آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ ایک رفاہی ادارہ ہے، جس پر کچھ جائیدادیں بھی وقف ہیں۔مذکورہ جائیدادوں کی آمدنی ادارے پر خرچ ہوتی ہے اور اس کا نظم متولی صاحب کرتے ہیں ۔متولی صاحب کردارکے نیک اور تعلیم یافتہ انسان ہے، مگر ان کے بعض فیصلوں سے مجھے اختلاف ہے، مثلاً انہوں نے بھاری تنخواہ پر ایک ملازم رکھا ہے، جب کہ اس جیسے اہلیت اور صلاحیت کا ملازم اس تنخواہ سے بہت کم پر بآسانی دستیاب ہے۔ کیا ان کا یہ فیصلہ درست ہے ؟

جواب:۔ وقف کا متولی درج ذیل امور انجام نہیں دے سکتا:

۱۔وقف کے لیے واضح نقصان پر مشتمل کوئی عقد نہیں کرسکتا ۔

۲۔مارکیٹ ریٹ سے کم پر وقف کو کرایہ پر نہیں دے سکتا۔

۳۔اجرت مثل سے زائد پر کسی کو ملازم نہیں رکھ سکتا۔

۴۔اوقاف یا اس کی مملوکات کو ذاتی استعمال میں نہیں لاسکتا ،مگر عرف جس قدر کی اجازت دے۔

۵۔وقف کو قرض کے عوض رہن نہیں رکھ سکتا۔

۶۔وقف عاریت پر نہیں دے سکتا۔

۷۔واقف کی عائد کردہ شرائط کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا، البتہ واقف کی ایسی شرائط جو خلاف شریعت ہوں یا خلاف مصلحت وقف یا موقوف علیہ ہو،ان میں قاضی کی اجازت سے خلاف ورزی کرسکتا ہے۔شریعت کی ان ہدایات کے مطابق اگر متولی نے اجرت مثل سے زیادہ پر ملازم رکھا ہے تواس نے ناجائز کا ارتکاب کیا ہے۔

اقراء سے مزید