آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ملک کے بڑے صوبوں سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے گزشتہ روز صوبائی اسمبلیوں میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پیش کر دیئے۔ قومی سطح پر اس وقت معیشت کے سخت مشکل صورتحال سے دوچار ہونے کے باوجود پنجاب اور سندھ کے میزانیوں میں خسارے کا نہ ہونا اورسندھ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کیا جانا ایسے فیصلے ہیں جنہوں نے عوام الناس کو کسی قدر سکھ کا سانس لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ پنجاب کا 23کھرب روپے کا بجٹ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے پیش کیا جس میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 350 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 17کھرب 17ارب روپے ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق ترقیاتی اخراجات میں پچھلے سال کی نسبت47 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کی بنا پر امید ہے کہ آئندہ مالی سال میں صوبے کی ترقیاتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا سکے گا۔ ترقیاتی بجٹ کا 35فیصد جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیا جانا بھی اچھا فیصلہ ہے۔ صحت کے شعبے کے لیے279ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے مختلف شہروں میں چالیس ارب روپے کی لاگت سے جدید ترین سہولتوں کے حامل 9اسپتال تعمیر کیے جانے اور صحت انصاف کارڈ کا دائرہ صوبے کے36 اضلاع تک وسیع کرنے کا پروگرام تشکیل دیا گیا ہے۔ بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کے لیے 2ارب روپے کی لاگت سے پروگرام اور خواتین کو معاشی

طور پر خودمختار بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے پتا چلتا ہے کہ صاحبانِ اختیار انسانی وسائل کی ترقی کی اہمیت سے آگاہ ہیں جو کسی بھی قوم کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں۔ زراعت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر40ارب76کروڑ کی رقم رکھی گئی ہے جسے کاشتکاری کو جدید طریقوں پر استوار کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہئے تاہم درزی، حجام، حلوائی اور کئی دیگر کاروبار کرنے والے افراد پر ٹیکس عائد کردیا گیا ہے جس سے پہلے سے مہنگائی سے عاجز آئے ہوئے لوگوں پر مالی بوجھ مزید بڑھے گا۔ صوبہ سندھ کے 12کھرب 18ارب روپے کے صفر خسارے کے بجٹ میں جسے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا، تعلیم، صحت اور امن عامہ کو اولین ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں15فیصد اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ترقیاتی اخراجات کے لیے 283ارب 50کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم، صحت اور امن عامہ کے لیے بالترتیب170.61 ارب، 114.40 اور 109.78ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بڑے ترقیاتی منصوبوں میں ملیر ایکسپریس وے اور موٹر وے ایم نائن کے علاوہ ناردرن بائی پاس کے قریب تین سو ایکڑ رقبے پر ماربل سٹی کی تعمیر کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل ہے۔ دونوں صوبوں کی بجٹ تجاویز سے واضح ہے کہ درست ترجیحات کا انتخاب کیا گیا ہے لیکن اصل امتحان مختلف امور کے لیے مختص کی گئی رقوم کا درست استعمال ہے جس کیلئے معاملات میں مکمل شفافیت، کرپشن سے تحفظ اور میرٹ کے ملحوظ رکھے جانے کا اہتمام لازمی ہے۔ معیشت کو دستاویزی بنائے جانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات، جن میں تازہ ترین ایف بی آر کی جانب سے تمام خرید و فروخت کے لیے شناختی کارڈ لازمی قرار دیا جانا ہے، اس سمت میں پیش رفت کو یقیناً نتیجہ خیز بنائیں گے جس کے باعث یہ توقع بے جا نہیں کہ ملک جلد معاشی بحران سے نجات پاکر بہتری کی راہ پر گامزن ہوگا، تاہم اس کے لیے ایک قطعی بنیادی شرط منتخب پارلیمانی اداروں کا اپنی ذمہ داریاں کماحقہ انجام دینا ہے جبکہ اس حوالے سے صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔ ہمارے منتخب ایوان مچھلی بازار بنے ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں گزشتہ روز اسی بنا پر بار بار کوشش کے باوجود بجٹ پر بحث ہی شروع نہیں ہو سکی۔ صورتحال کی اصلاح نہ کی گئی تو آئینی نظام کا جاری رہنا محال ہو جائے گا لہٰذا منتخب ایوانوں کے ارکان کو خواہ ان کا تعلق حکومت سے ہو یا حزب اختلاف سے، بلاتاخیر ہوشمندی کی راہ اختیار کرنا چاہئے اور پارلیمان کی کارروائی کا بامقصد طور پر جاری رہنا بہرصورت یقینی بنانا چاہئے۔

ادارتی صفحہ سے مزید