آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ11؍ شوال المکرم 1440 ھ 15؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات کے حوالے سے آئندہ آٹھ دس ہفتے بڑے اہم ہیں۔ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے نگران حکومتیں قائم ہونے کا مرحلہ سر پر ہے اور سیاسی مبصرین اور غیر ملکی ادارے پاکستان کی مستقبل کی قیادت کے بارے میں سوچ بچار کررہے ہیں کہ نگران حکمران اگر آجاتے ہیں تو جائیں گے، کیا وہ واقعی 60یا90دن میں چلے جائیں گے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر کیا پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کی بجائے صدارتی نظام کی طرف تو معاملات نہیں چلے جائیں گے۔ اس سلسلہ میں معاشی ماہرین اور صنعت و تجارت کے حلقوں میں الگ سے تبصرے ہورہے ہیں۔ کچھ کے نزدیک پاکستان کے تمام سیاسی مسائل کا حل مضبوط پارلیمنٹ اور پارلیمانی طرز جمہوریت میں ہے جبکہ کچھ کے خیال میں پاکستان میں دونوں بڑی پارٹیوں کا پارلیمانی نظام عوام کی مشکلات حل کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں رہا ہے اور تیسری پارٹی کے طور پر عمران خان ا ور ڈاکٹر طاہر القادری کے تجربات فی الحال کامیاب نہیں رہے۔ایسے حالات میں نگران سیٹ اپ کے ذریعے پہلے ملک میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کرکے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے اور بعد میں ایک بڑی مہم کے ذریعے عوام کو جمہوریت کے فوائد کم اور زیادہ نقصانات سے آگاہ کیا جاسکتا ہے اور انہیں بار آور کرایا جاسکتا ہے کہ عوام کو تو روٹی

اور سیکورٹی چاہئے وہ ضروری نہیں کہ جمہوری اداروں کے ذریعہ ہو بلکہ انہیں غیر جمہوری نظام کو زبردستی جمہوری نظام کے طور پر تسلیم بھی کرایا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے الیکٹرانک اینڈ پرنٹ میڈیا پر تو اس وقت انہی کا راج ہوگا، اگر یہ سوچ آگے بڑھ جاتی ہے تو پھر ہمارے سرمایہ دار، جاگیردار اور ملکی وسائل کا استعمال کرنے والے 10-8 فیصد طاقتور افراد کا کیا ہوگا جو جمہوریت کے نام پر عوام کو صرف الیکشن کے وقت یاد کرتے ہیں ۔
یہاں ہمیں نیلسن مینڈیلا کا 1999ء کو بی بی سی کو دیا جانے والا ایک انٹرویو یاد آرہا ہے جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ سیاستدان اور لیڈر میں کیا فرق ہوتا ہے۔ان کا جواب تھا کہ سیاستدان ہمیشہ اگلے الیکشن کے بارے میں سوچتے ہیں اور لیڈر اگلی نسل کے بارے میں سوچتے ہیں۔ آج پاکستان کو بھی ایسی ہی سوچ کی ضرورت ہے جو اگلی نسل کے بارے میں سوچے۔ وہ یہ نہ سوچے کہ آئندہ الیکشن میں اسے کتنی سیٹیں ملیں گی جس سے وہ اقتدار حاصل کرسکے۔ اس وقت ہماری اگلی نسل کا حال یہ ہے کہ آبادی کی اکثریت بلکہ70فیصد سے ز ائد افراد بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں اکثریت کا رجحان کرپشن کی طرف صرف ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے ہوا ہے، انہیں روزمرہ کے اخراجات اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے پریشان کر رکھا ہے۔90فیصد پاکستان کے تقریباً ہر گھرانے میں ایک یا دو افراد بے روزگار ضرور نظر آرہے ہیں جبکہ ان کے کھانے پینے کے اخراجات اور آمدن میں توازن دن بدن بگڑتا جارہا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی قوم کے کھانے پینے کے اخراجات 2005/06میں 785روپے (کیلورینز کے حساب سے) تھے جو2011-12میں بڑھ کر 1805روپے فی کس ہوچکے ہیں یعنی ان میں 130 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جبکہ آزاد سروے کے تحت یہ اخراجات 200فیصد سے بھی زائد بڑھ چکے ہیں جبکہ کھانے کی مقدار کیلوریز جو2004-05میں1750فی کس تھی وہ اب 1700رہ گئی ہے جبکہ آزاد اقتصادی ماہرین کے خیال میں یہ کمی1500سے بھی نیچے جاچکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی ،غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے گندم اور چاول کی کھپت میں3فیصد کمی، گوشت کی کھپت میں17فیصد اور سبزیوں پھلوں کی کھپت میں8فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے پریشان کن بات اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ سے ان کی کھپت میں کمی ہورہی ہے۔ اس حوالے سے بعض ماہرین اسے فوڈ سیکورٹی کا نام دے رہے ہیں جبکہ ہمارے خیال میں ملک میں اشیائے خوراک کی گرانی ضرور ہے لیکن اس کی کوئی قلت نہیں ہے ۔ ملک میں اب بھی گندم کے42لاکھ ٹن سے زائد ذخائر ہیں ۔صرف اس کی تقسیم کا نظام بہتر بنانے سے کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں مگر چونکہ گندم کے مالکان بڑے بڑے جاگیردار اور وڈیرے ہیں جن کی اکثریت پارلیمنٹ میں ہے اور وہی وفاق اور صوبوں کی حکمراتوں کا حصہ ہیں۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ پچھلے سالوں کی گندم گل سڑ رہی ہے مگر بے چارے عوام کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے عدم تعاون کی وجہ سے نہیں مل رہی۔ گھریلو زندگی کے حوالے سے ایک قومی ادارے کے سروے کے مطابق اس وقت پاکستان میں غریب افراد کا ماہانہ ساٹھ فیصد سے زائد بجٹ صرف کھانے پینے کی اشیاء پر صرف ہورہا ہے جس میں صحت، تعلیم اور دیگر سماجی اخراجات شامل نہیں ہیں۔ اس وقت مجموعی طور پر 62فیصد سے 65فیصد آبادی کا 7 سے 8 فیصد بجٹ فوڈ پر خرچ ہورہا ہے جبکہ20فیصد آبادی کا فوڈ خرچ 5فیصد سے7فیصد تک ہے جبکہ امیر ترین ا فراد جو آبادی کا 15فیصد سے20فیصد ہیں۔ ان کے فوڈ کے اخراجات 2فیصد سے3فیصد تک ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آخری دونوں کیٹگریز کی آمدن کافی زیادہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سندھ ا ور بلوچستان میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی نسبت کافی زیاد ہ ہے۔ ان وجوہ کی بناء پر پاکستان میں دن بدن خوراک کی کھپت میں کمی پریشان کن حد تک بڑھتی جارہی ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور پالیسی ساز اداروں اور حکام نے کبھی سوچا کہ وہ عوام کے ساتھ کیا کررہے ہیں کہ انہیں کبھی نہ کبھی تو اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہونا پڑیگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں