آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے دونوں پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس ہیڈ کوارٹر گارڈن ساؤتھ میں ادا کردی گئی جس کے بعد میتیں تدفین کیلئے ان کے آبائی شہروں سانگڑھ اور لاڑکانہ روانہ کی جائیں گی۔

مومن آباد میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید کانسٹیبل اللہ دتہ اور احمدعلی کی نمازجنازہ کے موقع پر پولیس کے خصوصی دستے نے شہید اہلکاروں کے جسد خاکی کو سلام پیش کیا اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔

شہید اہلکاروں کی نمازجنازہ میں وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر مرتضی وہاب، صوبائی وزیرشبیر بجارانی، آئی جی سندھ، ڈاکٹر سید کلیم امام، ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ، ڈی آئی جی ویسٹ زون امین یوسفزئی ڈی آئی جی عامر فاروقی ،زونل ڈی آئی جیز، ضلعی ایس ایس پیز سمیت دیگر سینئر پولیس افسران، رینجرز سندھ انٹیلی جینس افسران، اہلکاروں اور شہید پولیس اہلکاروں کے ورثاء، دوست احباب اور اہلیان علاقہ نے بھی شرکت کی۔

کراچی، شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
کراچی،شہید اہلکاروں کی فائل فوٹو

ذرائع کے مطابق دونوں اہلکار چند ماہ سے مومن آباد تھانے میں تعینات تھے،شہید احمد علی قمبرسن 2008 میں پولیس بھرتی ہوا، اس کا تعلق شہداد کوٹ سے بتایا جاتا ہے اور اس نے سوگواران میں بیوہ 3 بیٹے اور ایک بیٹی کو چھوڑا ہے ، جبکہ دوسرے شہید اہلکار اللہ ڈنو نے سن 2009 میں سندھ پولیس میں شمولیت اختیار کی ، اس کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔

آئی جی سندھ نے شہیداہلکاروں کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ورثاء سے دلی ہمدردی اور تعزیت کااظہار کیا، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعہ میں ملوث دہشت گردجلد قانون کی گرفت میں ہونگے ۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس طرح کے واقعات سے پولیس کے حوصلوں کو ہرگز پست نہیں کیا جاسکتا، جرائم کےخلاف پولیس اپنی کاروائیاں جاری رکھے گی اورعوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریگی۔

اس موقع پرانہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کےورثاء کے لیے محکمہ پولیس سندھ کی جانب سے مروجہ مراعات کااعلان کیا اور موقع پر موجود سینئر پولیس افسران کو تمام تر ضروری قانونی دستاویزی امور جلد سے جلد مکمل کرنے کے احکامات دیئے۔

اس سے قبل پولیس ہیڈکوارٹر گارڈن میں دونوں شہید پولیس اہلکاروں کی میتیوں کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

واضح رہے کہ سندھ ریزرو پولیس میں تعینات کانسٹیبل اللہ دتہ اور احمد علی کو آج صبح پولیس ٹریننگ سینٹر سعید آباد میں رہائشی کمپلیکس سے ڈیوٹی کیلئے مومن آباد تھانہ جاتے ہوئے اورنگی ٹاون نمبر 4 میں نوری چوک پر نشانہ بنایا گیا۔

وقوعہ کے وقت دونوں اہلکار پولیس کی وردی میں نہیں بلکہ سادہ کپڑوں میں ایک ہی موٹر سائیکل پر سوار تھے، جبکہ عینی شاہدین کے مطابق نوری چوک پر اسپیڈ بریکر کی وجہ سے ان کی موٹر سائیکل آہستہ ہوئی تو موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان نے نائن ایم ایم پستول سے دونوں پولیس جوانوں پر فائرنگ کی۔

اس موقع پر دونوں اہلکاروںکو شدید زخمی حالت میں ایک پولیس موبائل میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

بعد ازاں ان کی میتوں کو پوسٹمارٹم کے بعد سرد خانہ لے جایا گیا اور غسل و کفن کے بعد میتیں گارڈن پولیس ہیڈکوارٹر منتقل کی گئیں۔


Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں