آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (نیوز ڈیسک) خشک سالی، قحط اور بڑھتے صحرائوں کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے اسرائیل نے بھارت کو مدد کی پیشکش کی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ہر شہری تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے، آبی ذخائر میں جدت لانے اور پانی کے انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے انتخابات میں اس مقصد کیلئے ایک مخصوص ’’جل شکتی‘‘ وزارت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ 2024ء تک بھارت کے ہر گائوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہوگا۔ وزارت قائم ہونے کے بعد اسے یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ گھریلو اور زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی مرتب کی جائے۔ اس سلسلے میں حکومت آبپاشی اور زرعی شعبے میں اصلاحات لانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ اسرائیل پہلے ہی بھارت کو ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کو آپریشن (ایم اے ایس ایچ اے وی) کے تحت آبپاشی کی ٹیکنالوجی فراہم کر چکا ہے۔ اب اسرائیلی حکومت نے بھارت کو پانی کی قلت سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اسرائیل میں صرف 20 فیصد زمین ہی کاشت

کے قابل ہے لیکن حکومتی اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اسرائیل صحرائوں میں بھی فصلیں اگانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اب وہ اپنے تجربات کے ذریعے بھارت کی مدد کا ارادہ رکھتا ہے۔ بھارت میں متعین اسرائیلی سفیر رون مالکا کا کہنا ہے کہ اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہشمند ہے اور ہم اپنے تمام تر تجربات اور جدید ٹیکنالوجی دوستوں کے سا تھ شیئر کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ بڑھتے صحرائوں اور بنجر زمینوں کے مسئلے سے نمٹا جا سکے، اس میں واٹر مینجمنٹ اور آبی تحفظ کی اسٹریٹجک شراکت داری بھی شامل ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں