آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پشاور کی BRT کو شروع ابھی صرف ڈیڑھ سال ہوئے ہیں۔ لیکن اس کی تکمیل نہ ہونے پہ تمام میڈیا آئے دن صوبائی اور وفاقی حکومت کو لتاڑتارہتا ہے۔ حکومت کی ناکامیوں میں اس کا بھی شمار کیا جاتا ہے۔ پشاور وہ شہر ہے جس کی آبادی کروڑ سے کم ہے لیکن پھر بھی وہاںماس ٹرانزٹ کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے حکومت نے کام شروع کیا ہوا ہے جو شاید کچھ ماہ میں مکمل بھی ہوجائے ۔ لیکن افسوس دو کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل شہر کراچی جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے نام پر چنگچی رکشوں اور Uber ,careemکے کچھ نہیں۔ کیا اتنی بڑی آبادی کے شہر میں ٹرانسپورٹ اسی طرح فراہم کی جاتی ہے؟ جہاں باقاعدہ طور پر " ٹرانسپورٹ کی وزارت" اور کئی " ذیلی ادارے" موجود ہوں۔ لیکن پھر بھی پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی وجود نہیں۔ چار سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا" گرین بس لائن" کوشروع ہوئے 2017 میں مکمل ہونا تھا پھر 2018 کی ڈیڈ لائن آئی اور اب 2019 بھی آدھا گذرگیا۔ اربوں روپے خرچ کرکے " راہداری" بنادی گئی ہے ۔ لیکن اب بھی بہت سارا کام باقی ہے۔ خاص طور پر " بسوں کا چلنا" مگر ابھی تک اس مسئلے پر کوئی آواز اٹھائی نہیں جارہی ۔ کسی میڈیا میں گرین بس لائن پہ آواز نہیں اٹھائی جارہی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پشاور میٹرو کو اتنی اہمیت حاصل ہے، لیکن کراچی گرین بس لائن کی کوئی اہمیت نہیں، کیا یہاں یہ بھی مسئلہ صرف " بغض معاویہ ـ" ہی ہے؟کہ چونکہ صرف وفاقی حکومت پہ تنقید ہی حاصل میڈیا ہے تو الگ بات۔ لیکن کبھی " حب کراچی" میںکچھ ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ جس شہر کے رہنے والے بڑے بڑے حکومتی عہدوں پر فائز ہوں پھر بھی شہر کا کوئی پرسان حال نہ ہو تو کیا جاسکتا ہے؟ اسی بے توجہی کا نتیجہ ہے کہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کااستعمال بنیادی ضرورت بن چکا ہے اور سڑکوں پہ ان کا ہجوم ٹریفک جام کا ذریعہ ہے یوں گھنٹوں گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ جس کی بدولت لوگوں کے مزاج میں بھی برہمی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ دوسری طرف آبادی کے زیادہ ہونے کی وجہ سے شاپنگ مالز بغیر کسی پارکنگ سہولت کے بنتے چلے جارہے ہیں۔ جہاں سارا وقت آدھی سڑک پارکنگ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یوں یہ بھی ٹریفک جام کا ذریعہ بنتے ہیں۔ شہر میں موٹرسائیکلوں کی بڑھتی ہوئی مانگ اور استعمال کی بدولت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اسی خلاف ورزی کے بدولت موٹرسائیکل سواروں کے ایکسیڈنٹ کاشرح تناسب بڑھتا چلاجارہا ہے۔ آپ کسی بھی ہسپتال کی ایمرجنسی میں چلے جائیں توزیادہ موٹرسائیکل کے ایکسیڈنٹ کے کیسز میں لوگ زخمی نظرآئیں گے۔ یوں اب اندازہ کریں کہ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے موٹرسائیکلوں کا استعمال بڑھنے کی وجہ سے ایکسیڈنٹ کا تناسب بڑھنا اور پھر اس کی وجہ سے ہڈیوں کا ٹوٹنا اور معذوری کاہونا ۔ کیا فلاحی ریاست یہ سب کچھ برداشت کرسکتی ہے؟ ریاست جس کا کام "پدرانہ کردار" (Paternal role) ادا کرنا بھی ہے کہ جہاں عوام غلط چیزوں (Demerit goods) کا استعمال کرتے ہوں تو ریاست کو آگے آکر انہیں روکناچاہیئے اور (Merit goods) کا استعمال کروانا چاہیئے ۔لیکن یہ سب باتیں مغربی ممالک کی ریاستوں کے لیے ہیں۔ ہماری ریاست کو اس سے کیا غرض؟ برائے مہربانی ابھی ایک کروڑ نوکری اور پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے کو روک کر سوفیصدبجلی کی پیداوار، سوفیصد گیس کی پیداوار، سڑکوں کا جال، سوفیصد لوگوں کے لیے پینے کا صاف پانی، قانون کی مکمل عملداری، سوفیصد شرح خواندگی اور ہر چھوٹے بڑے علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنےپرتوجہ دے دیں! یہی اپنے اگلے چار سال کا ٹارگٹ رکھ لیں۔ کوئی شک نہیں کہ پھر آپ کو کسی سے قرضے کی بھیک لینی ہوگی نہ ہی نوکری مہیا کرنی ہوگی نہ ہی گھر۔ لیکن ان سب کے لیے "Political will"کی ضرورت ہے۔ جس کا یقیناً فقدان ہے۔

[email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں