اور ترکی نیٹو سے پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ کررہا تھا لیکن امریکہ نے ترکی کو براہ راست پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کے بجائے عبوری عرصے کے لئے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں موجود پیٹریاٹ میزائلوں کو نصب کردیا۔ ترکی نے امریکہ پر دبائو ڈالا لیکن امریکہ کسی بھی صورت ترکی کو پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے پر کچھ عرصہ قبل تک راضی نہ ہوا اور صرف اس وقت نرمی دکھانا شروع کی جب ترکی نے روس کے ساتھ ایس- 400 دفاعی نظام خریدنے کے سمجھوتے پر دستخط کئے۔

ترکی کے نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے روس کے ساتھ کبھی بھی امریکہ جیسے قریبی تعلقات قائم نہیں رہے ہیں بلکہ امریکہ ہمیشہ ہی ترکی کو روس کے خلاف مختلف طریقوں سے استعمال کرتا رہا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کی شام میں ذیلی شاخ ’’وائی پی جی‘‘ اور ’’پی وائی ڈی‘‘ کی پشت پناہی کئے جانے پر ترکی نے کئی بار امریکہ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی لیکن امریکہ نے کوئی کان نہ دھرے جس پر دونوں ممالک کے تعلقات منفی طور پر متاثر ہونا شروع ہوگئے لیکن نومبر 2015میں ترکی کے ایف 16طیاروں کے شام اور ترکی کی سرحد کے قریب ایک روسی ’’سخوئی-24‘‘ جنگی طیارے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ترکی اور امریکہ تو ایک دوسرے کے قریب آگئے لیکن روس اور ترکی کے تعلقات جو کچھ حد تک بہتری کی جانب گامزن تھے متاثر ہوئے تاہم روس اور ترکی کے درمیان یہ سرد مہری زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکی بلکہ صدر ٹرمپ کی ترکی کے بارے میں اپنائی جانے والی منفی پالیسی کی بدولت روس اور ترکی ایک بار پھر ایک دوسرے کے قریب آگئے اور اسی دوران ترکی نے اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لئے روس سے ایس 400میزائل خریدنے کے سمجھوتے پر دستخط کر دئیے جس پر امریکہ جو ترکی کو کسی بھی صورت پیٹریاٹ میزائل دینے پر تیار نہ تھا، نے نرم پالیسی اختیار کرتے ہوئے ترکی کو پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کے بارے میں نئی آفر دینے کے ساتھ ساتھ روس سے ایس-400میزائلوں کی خریداری کے سمجھوتے کو منسوخ کرنے کے لئے دبائو ڈالنا شروع کر دیا لیکن صدر ایردوان کئی بار برملا کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک ایس-400میزائل نظام کے حصول کے معاہدے کی مکمل طور پر پابندی کرے گا اور ان میزائلوں کوحاصل کر کے ہی دم لے گا۔ روس کا یہ میزائل نظام 400کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایک ہی وقت میں تقریباً 80اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور یہ میزائل نظام فضا میں نچلی سطح پر پرواز کرنے والے ڈرونز سمیت مختلف بلندیوں پر پرواز کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ دور تک مار کرنے والے میزائلوں کو بھی نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ روس سے ایس-400 دفاعی نظام حاصل کرنے سے ترکی کی دفاعی صلاحیتوں میں بہتری پیدا ہو گی لیکن امریکہ کسی بھی صورت اس سمجھوتے پر عمل درآمد کرنے کے حق میں نہیں ہے، اس لئے اس نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ترکی کو خبردارکیا ہے کہ اگر اس ڈیل کو حتمی شکل دی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ روسی ساخت کے اس میزائل دفاعی نظام سے روس مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی جاسوسی کرنے کے ساتھ تمام متعلقہ معلومات حاصل کرسکے گا۔ اسی لئے امریکہ نے ترکی کو جولائی کے آخر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سے ایف 35جنگی جہاز خریدنے یا روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم خریدنے کے بارے میں فیصلہ کرے۔ امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شانہان نے ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آقار کو دھمکی آمیز خط لکھتے ہوئے حکومتِ امریکہ کے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں واضح طور پر لکھا ہے کہ روس کا دفاعی میزائل سسٹم نیٹو کے دفاعی نظام سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ عالمی سلامتی کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں روس سے اس دفاعی نظام کو خریدنے سے باز آنے اور امریکی پیٹریاٹ طیارہ شکن میزائل خریدنے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اس بات کا کئی بار برملا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت روس کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے پر عمل درآمد کرنے سے باز نہیں آئیں گے، ترکی ایک آزاد ملک ہے اور وہ اپنے دفاع اور مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ترکی امریکہ کے ساتھ 100امریکی ایف 35لڑاکا طیارے خریدنے کے معاہدے پر ان میزائلوں کی خریداری کے سمجھوتے سے قبل ہی دستخط کرچکا ہے اور طے پانے والے سمجھوتے کی رو سے ایف35 طیارے کے پرزے بنانے کے لئے 937ترکی کمپنیاں پہلے ہی سرمایہ کاری کرچکی ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کی ایک سینئر اہلکار ایلن لارڈ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی نے مقررہ مدت تک روسی ایس400 طرز کے میزائل دفاعی نظام کی خريداری سے متعلق ڈيل کو منسوخ نہیں کيا، تو امریکہ ميں ترک پائلٹس کی تربیت کا عمل روک دیا جائے گا۔ ترک پائلٹس ان دنوں امریکہ میں ہیں اور F-35اڑانے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکی ایف35 جنگی طیاروں کی تیاری کے لیے ترک کمپنیوں سے طے شدہ معاہدے بھی ختم کر دیے جائیں گے۔

امریکہ اور نیٹو کے دبائو کے باوجود ترک صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی ایس400 دفاعی میزائل حال کرنے کے ساتھ ساتھ اب روس کے ساتھ ایس500جدید میزائل دفاعی نظام مشترکہ طور پر تیار کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں روس کے ساتھ مذاکرات میں بڑی حد تک پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔ ترکی کے اس رویے اور عزم سے یہ بات عیاں ہے کہ ترکی روس سے لازمی طور پر ایس400 دفاعی نظام نہ صرف حاصل کرے گا بلکہ وہ روس کے ساتھ آئندہ مشترکہ طور پر ایس500 دفاعی نظام تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کرچکا ہے چاہے اسے امریکہ سے ایف35 ایک سو عدد جنگی طیارے حاصل ہوں نہ ہوں ۔

ادارتی صفحہ سے مزید