آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

10سال میں قرضوں میں 24ہزار ارب کا اضافہ سفید جھوٹ ہے‘ اسحاق ڈار

اسلام آباد (حنیف خالد) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 10سال میں قرضوں میں 24ہزار ارب روپے کے اضافہ کو سفید جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) حکومت نے لئے گئے قرضوں سے 18گھنٹوں کی بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل کئے جانے والے ایک وڈیو بیان میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے اثاثوں کی معلومات کا معاہدہ انہوں نے کیا مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کیا پی ٹی آئی اس کا کریڈٹ نہ لے،عمران خان نیازی صاحب نے پھر قوم سے اپنی روایت کے مطابق کچھ غلط بیانیاں اور جھوٹ بولے ہیں، میں سمجھتا ہوں اُن کوکلیئر کرنا بہت ضروری ہے‘ اسی لئے میں فوری اپنا ردعمل دے رہا ہوں، انہوں نے کہا کہ پچھلے 10سال میں قرضے 6ہزار سے 30ہزار ارب پر چلے گئے۔ یعنی 24ہزار ارب روپے کے قرضوں کا پچھلے دس سال میں اضافہ ہوا۔ یہ ٹوٹل جھوٹ ہے۔ 30جون 2018ء کو جو مجموعی قرضے تھے، پبلک ڈیٹ جسے کہتے ہیں‘ وہ 24ہزار 952ارب تھا، اس کیخلاف 1901ارب کیش خزانے میں

موجود تھا۔ فیڈرل گورنمنٹ کا یعنی بیلنس پڑا ہوا تھا۔ تو نیٹ قرضے جو تھے وہ 23ہزار 51ارب روپے تھے۔ 6ہزار اور اگر 23ہزار کا فرق دیکھیں تو تقریباً 17ہزار ارب کا اس میں اضافہ ہوا دس سال میں۔ تو یہ آپ کا سب سے پہلا جھوٹ ہےاور یہ 24ہزار 952کا جو فگر ہے تو یہ آپ کو حال ہی میں پچھلے چند ہفتوں میں حکومت نے جو پارلیمان میں اپنا خود نمبر دیا ہے ایک‘ دوسرا حکومت خود وہ فگر پبلک کرے جو انہوں نے عالمی اداروں کو دیئے ہیں۔ اس میں بھی یہی فگر ہے‘ 2بلین کا فرق ہے‘ غالباً 24ہزار 949ارب لکھا ہے 952کی جگہ پہ۔ تو یہ پتہ نہیں کیوں قوم کو جھوٹ بولتے ہیں۔ چلیں ہم آتے ہیں کہ 17ہزار ارب جو ہے قرضہ بڑھا‘ 24ہزار نہیں بڑھا‘ 7ہزار کی exaggerationہے‘ اس 17ہزار ارب میں سے تقریباً 8ہزار ارب کا پیپلز پارٹی کے زمانے میں بڑھا‘ 2008-2013ء میں‘ اور باقی جو 9ہزار کے قریب قرضہ ہے وہ  مسلم لیگ (ن) کے پانچ سال میں بڑھا جو 2013-2018ء کا ہے۔ اس میں ایک مہینہ کیئر ٹیکر کا شامل ہے‘ اگر اسے اگنور کر دیتے ہیں تو بیسکلی یہ نمبر غلط ہیں اور یہ نمبر جو ہیں سرٹیفائیڈ نمبر ہیں اسٹیٹ بینک کی ویپ سائٹ پر موجود ہیں عالمی اداروں کو نمبر انہوں نے دیئے ہیں اور پارلیمنٹ میں بھی پچھلے چند ہفتوں میں انہوں نے دیئے ہیں۔ خدا کا خوف کریں اتنا جھوٹ نہ بولیں کہ آپ کو شرمندگی ہو‘ شرمندگی تو خیر آپ کو ہوتی نہیں۔ دوسری بات یہ ہے  کہ کیا پاکستان میں 18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہیں ہوا کیا وہ مفت ہو جاتا کیا، کیا پاکستان میں کوئٹہ گوادر کو جو ملایا گیا اور جو اس کا سفر 72گھنٹے کا 12گھنٹے میں ریڈیوس کیا گیا تو کیا وہ ہائی ویز مفت بنتا۔ کیا لاہور سے کراچی موٹر وے، انفراسٹرکچر کے پروجیکٹ اور پاکستان میں ترقی کے پراجیکٹس کا جال بجھانا اور 3سو ارب سے قریباً ایک ہزار ارب تک پاکستان کی فیڈرل جو ڈیویلپمنٹ یعنی انوسٹمنٹ آئی ہے‘ ڈیویلپمنٹ خرچہ ہے پی ایس ڈی پی تو یہ 9ہزار ارب کا جو قرضہ ہے وہ جسٹیفائیڈ ہے۔ آپ نے بہت بڑی غلط بیانی کی ،دوسرا آپ نے یہ نہیں بتایا ،اسکے بدلے میں قوم کو کون سے ایسٹس ملے۔ تیسرا جو قرضہ ہے وہ جی ڈی پی کے پرسنٹیج سے دیکھا جاتا ہے ساری دنیا میں ہے‘ پاکستان کا جب ہم آئے تھے تو 60پوائنٹ فور کے قریب تھا اور جب ہمارے چار سال پورے ہوئے اور اس ملک میں ایک یعنی پولیٹسائز کیا گیا اور تھینکس ٹو آپ کے دھرنے اور آپ کی 2014ء سے آن ورڈ آپ کی جو ملک کیخلاف کارکردگیاں تھیں اس کے حوالے سے آپ نے دیکھا کہ یہ جو پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تھا وہ اسکے باوجود 60پوائنٹ سکس تھا اور اس میں ضرب عضب کی بہت بڑی انوسٹمنٹ شامل تھی،ڈیفنس کیلئے اپنے بجٹ کو پانچ سال میں دوگنا کیا‘ 550سے 1100ارب پر لے کر گئے۔آپ حقائق لوگوں کو نہیں بتاتے۔ اور دوسرا آپ نے جو جھوٹا کلیم کیا کہ ہم نے انفارمیشن اکٹھی کرنے کے معاہدے کر لئے ہیں اور ہمارے پاس لوگوں کی پراپرٹی اور بینک اکائونٹس کی ڈیٹیل آ گئی ہے تو نیازی صاحب کچھ خدا کا خوف کریں‘ تین میجر چینل نے آپ کو ایکسپوز کیا ہے،ستمبر 2016ء میں مسلم لیگ (ن) حکومت کی کئی سال کی تین سال کی ایفرٹس کے بعد یہ معاہدے سائن کئے‘ میں نے یہ معاہدے سائن کئے، یہ معاہدے 14نومبر 2016ء کو ہوئے اگر ایگزیکٹ ڈیٹ چاہئے تو اور اسکے نتیجے میں اسکے بعد ہم نے خود کہا کہ پہلے رائونڈ میں جو انفارمیشن ایکسچیج ہو گی ان معاہدوں کے تحت ہم وہ ہم اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ کیونکہ یہ ملٹی لیٹرل معاہدہ او آی سی ڈی کا تو بہت پرانا ہے۔ تو ہم نے جوائن کیا کسی کو توفیق نہیں ہوئی پچھلے ستر سال میں تو ہم نے اپنی کیبنٹ سے اپروول لی‘ وزیراعظم کی آشیرباد سے ایفرٹ شروع کی اور پاکستان کو اس کا ممبر بنایا ستمبر 2016ء میں اور پھر یہ کہا کہ ہم پہلے رائونڈ میں آنا چاہتے ہیں تو یہ پہلے رائونڈ کی انفارمیشن کب ساری دنیا میں جو بھی ممبرز نے اوپٹ کیا۔ اگلی بات جو آپ نے کی کہ اسکے نتیجے میں 2ہزار ارب ڈیٹ سروسنگ ہے چلو مان لیتے ہیں کہ ڈیٹ سروسنگ ہے جیسے کہ میں نے عرض کیا کہ یہ تمام ترقیاتی منصوبے‘ یہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ‘ یہ گیس کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ‘ یہ موٹر ویز یہ ہائی ویز یہ ڈیویلپمنٹ یہ سارا ایکسپینڈیچر ‘ اسکے باوجود اگر 2ہزار ارب روپے کا ڈیٹ سروسنگ ہے جو کہ جسٹیفائیڈ ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ سکیورٹی اور ڈیفنس کے بھی بے پناہ اخراجات ہیں‘ تو اس میں کس حکومت نے پاکستان کے یعنی ٹیکس کولیکشن میں 2ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں