آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صرف ہماری زبان نہیں ہوتی۔ سب کی، ہر چیز کی ایک زبان ہوتی ہے، ذرا رکیے۔ ایک چھوٹی سی گزارش ضروری بلکہ لازمی سمجھتا ہوں۔ میں آپ کو الجھن میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ زبان سے میری مرادTongue نہیں ہے جسے ہم اردو میں کہتے ہیں، ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔ زبان سے میری مراد ہے بولی یعنی Languageہے۔ ہم سب کی ایک زبان ہوتی ہے۔ جب سے میں نے سنا ہے کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، تب سے میں بضد ہوں کہ دیواروں کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ گھوڑوں کے ہنہنانے کو آپ گھوڑوں کی زبان کہہ سکتے ہیں، چڑیوں کے چہچہانے کو آپ چڑیوں کی زبان کہہ سکتے ہیں۔ شیر خواہ مخواہ نہیں دھاڑتے، شیروں کا دھاڑنا شیروں کی زبان ہوتی ہے۔ اگر کسی کی زبان ہماری سمجھ میں نہ آئے تو اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ وہ زبان نہیں ہوتی۔ کوئل کی کوک کا مفہوم اگر ہماری سمجھ میں نہیں آتا، تو اس کا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ کوئل کی کوک کوئل کی زبان نہیں ہوتی۔ افریقی طوطے ہم آدمیوں کی زبان اس طرح بولتے ہیں جیسے ان کی مادری زبان ہوتی ہے۔ عین اسی طرح کھیلوں کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے مگر وہ زبان کھیل آپس میں نہیں بولتے۔ لوگ ان کی زبان بولتے ہیں اور کھیل خود خاموش رہتے ہیں۔ آج ہم کرکٹ کی زبان سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ کرکٹ کی زبان کے الفاظ ہماری لغت کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک لفظ ہے بلا یعنیBat اور دوسرا لفظ ہے گیند یعنیBall۔ ان دو الفاظ کو چھوڑ کر کرکٹ کی زبان کے کسی ایک لفظ کا نعم البدل ہمیں اپنی لغت میں نہیں ملتا۔ انگلش ڈکشنری میں کرکٹ کی زبان کے تمام الفاظ کے معنی اور مطلب وضاحت کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کرکٹ مکمل طور پر انگریزوں کا کھیل ہے۔ اس لحاظ سے ہاکی، فٹبال، ٹینس، بیڈمنٹن، اسکواش، باکسنگ وغیرہ بھی انگریزی کھیل ہیں۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک مولوی صاحب کا مختصر خطاب زیر گردش ہوا تھا۔ وہ فرما رہے تھے کہ کرکٹ کافروں کا کھیل ہے۔ کافروں کا کھیل کھیلنے سے ایک دیندار آدمی کافر بن جاتا ہے۔ مولوی صاحب کا خطاب سن کر اور ان کا غصہ دیکھ کر مجھے کرکٹ کی تاریخ میں مایہ ناز مسلمان کھلاڑی یاد آئے جو اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے باوجود لیجنڈ ہیں، امر ہیں، مثلاً آف اسپنر غلام محمد، اپنے دور کے دنیا میں تیز ترین بالر محمد نثار حسین، چھکے اور چوکے لگانے والے بیٹس مین مشتاق علی، منصور علی خان پٹودی، وکٹ کیپر ماسٹر عبدالعزیز جنہوں نے پاکستان آنے کے بعد حنیف محمد کی کوچنگ کی تھی اور ان کے بیٹے سلیم درانی ہندوستان کی ٹیسٹ ٹیم میں اوپننگ بیٹس مین کے طور پر کھیلے اور ان کی بیٹی، میں ان کا نام بھول رہا ہوں، ہندوستان کی ٹینس چیمپئن تھیں۔ جس طرح ثانیہ مرزا ہیں۔ حنیف محمد، امتیاز احمد، خان محمود، فضل محمود، مقصود احمد کرکٹ کے لیجنڈ کھلاڑی ہیں اور وہ سب مسلمان تھے۔ موجودہ دور کےلیجنڈ کھلاڑی جو ابھی حیات ہیں، ماجد خان، ظہیر عباس، جاوید میانداد، عبدالقادر، عمران خان، وسیم باری، وسیم اکرم، وقار یونس اور موجودہ ٹیم کے تمام کے تمام کھلاڑی مسلمان ہیں۔ طیش میں آئے ہوئے مولوی صاحب نے وہ فیصلہ سنا دیا جو رب تعالیٰ کو سنانا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں انگلینڈ کے کھلاڑی معین علی اور راشد، سائوتھ افریقہ کے طاہر اور آسٹریلیا کے عثمان خواجہ کا کیا بنے گا!!!

مولوی صاحب کا قصہ نہ جانے کہاں سے اور کیسے ہمارے درمیان آگیا۔ آئیے ہم کرکٹ کی زبان سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے ہم فیلڈنگ کی زبان سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعد میں ہم بیٹنگ کی بات کریں گے۔ بالر کو ہم گیند باز نہیں کہتے۔ کوششوں کے باوجود لفظ گیند باز مروج نہ ہوسکا۔ حالانکہ بیٹس مین کے لئے لفظ بلے باز مروج ہوچکا ہے اور عام طور پر بولا جاتا ہے۔ اب آپ یہ جملہ سنیے اور غور کیجئے۔ ’’بلے باز نے زوردار شاٹ لگایا اور گیند گلی میں کھڑے ہوئے فیلڈر نے جھپٹ لی‘‘۔ اس جملے میں کرکٹ کی زبان کے تین لفظوں پر توجہ دیجئے۔ ایک شاٹ اور دوسرا گلی اور تیسرا فیلڈر۔ ان تینوں لفظوں کے نعم البدل الفاظ ہماری لغت میں نہیں ہیں۔ شاٹ سے مراد ہے بلے سے گیند کی ٹھکائی کرنا۔ گلی سے مراد وہ گلی نہیں ہے، جہاں آپ اور میں رہتے ہیں۔ اور اس گلی سے ہمارا آنا جانا لگا رہتا ہے ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں مگر بات نہیں کرتے۔ فیلڈنگ کے لفظ کا بھی ہمارے پاس نعم البدل نہیں ہے۔ کرکٹ میچ میں یا تو آپ بیٹنگ کررہے ہوتے ہیں یا پھر فیلڈنگ کررہے ہوتے ہیں۔ فیلڈنگ کے دوران کھلاڑی میدان میں مختلف جگہوں پر کھڑے رہتے ہیں اور بیٹس مین جب گیند کی ٹھکائی کرتا ہے تب یہ کھلاڑی گیند کو میدان سے باہر جانے نہیں دیتے۔ گیند اگر لڑھکتے ہوئے میدان کی حد سے گزر جائے اسے بائونڈری کہتے ہیں۔ اور بائونڈری جسے ہم اپنی زبان میں چوکا کہتے ہیں اور جو گیند بلے باز کے بلے سے زوردار ٹھکائی کے بعد ہوا سے ہوتے ہوئے بائونڈری یعنی میدان کی حد سے باہر نکل جائے اس کو چھکا کہتے ہیں۔ اس کی ایک HITٹھکائی سے بلے باز کو اور اس کی ٹیم کو چھ رنز ملتے ہیں۔ لفظ ٹیم کا کوئی مناسب متبادل ہمیں اپنے ہاں نہیں ملتا۔ میں اپنے طور پر لفظ ٹیم کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ شاید یہ کاوش آپ کی سمجھ میں آجائے۔ جب دس کھلاڑی گیارہویں کھلاڑی کے ماتحت کھیلتے ہیں تب وہ ٹیم کہلانے میں آتی ہے۔ اگر دوچار سر پھرے کھلاڑی من مانی کرنے لگیں تو پھر ٹیم میں پھوٹ پڑ سکتی ہے۔ ایسے میں کمزور کپتان استعفیٰ دیکر بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ مضبوط اعصاب کا کپتان بھاگنے کے بجائے سر پھرے کھلاڑیوں کو کان سے پکڑ کر ٹیم سے باہر کرتا ہے۔ وہ کسی کھلاڑی کو ٹیم میں بدنظمی کرنے نہیں دیتا۔ ذہین کپتان جانتا ہے کہ نظم و ضبط کے بغیر آپ میچ نہیں جیت سکتے۔

کرکٹ کی زبان کے دیگر الفاظ اور محاوروں کو ہم اگلے ہفتہ سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں