آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی میگا منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری سے ’’تبدیلی سرکار‘‘ کے ایجنڈے کی تکمیل کا ایک اور باب مکمل ہوگیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو وزیراعظم کی حیثیت سے اقامہ چھپانے کی پاداش میں نااہل کرکے ان کے خلاف احتساب عدالت میںتین ریفرنس پیش کئے گئے تھے، فاضل احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف ، ان کی صاحبزادی اور داماد کو قیدو جرمانے کی سزا سنائی تھی، تینوں کی گرفتاری کےبعد عدالت عالیہ نے سزا معطل کررکھی ہے، العزیزیہ سٹیل ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید با مشقت جرمانہ کی سزا سنائی گئی جبکہ فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں بری کردیاگیا ۔ نواز شریف العزیزیہ سٹیل میٹل ریفرنس میں گرفتار اور کوٹ لکھپت جیل میں پابند سلاسل ہیں، جبکہ حمزہ شہباز بھی گرفتار ہوگئے ہیں ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے موجودہ سربراہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ضمانت پر ہیں، نیب کے شہباز شریف کے بیٹوں حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور داماد علی کے علاوہ بیٹیوں کے خلاف منی لانڈرنگ کیس سامنے آرہےہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا باضابطہ بجٹ پیش کردیا حکومت کے حامی تو اسے ایک خوبصورت میزانیہ قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومت مخالف اسے عوام سے ظلم کے مترادف قرار دے رہے ہیں اوران کاکہنا ہے کہ اس بجٹ کے نتیجہ میں افراط زر اورعام استعمال کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور لوگوں کی زندگی اجیرن ہوجائے گی۔اے این پی نے مہنگائی کے خلاف عید کے فوراً بعدخیبرپختونخوا کے تمام بڑے شہروں میںاحتجاجی ریلیاں نکال کرعمران خان حکومت کے خلاف پہلا پتھر مارنے کا فرض ادا کردیا۔ پشاور، چارسدہ، صوابی، نوشہرہ، بنوں، ہنگو، باجوڑ، میرانشاہ، چترال اورلوئر دیر میں منعقدہ ریلیوں میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے خبردار کیا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے متوسط طبقہ ختم ہورہا ہے۔ مہنگائی کا طوفان خونی انقلاب کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی ہر کال پر مکمل ساتھ دینے کا اعلان کردیا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) پارلیمانی مشاورتی گروپ حکومت کیخلاف احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنے کے بعد پارلیمانی اپوزیشن سے بھی مل چکا ہے ۔جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس کیخلاف احتجاج کرنے والی قیادت سے بھی مشاورت ہوچکی ہے۔ حکومت نے بظاہر تو احتجاج کو اپوزیشن کا جمہوری حق قرار دیا ہے مگر انتشار پھیلانے والوں کیخلاف قانون کو حرکت میں لانے کا عندیہ بھی دے رکھا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وفاقی دارالحکومت سمیت کے پی کے اور پنجاب میں اپوزیشن کے متحرک کارکنوں کی فہرستیں مرتب کرلی ہیں۔ صورتحال زیادہ مخدوش ہوئی تو سیاسی کارکنوں کو شدید گرمی میںجیل یاتیرا سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان بار کونسل کے چودہ مئی کو عدالتی بائیکاٹ اور احتجاج کے اعلان کیخلاف وکلا کا ایک دھڑا حکومتی ریفرنس کے حق میں سامنے آچکا ہے ،پنجاب بار کونسل ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے ، جوڈیشل کونسل آئین کے مطابق فیصلہ دے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف عیدالفطر کے بعد اپنی صاحبزادی مریم نواز کو حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کی قیادت کی ہدایت کرچکے ہیں۔بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد چینی اور چاول کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ پر بھی عوام سخت ناراض ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے شوگر مافیا کو من مانی کیلئے کھلا چھوڑ دیا ہے،چینی کی غیرمعمولی پیداواراور سٹاک کے باوجود قیمتوں میں بیس روپے اضافہ عوام سے چین چھیننے کے مترادف ہے۔ایک طرف اپوزیشن حکومت کے خلاف شدید گرمی کے باوجود سڑکوں پر احتجاج کی خواہش کو عملی شکل دینے میں مصروف ہے تو دوسری طرف فرزند راولپنڈی شیخ رشید احمد کا دعویٰ ہے کہ ملک میں ملاں ملٹری الائنس رہتا ہے، ن لیگ کے سربراہ شہبا زشریف بجٹ سیشن کے بعد پھر بھاگ جائیں گے، پارٹی پرنواز شریف کا قبضہ ہے مگر آصف زرداری اور نواز شریف کی سیاست کاباب بند ہوچکا ہے۔ احتساب کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کاکہنا ہے کہ شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کے اثاثوں میں شہباز شریف کے دور اقتدار میں پچاسی فیصد اضافہ ہوا ہے جو اپنے بہنوئی کے ہمراہ لندن میں اشتہاری بنا بیٹھا ہے،عوام قومی خزانے کو لوٹنے والے اشتہاریوں کو بچانے کیلئے انتشار کا حصہ نہیں بنیں گے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ اگرچہ مولانا فضل الرحمن عمران خان کی حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے کو تیار نہیں مگر یہ جانتے ہیں کہ مقتدر حلقے انہیں کھل کر کام کرنے کاموقع دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ شدید گرمی کی وجہ سے لوگ مہنگائی کے خلاف نہیں نکلیں گے۔ مولانا فضل الرحمن تو اب کھلم کھلا یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت کے خلاف جہاد جائز ہے تو پھر پاکستان میں کٹھ پتلی حکومت کو کیسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ہم ملک کے وفادار ہیں جنگ نہیں چاہتے،ایک پیج پر آنا چاہتے ہیں ،متنازعہ الیکشن ختم کرو، چالیس سال سے قبائلی علاقوں میں امن کے نام پر خون بہایاجارہا ہے، ہم آئین بنانے اور اس کے تحفظ کی جدوجہد کررہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر فوج سے بد گمان کرنے کی سازش کرنے والوں کیخلاف ایک منظم مہم شروع کردی گئی ہے جس میں ملک دشمنوں کے ساتھ ساتھ جمہوریت پسندوں کوبھی نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ چونکہ بلوچستان او ر شمالی وزیر ستان میں ایک بار پھر منظم انداز میں دہشت گردی شروع کردی گئی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے عوام کے دلوں میںریاست اور فوج سے محبت کے جذبے کو ازسر نو تازہ کیا جائے۔ پاکستان کے اقتدار میں رہنے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مقتدر حلقوں کی ناپسندیدہ لگ رہی ہیں لہٰذا ان دونوں جماعتوں کے متحرک کارکنوں کو نظریاتی طورپر بھی کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بیشتر سیاسی قائدین حکومت گرانے کو ترجیح نہیں دیتے مگر حکومت کے خلاف بولنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ نیب بلا جواز انہیںتنگ کرتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں