آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یہ کیسی سادگی اور کفایت شعاری اور کون سی بچت ہے کہ صدر، وزیر اعظم، گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب سب کے اخراجات میں نہ صرف موجودہ سال کے مختص بجٹ سے اضافہ ہوا بلکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مزید اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر عمران خان نے کہا تھا کہ نواز شریف اور ماضی کے دوسرے حکمرانوں نے بادشاہوں کی طرح اپنی عیاشیوں پر عوام کا پیسہ خرچ کیا۔ خان صاحب نے اعلان کیا تھا کہ کفایت شعاری اور بچت مہم کا آغاز وہ اپنی ذات سے کریں گے، وزیراعظم ہائوس میں نہیں رہیں گے اور پانچ سو ملازمین کی جگہ صرف دو ملازم رکھیں گے۔ اُنہوں نے وزیراعظم ہائوس کی بھینسوں کو بھی بیچ دیا اور گاڑیوں کو بھی نیلامی پر لگا دیا لیکن تحریک انصاف حکومت نے گزشتہ ہفتے جو بجٹ پیش کیا اُس کے مطابق موجودہ مالی سال میں وزیراعظم آفس نے مختص کردہ 98کروڑ 60لاکھ روپے کے بجٹ سے زیادہ یعنی 1.09ارب روپے خرچ کیے جبکہ آئندہ مالی سال 2019-20کے لیے اور زیادہ پیسے یعنی 1.17ارب روپے مانگ لیے ہیں۔ وزیراعظم صاحب نے اگر واقعی ہائوس ہولڈ ملازمین دو ہی رکھے ہیں اور سینکڑوں ملازمین جو ماضی کے حکمرانوں کے خدمت کے لیے رکھے گئے تھے، فارغ ہو چکے ہیں تو پھر بجٹ دستاویزات میں آئندہ سال کے لیے وزیراعظم کے ہائوس ہولڈ ملازمین کے لیے 7کروڑ 95لاکھ روپے کیوں رکھے گئے ہیں؟ کفایت شعاری مہم سے بجٹ میں کمی ہونی چاہئے ناکہ اضافہ ؟؟

صدرِ پاکستان کے سالانہ بجٹ میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ صدر عارف علوی تو کہتے تھے کہ وہ تو ایوانِ صدر کے بجائے پارلیمنٹ لاجز میں رہیں گے لیکن وہ بھی اپنا وعدہ وفا نہ کرسکے۔ اُن کے ہائوس ہولڈ ملازمین کا خرچہ تو وزیراعظم ہائوس سے بھی زیادہ ہے۔ بجٹ میںہائوس ہولڈ ملازمین کے لیے صدرِ مملکت نے 11کروڑ 50لاکھ روپے مانگ لیے ہیں۔ ایوانِ صدر کے لیے تو سی ڈی اے نے تقریباً 20لاکھ روپے کا طوطوں کے لیے پنجرہ بنانے کا ٹینڈر بھی جاری کر دیا تھا لیکن شکر ہے کہ سوشل میڈیا نے شور مچایا جس کے نتیجہ میں اس ٹینڈر کو منسوخ کر دیا گیا۔ ایوانِ صدر تو پہلے بھی ایک مشاعرہ پر لاکھوں روپے خرچ کرکے تنازعہ کا باعث بن چکا ہے۔

ایک خبر کے مطابق گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے اخراجات میں بھی نہ صرف موجودہ سال کے مختص بجٹ سے اضافہ ہوا بلکہ آئندہ سال کے لیے اخراجات میں مزید اضافہ مانگ لیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق وزیراعلیٰ کے گھر اور دفتر پر 61کے بجائے 78کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ گورنر ہائوس نے مختص بجٹ سے پونے 10کروڑ روپے اضافی خرچ کر ڈالے۔ آئندہ مالی سال کے لیے گورنر ہائوس کا بجٹ 40کروڑ سے بڑھا کر 49کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ عمران خان کے وسیم اکرم پلس وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے آفس، گھر اور پروٹوکول پر تقریباً 18کروڑ روپے اضافی خرچ ہوئے۔ وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر پر 14کروڑ 90لاکھ روپے اضافی خرچ کیے گئے۔

خرچوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے لیکن آمدن میں اس سال ریکارڈ کمی ہوئی۔ وہ وعدہ بھی وفا نہ ہواکہ جب ایماندار حکمران آئیں گے تو لوگ ٹیکس زیادہ دیں گے۔ ٹیکس میں ریکارڈ کمی کے علاوہ فارن انویسٹمنٹ بھی گزشتہ سال سے آدھی ہو چکی ہے۔ معاشی ترقی پہلے سے نصف سے بھی کم ہو گئی، بیروزگاری میں اضافہ ہوا، مہنگائی بھی گزشتہ حکومت کے آخری سال سے دوگنا ہو چکی۔ 30ہزار ارب روپے کے قرضے بڑھ کر 35ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے اور ڈالر کے مقابلہ میں روپیہ 157روپے تک گر چکا۔ معاشی اشاریے بہت مایوس کن ہیں اور ایسے میں ملک کے مشیرِ خزانہ کا پاکستان کے ڈیفالٹ کرنے کی بات کرنا اور جب ڈالر 157روپے تک پہنچ جائے تو اُن کا یہ کہنا کہ موجودہ صورتحال میں روپے کی قدر کو نہیں سنبھالا جا سکتا، پاکستان کی معیشت کے لیے بہت بُری خبر ہے۔نجانے خان صاحب جو ماضی میں ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی ذرا سی بھی کمی پر بہت ناراضی کا اظہار کرتے تھے، پاکستانی کرنسی کی اس گراوٹ پر کیوں خاموش ہیں۔مشیرِ خزانہ جو بات کر رہے ہیں، معاشی اشاریے جو بتا رہے ہیں، اُس کے برعکس وزیر اعظم خان کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا، معیشت مستحکم ہو چکی، کٹھن رستہ طے کر لیا۔ اللہ کرے ملک کسی بھی حالت میں دیوالیہ نہ ہو لیکن خان صاحب کی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ معیشت مستحکم ہو چکی۔ اس کے باوجود دعا ہے کہ جو خان صاحب کہہ رہے ہیں وہ سچ ثابت ہو۔ ابھی تک جو کہا گیا سب اُس کے الٹ ہو رہا ہے۔ معاشی بحران جس کا ملک کو سامنا ہے، مزید وعدوں اوربہانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس سے سنبھلنے کے لیے واضح معاشی اشاریوں کی ضرورت ہے جو ابھی تو گراوٹ کا ہی شکار ہیں۔ پاکستان کی معاشی حالت اتنی بُری ہو چکی ہے کہ اگر یہ آئندہ چند ماہ میں سنبھلتی نظر نہ آئی تو خان صاحب کی حکومت کے لیے اپوزیشن نہیں بلکہ معیشت سب سے بڑا خطرہ ہو گی۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)