آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ 2019ء کی شروعات سے قبل اعلان کیا تھا کہ آئی سی سی ورلڈ کپ کے کٹھن اور مشکل ٹورنامنٹ کے پیش نظر کھلاڑیوں کے اہل خانہ کو ان کے ہمراہ رہنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم بعد ازاں پی سی بی کےچیئر مین احسان مانی نے اپنے ہی فیصلے کو تبدیل کیااور اعلان کیا گیا کہ 13جون سے کھلاڑیوں کو اہل خانہ ساتھ رکھنے کی اجازت ہوگی۔

اس بارے میں قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے سخت ردعمل پیش کیا ہے۔

جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے،44سال کے محمد یوسف نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1999ء2003ءاور2007ءکا ورلڈ کپ کھیلے،تاہم کسی ورلڈ کپ میں اہل خانہ کو ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا ہمیں تو ون ڈے سیریز میں بھی اہل خانہ کو ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں تھی،ہاں ٹیسٹ سیریز کے دوران بیوی بچوں کو ساتھ رکھ سکتے تھے،اور یہ اس لئے بھی درست ہوتا تھا کہ ایک شہر میں کم ازکم ہفتہ گزارنے کا موقع مل جاتا تھا۔

پاکستان کے لئے 90ٹیسٹ 288ون ڈے اور تین ٹی 20کھیلنے والے محمد یوسف کا مزید کہنا تھا کہ ورلڈ کپ ایک پریشر ٹورنامنٹ ہےاور میں حیران ہوں کہ بورڈ نے کیسے کھلاڑیوں کو اہل خانہ کو ساتھ رکھنے کی اجازت دے دی۔

محمد یوسف نے کہا کہ اگر کھلاڑی ایسا کر رہے ہیں ،تو یہ غلط ہے،ہم وسیم اکرم کی قیادت میں 1999ء ورلڈ کپ کا فائنل کھیلے تھے،وہ ایک بڑی ٹیم تھی جس میں کئی سپر اسٹار بھی تھے،اگر وہ چاہتے تو فیملیز کو بلانے کے لئے بورڈ کو قائل کر سکتے تھے،تاہم ایسا نہیں کیا گیا،کیوں کہ ہم ورلڈ کپ کھیل رہے تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں