آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کامیاب حکمرانوں کے مشیر بڑے ذہین ہوتے ہیں، تاریخ بھری پڑی ہے کہ کئی الجھے ہوئے معاملات کو مشیروں نے سلجھایا۔ اکبر بادشاہ کے نو رتنوں کی لوگ آج تک مثالیں دیتے ہیں۔ اکبر نے 51سال حکومت کی تھی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مشیر حکومتوں کا کام خراب بھی کر دیتے ہیں۔ یہ حضرت علیؓ کی خلافت کا زمانہ تھا، ان کا ایک مشیر ایک دن ان سے کہنے لگا ’’یاعلیؓ آپ بڑے بہادر ہیں، صاحبِ حکمت ہیں، علم کا دروازہ ہیں پھر ایسا کیوں ہے کہ پہلے خلفاء کے ادوار پُرامن تھے اور آپؓ کے دور میں ہنگامے ہیں، شورش ہے، بدامنی ہے‘‘۔ مشیر کا یہ سوال سن کر حضرت علیؓ نے فرمایا ’’پہلے خلفاء کا مشیر میں تھا اور میرے مشیر تم ہو‘‘۔ آپؓ کا یہ فرمان حکومتوں میں مشیروں کے کردار کو واضح کردیتا ہے۔

خواتین و حضرات! یہ تمہید مجھے اس لئے باندھنا پڑی کہ گیارہ جون کو بجٹ تقریر کے بعد رات گئے وزیراعظم کے خطاب نے عجیب و غریب صورتحال پیدا کردی ہے۔ تقریر میں تکنیکی خرابیاں وزیراعظم کے مشیروں کی ناکامی کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس تقریر کا وقت کچھ بتایا گیا تو کبھی کچھ۔ یہ بھی وزیراعظم کے مشیروں کی ناکامی کی کہانی ہے، اردو کے جملے درست نہ بولنا، اس ناکامی کا سہرا بھی وزیراعظم کے مشیروں کے سر ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ وزیراعظم نے اسلامی تاریخ کے واقعات کو غلط انداز میں پیش کیا، حضرت محمد ؐ کے جانثار صحابہ ؓ سے متعلق الفاظ کا چنائو درست کرنا چاہئے تھا، جب یہ سب کچھ کہا گیا تو وزیراعظم کے مشیر سوئے ہوئے تھے؟ چونکہ یہ تقریر ریکارڈڈ تھی، اس کا جائزہ لیا جا سکتا تھا، ایک بڑے اسلامی ملک کے سربراہ کی تقریر کا ایک ایک لفظ اہم ہے لہٰذا لفظوں کو بولنے سے پہلے تولنا بہت ضروری ہے مگر بدقسمتی سے وزیراعظم اور ان کے مشیروں کی اکثریت نام نہاد انگریزی اسکولوں کی تعلیم یافتہ ہے، میں نے پچھلے کالم میں بھی لکھا تھا کہ تعلیم کے نام پر تجارت کرنے والے ان اسکولوں میں ایسی تعلیم دی جارہی ہے جو ہمیں مذہب اور ملک سے دور کررہی ہے۔ وزیراعظم کو ایسے جملوں کی ادائیگی پر پوری قوم سے معذرت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا چاہئے۔ انہیں اپنے ایسے مشیروں سے جان چھڑوا لینا چاہئے جن کی معلومات اسلامی تاریخ کے حوالے سے درست نہیں، انہیں ایسے مشیروں سے بھی جان چھڑوا لینا چاہئے جن کی اردو بھی درست نہیں، جو جملوں کی ادائیگی بھی درست نہیں کروا سکتے، اگر وزیراعظم ایسا نہ کرسکے تو پھر ان کے لئے حالات سازگار نہیں ہوں گے، انہیں ان خامیوں پر قابو پانا ہوگا۔ وہ کرپشن کی روک تھام کے لئے کمیشن ضرور بنائیں، وہ لوٹ مار کے دس سالوں کا حساب ضرور لیں۔ قوم کی یہی خواہش ہے کہ ملک لوٹنے والوں کا احتساب ہو، ان سے رقوم کی واپسی ہو، انہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

اب ذرا بجٹ کی بات ہوجائے۔ مشکل ترین اقتصادی حالات میں اس سے اچھا بجٹ پیش نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جو لوگ پلاٹوں کی خریداریاں کرکے پھر انہیں جلد بیچ دیتے تھے یا کچھ لوگ سود کھاتے تھے، اس بجٹ میں پلاٹوں کی اس ہیرا پھیری کو روک دیا گیا ہے۔ اس سے یقیناً مکانات اور فلیٹس سستے ہوں گے۔ اس بجٹ میں چھوٹے ملازمین کے علاوہ پنشنرز کا بھی خیال رکھا گیا ہے، حکمرانوں نے اپنے خرچے کم کئے ہیں۔ مشکل ترین حالات میں یہ سمت درست کرنے والا مگر عوام دوست بجٹ ہے۔ امیر طبقات کے لئے اس بجٹ میں اچھی باتیں نہیں ہیں مگر پاکستانیوں کی اکثریت کے لئے یہ ایک شاندار بجٹ ہے۔ حماد اظہر نے اسے احسن انداز میں پیش کیا، اگرچہ یہ بجٹ حفیظ شیخ کی سربراہی میں تیار ہوا مگر اس میں غریب لوگوں کا بھرپور خیال رکھا گیا ہے۔ اس بجٹ میں زرعی طبقے کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ایسا کرنا بہت ضروری تھا، تعلیم کے لئے ریکارڈ بجٹ رکھا گیا ہے، صحت کے لئے بھی بجٹ میں اچھا خاصا اضافہ کیا گیا ہے، یہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے بڑا ضروری تھا کہ بنیادی چیزوں کا خیال رکھا جاتا، سو بجٹ میں عام طبقے کا بہت خیال رکھا گیا ہے، احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کا بھرپور احساس کیا گیا ہے۔ ایک شاندار بجٹ کے پیش کرنے پر اپوزیشن حیران ہے، وہ اپوزیشن جو مہنگائی کے نام پر تحریک چلانے کا سوچ رہی تھی۔ اب اسمبلیوں میں ان کی آوازیں غریبوں کے لئے نہیں بلکہ گرفتار لیڈروں کے لئے بلند ہورہی ہیں، لیڈر بھی ایسے جو کرپشن پر پکڑے گئے ہیں، حالیہ گرفتاریوں نے اپوزیشن کے لئے تحریک چلانا مشکل بنادیا ہے، اب تو آل پارٹیز کانفرنس بھی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ وزیراعظم کے ایک بڑے اعلان نے اپوزیشن کو مزید پریشان کردیا ہے۔ یہ بڑا اعلان دس سالہ چوری کا حساب ہے، انہی دس سالوں میں تو 24ہزار ارب قرضہ لیا گیا، انہی دس سالوں میں ملک کو برباد کیا گیا، انہی دس برسوں میں منی لانڈرنگ کی انتہا کردی گی، اس کمیشن کے قیام کے اعلان نے لوٹ مار کرنے والے سب لوگوں کو پریشان کردیا ہے ، بقول فرحت زاہد؎

کسی خیال میں کھویا رہا خزاں کا چاند

بہار آئی تو بجھ سا گیا خزاں کا چاند