آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جج عدلیہ کے ستون لیکن کوئی ستون آئین سے بڑا نہیں ، علی محمد خان

کراچی(ٹی وی رپورٹ)وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور کابینہ پر ذہنی دباؤ نہیں البتہ ذمہ داری کا احساس ضروری ہے، معزز جج عدلیہ کے ستون ہیں لیکن کوئی ستون آئین سے بڑا نہیں ہے،سپریم جوڈیشل کونسل میں معزز چیف جسٹس اور دیگر جج ہیں انشاء اللہ انصاف ہوگا، وزیراعظم عمران خان کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات ضروری ہوئی تو ہوجائے گی۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری اور ن لیگ کے رہنما سینیٹر مصدق ملک بھی شریک تھے جبکہ صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی اور علی احمد کرد کا موقف بھی پروگرام میں شامل کیا گیا۔شازیہ مری نے کہا کہ فیصل واوڈا کا پانچ ہزار لوگوں کولٹکانے کا بیان بہت سنگین ہے، حکومت لوگوں کو لٹکانے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے، پی ٹی آئی سے جب بھی پرویز مشرف کا پوچھا جائے تو گول مول بات کردیتے ہیں، پی ٹی آئی ہمیں سکھائے سلائی مشینوں سے ارب پتی کیسے بنا جاتا ہے۔صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف نہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے کوئی شکایت آئی ہے نہ ہی ریفرنس کو جانچا گیا اور پہلے ہی ڈھنڈورا پیٹ دیا گیا، حکومت کی بدنیتی اور امتیازی سلوک

کیخلاف جمعے کو ہم ہڑتال کریں گے،سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف جس طرح ریفرنس بھجوایا گیا اور ایک جج کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اس پر ہمارے تحفظات ہیں۔مصدق ملک نے کہا کہ وزراء کی گفتگو سے اداروں کی تضحیک ہورہی ہے، حکومت شدید دباؤ میں آگئی ہے جس کی وجہ سے ان کی گفتگو میں ٹھہراؤ نہیں ہے،حکومت واقعی پکڑنا چاہتی ہے تو ای او بی آئی، این آئی سی ایل، بی آر ٹی، منرلز کے کیسز موجود ہیں، حکومت نے عوام دشمن بجٹ پر نظرثانی نہیں کی تو انہیں روکنے کی حتی الامکان کوشش کریں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں