آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نظام مصطفیٰ والے الیکشن 1976کے بعد 40سال تک راقم نے کبھی ووٹ نہیں ڈالا کیونکہ سب کو معلوم ہوتا تھا کہ صرف دوسیاسی جماعتیں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو ہی الیکشن جیتنا ہے۔ دونوں جماعتیں عوام کے نام ووٹ حاصل کر کے صرف اپنے ذاتی مفاد کو عزیز رکھتیں اورقوم کو بے وقوف بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھیں۔

ظاہر ہے کہ ان دونوں جماعتوں کی پشت پر سرمایہ دار، جاگیردار ،وڈیروں کا قبضہ تھا وہ آپس میں ایک جماعت سے دوسری جماعت میں آتے جاتے رہتے تھے تو وقت ضائع کر کے ووٹ ڈالنا عقلمندی نہیں تھی مگر جب 2018میں عمران خان پوری تیاریوں کے ساتھ پی ٹی آئی کا نعرہ تبدیلی کے نام سے عوا م کو اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ تو میری پوری فیملی پہلی بار باجماعت ووٹ ڈالنے نکلی اور سب نے تبدیلی کو لبیک کہتے ہوئے عمران خان کو ووٹ ڈالے پھر جب نتیجہ آیا تو عمران خان نے میدا ن مار لیا پھر وہی ہوا ہارنے والوں نے دھاندلیوں کا الزام لگا کر الیکٹڈ وزیر اعظم کو سلیکٹڈ کا نام دیا اور پھر الیکشن کمیشن بھی حرکت میں آیا اور جہاں جہاں دھاندلیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، وہاں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرواکر سب کو مطمئن کر دیا گیا مگر یار لوگ اس مشترکہ ہار کو برداشت نہیں کر سکے اور اپنی تو ہین سمجھ کر میدان میں اتر گئے جو با ہر رہ گئے تھے وہ باہر رہ کر زیادہ زور لگا کر اپنی پارٹی کے اسمبلیوں کے اندر جانے والے اراکین پر مسلسل دبائو رکھے ہوئے تھے، ادھر وزیر اعظم عمران خان کا ایک ہی نعرہ تھا وہ کرپشن کے خلاف ڈٹا ہوا تھا مگر پورے گلشن میں تو ایک دم صفائی نہیں ہوسکتی تھی پھر ایک طرف نئی ٹیم اور وہ بھی ناتجربہ کار کے ساتھ کچھ کرپٹ سیاست دانوں کا بھی ساتھ تھا دونوں طرف الزام تراشیاں کچھ قانونی مو شگا فیاں آڑے آتی رہیں مشترکہ محاذ بنا کر خوب شور شرابہ 9ماہ تک ہوتا رہا کچھ لائق سیا ست دان لندن جاکر بیٹھ گئے کچھ آتے جاتے رہے اور کچھ پکڑے گئے مگر تمام کوششوں کے بعد بھی ایک دھیلہ قومی خزانے میں نہیں آسکا تو خسارہ دن رات بڑھتا رہا وزیر خرانہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے 9ماہ بھی پریشر برداشت نہ کر سکے مہنگائی کے سیلاب نے تبدیلی کے تما م خواب چکنا چور کر دئیے شروع شروع عوام اور خواص دونوں نے صبر کا مظاہرہ کیا تبدیلی تو کیا ہوتی ہر وہ الزام جو پی ٹی آئی ،مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتوں پر لگائی تھی ایک ایک کر کے اب وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر لگنے لگے اور جب خصوصیت کے ساتھ پیٹرول ،گیس اوربجلی کے دام سالانہ کے بجائے ما ہا نہ پھر ہفتہ وار بڑھنے لگے اور ڈالر مارکیٹ میں بے قابو ہوا اور ہمارے روپے کی قدر صبح شام کم ہونے لگی تو اب عوام کا ردعمل بھی لازمی طور پر سامنے آنے لگا ،پہلی مرتبہ پورا ملک مہنگائی کے ساتھ ساتھ معیشت کی تباہی کا رونا رونے میںحق بجانب تھا ایسے میں رمضان المبارک کا مہینہ بھی بہت بھاری گزرا تو اس کے گزر تے ہی پکڑ دھکڑ میں شدت آئی تولامحالہ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے اب ورکرز کو میدان میں اتارنا ہی تھا نیب ،ایف آئی اے تمام ادارے پکڑ تے تھے تو کرپٹ لوگ قانون کی بے بسی کا فائدہ اٹھا کربچ نکلتے تھے، یہ آنکھ مچولی ابھی جاری تھی کہ بجٹ لانے سے قبل پی ٹی آئی حکومت نے ایک ایسا یوٹرن لیا کہ ماضی میںاس کی مثال نہیں ملتی اتنے بڑے پیمانے پر باہر سے ماہرین کی بھر مارکردی کہ خود پارٹی میں الیکٹیڈ اور سلیکٹیڈ کی جنگ شروع ہوگئی ۔دوسری جانب چاند کے معاملے کو ہوا دی گئی ۔کے پی حکومت نے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی حمایت کرتے ہوئے 28ویں روزے کو عید کروادی اور کے پی وزیر اعلیٰ نے شہاب الدین پوپلزئی کورویت ہلال کمیٹی کا چیئر مین بنانے کا مطالبہ کردیا۔پھر بجٹ آگیا وہ بھی ایسا کہ ایک جیب سے نکال کر دوسری جیب میں ڈالنے کی واردات نہ صنعت کاروں کو سمجھ آئی نہ دکانداروں کو پسند آئی ہر چیز پر ٹیکس تو پہلے ہی لگ رہا تھا سر چارج بھی لگنے لگا فائلر اور نان فائلر کی تکرار کبھی ختم کردی جاتی تو کبھی شروع ہوجاتی ایک محترمہ وزیر میڈیا پر ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن کی داستان نئے انداز میں سناتیں حالا نکہ وہ اسی جماعت سے بھاگ کر پی ٹی آئی کی پناہ میں آئی تھیں۔ جن کو وہ کل تک اپنا لیڈر مانتی تھیں تو کسی نے عدلیہ پر بھی ہاتھ ڈال کر وکلاء کو بھڑکا دیا یہ محاذ ابھی ٹیمپو پکڑ رہا تھا کہ عمران خان نے بجٹ پر عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے میں مذہب کا ایسا لبادہ اوڑھا کہ جس کوسب نے سخت نا پسند کیا سب ٹیکس کو تو بھول گئے ،وزیر اعظم کی تقریر کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہو گئے اب پورا ملک عجیب انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ صرف 10مہینوں میں ایک درجن سے زیادہ محاذ کھل چکے ہیں ایک کھڑکی بند ہوتی ہے تو دو دروازوں سے پی ٹی آئی کے ناتجر بہ کار وزراء نکل کرمیڈیا پر برستے ہیں تو کبھی اسمبلیوںمیں حزب اختلاف کی زبانوںپر تالا ڈالنے کی سابقہ روایتوں کو بھی پیچھے چھوڑنے کا ریکارڈ توڑنے میں لگ جاتے ہیں کہ کسی طرح عوام کاد ھیان بجٹ سے ہٹ جائے اور وہ معرکہ مارلیں مگر اب ایسا ہونا تقریبا ناممکنات کی حدوں کو چھورہا ہے کسی وقت بھی عوا م سڑکوں پر نکل کر ’’تبدیلی‘‘ کا کام تمام کرنے کے در پے ہیں۔ ایک ایسا عملی مظاہرہ تو حال میں ہوا، وزیر اعظم عمران خان کے قافلے کو نتھیا گلی سے بپھرے ہوئے عوام نے گو عمران خان گو کا نعرہ لگا کر واپس لوٹا دیا، پورا عملہ اور بیورو کریسی، پولیس سب پسپاہوکر پیچھے ہٹ گئی اورتمام قافلے کی گاڑیاں جلدی جلدی میں واپس پلٹ گئیں اتنی جلدی تو کسی حکومت کی بھی بساط نہیں الٹی تھی جتنی جلدی پی ٹی آئی حکومت اور عمران خان کی ساکھ ہر طرف سے دائو پر لگ چکی ہے ۔اللہ خیر کرے یہ پہلا بجٹ پی ٹی آئی کی حکومت کو لے ڈوبے گا۔