آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قانون بنادیا جو ٹیکس افسر زیادتی کرے گا اسکے خلاف ایکشن ہوگا، چیئرمین ایف بی آر

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہےکہ قانون بنا دیا جو ٹیکس افسر زیادتی کرے گا اس کے خلاف ایکشن ہو گا، ایمنسٹی اسکیم کارسپانس بہت اچھا آرہا ہے، ہمیں بینکوں،پراپرٹی اور گیس کنکشن کی معلومات مل چکی ہیں، ٹیکس دہندگان سے زیادہ ٹیکس لینے کی کوشش نہیں کی ہے، ٹیکس چوروں سے ٹیکس لینے میں کامیاب ہوگیا تو 5ہزار 500کا ہدف حاصل ہوجائے گا، پراپرٹی کو مارکیٹ ویلیو پر لے کر آرہے ہیں، سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مجھے یقین ہے حکومت 5ہزار 500ارب ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہیں کرسکے گی، یہ حکومت تو پچھلے سال سے بھی کم ٹیکس جمع کرسکی ہے، معاشی بحران میں چالیس فیصد ریونیو بڑھانا ممکن نہیں ہے، چیئرمین بزنس مین گروپ سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ایف بی آر افسر کسی کو تنگ کرے تو اس کیخلاف ایف آئی آر کٹوانے کا اختیار ہونا چاہئے، جتنی بھی چیزوں پر ٹیکس لگائے گئے ہیں ان کا بوجھ عوام پر پڑے گا،شاہزیب

خانزادہ نے اپنے تجزیے میں کہا کہ کرپشن کیسز میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین ایک ایک کر کے گرفتار ہورہے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان کے قانون کی بنیادی خامیاں واضح کرتارہا ہوں، presumptive (فرضی) ٹیکس پاکستان کا ٹیکس نیٹ نہیں بڑھنے میں بہت بڑی رکاوٹ تھی، پراپرٹی ویلیو ایشن غیر ٹیکس شدہ آمدنی کا پارکنگ لاٹ تھا، نان فائلر کیلئے جائیداد خریدنے پر پابندی ختم کردی ہے، لیکن اب ایسا قانون بنادیا ہے کہ نان فائلر ہونا ناممکن ہوگیا ہے، بائیس کروڑ کی آبادی میں صرف 19لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں جس میں6لاکھ تنخواہ دار ہیں، ہم نے فائلر اور نان فائلر کی کیٹگری ختم کردی ہے، جس شخص کو ٹیکس ادا کرنا تھا اب اس کا نان فائلر رہنا ناممکن ہوگیا ہے۔ شبر زیدی کا کہنا تھا کہ پہلے کسی افسر کیخلاف پروسیڈنگ کی اجازت نہیں تھی وہ اجازت ہم نے دیدی ہے، ایمنسٹی اسکیم میں آنے والے لوگوں کیخلاف کسی قسم کی پروسیڈنگ نہیں ہوگی، تمام معلومات خفیہ رہیں گی جنہیں لیک نہیں کیا جاسکے گا، ہم بہت سے آئٹمز کو سیلز ٹیکس میں تھرڈ شیڈول میں لے کر چلے گئے ہیں، تھرڈ شیڈول وہ آئٹم ہوتا ہے جہاں مینوفیکچررز سے ٹیکس وصول کرتے ہیں، کاٹیج انڈسٹری کے استثنیٰ کا غلط استعمال ہورہا تھا اسے بھی صحیح کیا ہے، ہماری کوشش تھی کہ غریب آدمی سے متعلق چیزوں پر ٹیکس نہیں لگایا جائے۔ شبر زیدی نے کہا کہ ٹیکس دہندگان سے زیادہ ٹیکس لینے کی کوشش نہیں کی ہے، ٹیکس چوروں سے ٹیکس لینے میں کامیاب ہوگیا تو 5ہزار 500کا ہدف حاصل ہوجائے گا، ہم نے آج میچ شروع کیا ہے میچ کھیلنے کیلئے اسٹارٹنگ باؤلنگ دیں، بجٹ میں ہمارا کوئی غلط اقدام بتادیں، چھ لاکھ تنخواہ پر ٹیکس نہیں لگایا ہے، چھ لاکھ سے بارہ لاکھ کی آمدنی پر صرف ڈھائی فیصد ٹیکس ہے، کارپوریٹ سیکٹر اور نان کارپوریٹ سیکٹر میں فرق کو کم کرنے کیلئے نان سیلری آمدنی پر ٹیکس بڑھایا ہے۔شبر زیدی کا کہنا تھا کہ چینی پر گیارہ فیصد ٹیکس تھا جسے سترہ فیصد کیا گیا ہے، اس سے چینی کی قیمت 3روپے 64پیسے بڑھے گی، ہم نے یہ سارا اسٹرکچر شوگر انڈسٹری کو دیکھ کر بنایا ہے، پاکستان میں ٹیکسوں کا سارا بوجھ مینوفیکچررز پر ہے جو نیچے نہیں جارہا ہے، 1600ٹیرف لائنز پر خام مال کی کسٹم ڈیوٹی صفر کر کے مقامی انڈسٹری کو بڑا فائدہ دیا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں زیرو ریٹنگ سیکٹر کی سیل ایکسپورٹ کیساتھ مقامی بھی ہے، ایکسپورٹ سیل پر ٹیکس ریفنڈ ہوجائے گا جبکہ مقامی سیل پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس ہوگا، بنگلہ دیش اور چین کا نظام لانا چاہتے ہیں کہ ایکسپورٹ کے وقت پر ریفنڈ دیں، یہ غلط ہے کہ زیرو ریٹنگ ختم کردی گئی ہے، زیرو ریٹنگ کا ریفنڈ آج بھی موجود ہے وہ لے کر جائیں گے، یہ بھی ماننا چاہئے کہ زیرو ریٹنگ کے سلسلہ میں لوکل کے ریفنڈ ایکسورپٹ سیکٹر میں ایڈجسٹ ہورہے تھے ، 2017-18ء میں ہم نے 13ارب کے زائد ریفنڈ دیدیئے ہیں۔شبر زیدی نے کہا کہ پراپرٹی کو مارکیٹ ویلیو پر لے کر آرہے ہیں، میری خواہش ہے کہ مجھے بتایا جائے کہ کہاں ہم سے کمی بیشی ہوئی ہے، پاکستان میں پہلی مرتبہ قانون بنایا ہے کہ کوئی ٹیکس افسر زیادتی کرے گا تو اس کیخلاف ایکشن ہوسکتا ہے اور جو ٹیکس افسر کے ساتھ مل کر زیادتی کرے گا اس کیخلاف بھی ایکشن ہوسکتا ہے، ہم نے آٹومیٹڈ ٹیکس سسٹم بھی متعارف کروادیا ہے، ایف بی آر کے اندر اور باہر آٹومیٹڈ نظام وضع کریں گے ، ایمنسٹی اسکیم کارسپانس بہت اچھا آرہا ہے، ہمیں بینکوں،پراپرٹی اور گیس کنکشن کی معلومات مل چکی ہیں، لوگوں کو رعایت دی ہے کہ وہ نادرا سینٹر میں جاکر دیکھ سکیں کہ ان کی کون سی ٹرانزیکشن ریکارڈ پر ہے، پاکستانیوں کو پیغام دیتا ہوں وہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم میں نہ آئے تو آئندہ زندگی اس طرح نہیں ہوگا، بیئرر پرائز بانڈز کو بھی آہستہ آہستہ ختم کرنے کیلئے کام کررہے ہیں، پاکستانیوں کیلئے سسٹم میں آنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مجھے یقین ہے حکومت 5ہزار 500ارب ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہیں کرسکے گی، یہ حکومت تو پچھلے سال سے بھی کم ٹیکس جمع کرسکی ہے، معاشی بحران میں چالیس فیصد ریونیو بڑھانا ممکن نہیں ہے، پچاس ہزار تنخواہ والوں پر ٹیکس لگادیا گیا ہے وہ گھر چلائے گا یا ٹیکس دے گا، بزنس اور تنخواہ دار افرا دپر ٹیکس 35فیصد کردیا گیا ہے جس سے چوری ہوگی، آئی ایم ایف نے حکومت کو کہا ہے کہ مزید نوٹ نہ چھاپو، حکومت پیسے نہ بھی چھاپے تو چار ہزار ارب روپے کا خسارہ ہوگا۔چیئرمین بزنس مین گروپ سراج قاسم تیلی نے کہا کہ شبر زیدی کہتے ہیں کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا لیکن انڈسٹری میں بہت سی جگہوں پر ٹیکسز لگائے ہیں، چینی پر ٹیکس بڑھانے سے عام آدمی بھی متاثر ہوگا، حکومت نے ٹیکس لگاتے ہوئے نہیں سوچا کہ انڈسٹری کی اتنی صلاحیت ہے یا نہیں ہے، جتنے بھی چیزوں پر ٹیکس لگائے گئے ہیں ان کا بوجھ عوام پر پڑے گا۔ سراج قاسم تیلی کا کہنا تھا کہ ٹیکس چوری پکڑنا ایف بی آر کا کام ہے، ٹیکس چوری ایف بی آر کی ملی بھگت سے ہی ہوتی ہے، زیرو ریٹڈ ختم کرنے کے بجائے اس کی خامیاں ٹھیک کرنی چاہئے تھیں، پراپرٹی کی اسکیم دینے کے بعد حکومت کو کلیکٹر ویلیو اور ایف بی آر ویلیو ختم کر کے مارکیٹ ویلیو پر آجانا چاہئے، عمران خان نے پیرکی صبح جو پیغام دیا وہ انہیں شام کو آٹھ نو بجے پرائم ٹائم پر دینا چاہئے تھا، عمران خان کو اپنے پیغام میں یہ بھی کہنا چاہئے تھا کہ ایف آئی اے، نیب یا ایف بی آر ایمنسٹی اسکیم میں اثاثے ظاہر کرنے والوں کو تنگ نہیں کریں گے، اگر کوئی حکومتی یا ایف بی آر افسر کسی کو تنگ کرے تو اس کیخلاف ایف آئی آر کٹوانے کا اختیار ہونا چاہئے۔حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق نیب سے دو قسم کی معلومات مانگی تھیں جس کے بارے میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ فیصلہ کرچکی ہیں، ہمارا موقف تھا کہ جن برسوں کی یہ ٹرانزیکشن ہے اس وقت اینٹی منی لانڈرنگ کا قانون رائج نہیں تھا اس لئے یہ جرم تصور نہیں ہوگا، ہم نے فائنانشل مینجمنٹ یونٹ کی رپورٹ کی کاپی مانگی جس کی بنیاد پر سارا کیس شروع کیا گیا ہے، عدالت نے صرف ہماری بحث سماعت کی اور نیب کو سنے بغیر ہی کہہ دیا کہ یہ خارج ہے، جب دوبارہ گزارش کی گئی کہ یہ نیب کا دائرہ اختیار کا معاملہ ہے اسے پہلے طے کرنا چاہئے لیکن اس پر بھی نہیں مانے تو پھر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ مشکوک قرار دی جانے والی ٹرانزیکشن82ارب سے شروع کی گئیں جو کم ہو کر 3ارب پر آئیں اور آج عدالت میں 18کروڑ کچھ لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن رکھی گئیں۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنا پہلا مکمل بجٹ پیش کردیا ہے، بہت سے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں جس کے بعد توقع ہے کہ حکومت کی آمدنی میں تو اضافہ ہوگا مگر مہنگائی کی شرح بھی بڑھے گی، مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے بجائے وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا، بجٹ کا تخمینہ 7ہزار 22ارب روپے لگایا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں تیس فیصد زیادہ ہے، حکومت کو توقع ہے کہ اسے آئندہ مالی سال میں 6ہزار 717ارب روپے کی آمدنی ہوگی اس کیلئے حکومت نے ایف بی آر کو 5ہزار 555ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کاہدف دیا ہے جو گزشتہ بجٹ سے بہت زیادہ ہے، حکومت کا اندازہ ہے کہ مڈٹرم تک مہنگائی پانچ سے سات فیصد رہے گی، حکومت نے تنخواہ داراور غیرتنخواہ دار کیلئے ٹیکس کی کم سے کم حد بھی بڑھادی ہے، جس تنخواہ دار کی سالانہ آمدنی چھ لاکھ روپے ہوگی وہ ٹیکس دے گا، اس سے پہلے گزشتہ حکومت نے جاتے جاتے یہ حد بارہ لاکھ کردی تھی، حکومت نے نان فائلرز کیلئے جائیداد کی خریداری کی حد بھی ختم کردی۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ کرپشن کیسز میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین ایک ایک کر کے گرفتار ہورہے ہیں، گزشتہ روز آصف زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر گرفتار ہوئے اور منگل کو پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بھی نیب نے گرفتار کرلیا ہے،اہم بات یہ ہے کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری خود ان کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے پر عمل میں آئی ہے، حمزہ شہباز کے وکلاء نے درخواست ضمانت واپس لینے کی وجہ نیب کی جانب سے مطلوبہ دستاویز مہیا نہ کرنے کو قرار دیا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ منگل کو ایک اور بڑی خبر سامنے آئی، متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کو لندن میں گرفتار کرلیا گیا، انہیں گرفتاری کے بعد مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا، لندن پولیس نے بیان جاری کیا لیکن گرفتار ہونے والے شخص کا نام نہیں بتایا، بیان کے مطابق ساٹھ سال سے زائد عمر کے شخص کو سنگین جرائم ایکٹ 2007ء کی دفعہ 44کے تحت دانستہ طور پر اکسانے یا جرائم میں معاونت فراہم کرنے کے جرم میں شمالی مغربی لندن کے ایک مکان سے گرفتار کیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید