آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا آرٹسٹک سفر شاندار اور میجسٹک تجربہ تھا، نصراعظم

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) برٹش پاکستانی آرٹسٹ نصر اعظم نے 25سال بعد اپنے پاکستان کے آرٹسٹک سفر کو انتہائی شاندار اور میجسٹک تجربہ قرار دیا۔ میں نے اپنی جڑوں سے دوبارہ تعلق جوڑنے کیلئے پاکستان کا دورہ کیا تاکہ اپنی تخلیق کیلئے انسپائریشن حاصل کی جا سکے۔ ساتھی گیلری میں اس کے ایبسٹریکٹ آرٹ اور لارج سکیل پینٹگز کی نمائش 10 روز تک جاری رہی۔ اس نمائش میں لوگوں نے بڑی تعداد میں دلچسپی لی، یہ نمائش ’’نصر اعظم: سیف الملوک‘‘ آرٹسٹ کے خوبصورت جھیل سیف الملوک کے دورے کا نتیجہ تھی یہ جھیل صوفی اور شاعر میاں محمد بخش کے حوالے سے مشہور ہے اور کشمیر کے پہاڑی سرحدی علاقے کے قریب پاکستان میں واقع ہے۔ ایک نظم میں ان کا یہی نام ہے اور ان کی نظم 90میں قوالیوں کی وجہ سے مقبول ہو ئی تھی، جو معروف قوال نصرت فتح علی خان نے قوالی کی شکل میں ڈھالی تھی اور اسے مغرب میں متعارف کروایا تھا۔ اعظم اس قوالی سے متاثر ہوا اور اس نے اگست 2018میں سیف الملوک کا دورہ کیا تھا، ان کے ساتھ برٹش انڈین کمپوزر سومک دتہ اور برٹش انڈین فوٹوگرافر اور فلم ساز سووید دتہ بھی تھے۔ ہرآرٹسٹ نے اس جھیل کے کناروں پر اپنا تخلیقی کام کیا۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نصر نے کہا کہ میرا دورہ پاکستان سیف الملوک پروجیکٹ کا حصہ تھا، میں 90کی دہائی کے اوائل میں

نصرت فتح علی خان کی سحر انگیز موسیقی سے متعارف ہوا اور صوفی شاعر میاں محمد بخش کی نظم کا ترجمہ کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ میں اس وقت زیادہ تر جاپان میں رہتا تھا، جب میں لندن آیا تو میں نے نظم کو تلاش کیا اور فوری اس سے گہرا تعلق پیدا ہوگیا۔ میاں محمد بخش جہلم میں پیدا ہوئے تھے اور میری پیدائش بھی اسی شہر کی ہے۔ اس نظم کی کہانی محبت، جدوجہد اور قربانی کی ہے ۔ اس میں مجھے اپنے والدین کی قربانیوں سے مماثلت دکھائی دی جو انہوں نے اپنے بچوں کی بہتر زندگی کیلئے انگلینڈ کے سفر میں دیں۔ 25 برسوں میں یہ میرا پہلا دورہ پاکستان تھا۔ نصر نے اوائل زندگی میں پینٹگ کا آغازکیا تھا اور کری ایٹیو جینز انہیں فیملی سے ورثے میں ملا تھا۔ انہوں نے انویسٹمنٹ بنکنگ میں کیریئر بنانے کیلئے 20 سال کیلئے پینٹنگ چھوڑ دی تھی۔ اس دوران انہیں سفر کے دوران مختلف ثقافتوں کو جاننے کا موقع ملا، انہوں نے 2008میں دوبارہ پینٹگ شروع کی۔ سیف الملوک پروجیکٹ ذاتی سفر سے زیادہ حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں مقامی پنجابی زیان کی وجہ سے نظم کو درست طور پر نہیں سمجھا گیا۔ اس کا ترجمہ کرنا آسان نہیں۔ ان کی شاعری دور حاضر سے مماثلت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں لندن میں اس نمائش کے ذریعے نئی جنریشن میں اس نظم کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا چاہتا ہوں۔ سال رواں کے آخر میں نصر اعظم کی لارج سکیل پینٹنگز کا نیا سیٹ منظر عام پر آئے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں