آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں وزیراعظم عمران خان کی بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات بھی ہوئی اوردونوں میں مصافحہ بھی ہوا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کوئی طے شدہ نہیں تھی، دنیا داری تھی وہ ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے کوئی عجلت نہیں نہ کوئی گھبراہٹ ہے، بھارت جب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہوگا پاکستان کو تیار پائے گا، پاکستان کی سوچ بڑی حقیقت پسندانہ اور مدبرانا ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا ہےکہ بھارت کے ساتھ برابری اور باوقار طریقے سے مذاکرات کریں گے، ہمیں نہ کسی کے پیچھے دوڑنے کی ضرورت ہے نہ ہی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی مجھے کھوئے کھوئے سے نظر آئے، ایسا لگ رہا تھا مودی جی عمران خان سے آنکھیں نہیں ملا پارہے، وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے موقع پر مودی کی آنکھیں بند تھیں۔

انہوں نے کہا تعجب ہوا کہ روسی اور چینی زبان میں تقریریں سننے کے لیے مودی نے ہیڈ فون نہیں لگائے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل میں امریکا کی مدد کررہا ہے،پاکستان کے مثبت رویے پر امریکا بھی مثبت ردعمل کا مظاہرہ کرے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کو چاہیے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کااعتراف کرے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وزیرخارجہ سےملاقات میں آئی ایم ایف معاہدے ، ایف اے ٹی ایف پر بات ہوگی جبکہ انہیں ایف اے ٹی ایف سےمتعلق اقدامات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان ،روسی صدرکےدرمیان پاک روس دو طرفہ تعاون پر بہت مثبت گفتگو ہوئی جبکہ روسی صدر سے ڈیڑھ گھنٹے سےزائدملاقات میں افغانستان ،گلف کی صورتحال پر بات ہوئی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایسانہیں ہوتاروس کے تعلقات سے کسی اورملک سے تعلقات خراب ہوں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں