آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی وزیر اعظم کےانتخاب کا پہلامرحلہ،بورس جانسن کی برتری

لندن (اے ایف پی )سابق برطانوی وزیر خارجہ اور تھریسامے ڈیل کے سخت ناقد بورِس جانسن نے برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کرلی۔ وزیراعظم تھریسامے کے استعفے کے بعد ملک کے نئے وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل امیدواروں کی تعداد 10 سے کم ہو کر 7 رہ گئی ہے۔ بریگزٹ کے حامی سابق وزیر خارجہ بورس جانسن نے برطانوی دارالعوام کے ایوان زیریں میں کنزرویٹو پارٹی کے قانون سازوں کی خفیہ ووٹنگ میں ڈالے جانے والے 313 میں سے 114 ووٹ حاصل کیے۔برطانیہ کے موجودہ وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ مقابلے کے پہلے مرحلے میں 43 ووٹ کے ساتھ دوسرے، وزیر ماحولیات مائیکل گوو 37 ووٹ کے ساتھ تیسرے اور سابق وزیر بریگزٹ ڈومینک راب 27 ووٹ کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے،سیکرٹری داخلہ ساجد جاوید 23 ووٹ کے ساتھ پانچویں، سیکرٹری ہیلتھ میٹ ہینکوک 20 ووٹ کے ساتھ چھٹے اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ سیکرٹری روری اسٹیورٹ 19 ووٹ کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کے لیے 2016 میں ہونے والی ووٹنگ میں دوسرے نمبر پر رہنے والی

اینڈریا لیڈسم، مارک ہارپر اور ایستھر مک وی مطلوبہ 17 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ بورس جانسن کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم یقیناً اب تک کے نتائج سے خوش ہیں لیکن مقابلہ جیتنے کے لئے ابھی طویل سفر باقی ہے۔ حتمی دو امیدواروں میں شامل ہونے کے لئے بورس جانسن کو مقابلے کے اگلے مراحل میں 105 سے زائد ووٹ لینا ضروری ہے، وزارت عظمیٰ کے لئے آخری دو امیدواروں میں سے ایک کے انتخاب کے لئے ملک بھر میں کنزرویٹو پارٹی کے ایک لاکھ 60 ہزار اراکین ووٹ دیں گے۔ آخری مرحلے میں کامیاب ہونے والا امیدوار پارٹی کا نیا سربراہ ہوگا اور ساتھ ہی تھریسا مے کی جگہ ممکنہ طور پر جولائی کے آخر میں ملک کا نیا وزیر اعظم بنے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں