آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ کپ کر کٹ ٹور نامنٹ میں پاکستان نے روایتی حریف بھارت کے خلاف ناکامی کی روایت کو برقرار رکھا،بارش سے متاثرہ میچ میں ڈک ورتھ لوئیس سسٹم کے تحت پاکستان کو89رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، ٹاس جیت کر فیلڈنگ، شعیب ملک کی شمولیت، حارث سہیل اور محمد حسنین کو نہ کھلانے جیسے فیصلے ہمیں مہنگے پڑ گئے۔ پاک بھارت حالات ،تنائو اور خاص کر موجودہ جنگی ماحول میں اس میچ کی اہمیت اور سنسنی خیزی عام حالات سے بڑھ کر تھی ، کرکٹ شائقین کی بے قراری دونوں ممالک کے ساتھ اس روز پوری دنیا میں دیکھی گئی،رواں ایونٹ کے 4میچزبارش کی نذر ہوچکے تھے،پاک بھارت میچ پر بھی بارش کے برسنے کے امکانات زیادہ تھے مگر تھوڑی بارش سے میچ متاثر نہیں ہوا، پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کی وہ یہ فیصلہ آسٹریلیا کے خلاف بھی کرچکے تھے جو ناکام رہا تھا،بھارت کے خلاف 337 رنز بننے کے بعد ان پر خاصی تنقید ہوئی اور اس میں اضافہ اسلئے بھی ہوا کہ ملک کے وزیر اعظم عمران خان نے میچ سے قبل ٹویٹ کرکے ٹاس جیتنے کی صورت میں پہلے بیٹنگ کا کہا تھا ممکن ہے کہ گرائونڈ ،موسم اور وکٹ کی کنڈیشن نے سرفرازکو اس فیصلے پر مجبور کیا ہو ، پاکستان میگا ایونٹ کے 6میچز میں ایک بھی نہ جیت سکا5 ٹاس جیت کر بھارت نے پہلے بیٹنگ کی ،ایک ٹاس جیت کر پاکستان پہلے کھیلا مگر پاکستان کے لئے نتیجہ نہ بدلا ،روہت شرما کا رن آئوٹ بلکہ 2 رن آئوٹ چھوڑنے کے بعد انکا 140 رنز کی شکل میں خمیازہ بھگتنا ہی پڑنا تھا کہ وہ ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں ،پاکستانی بولرز نے لائن و لینتھ درست نہیں پکڑی یہ اسکور کم ہوسکتے تھے ۔ 337 کا ہدف بڑا اور مشکل ہوتا ہے ۔ محمد عامر کی آسٹریلیا کےخلاف 5 اور بھارت کے خلاف 3وکٹیں اس وقت اہم بنتی ہیں جب ٹیم بھی جیتے ۔ جوابی اننگ میں پاکستانی کھلاڑی دبائو میں رہے، رہی سہی کسر تجربے کار کھلاڑیوںشعیب ملک اور محمد حفیظ نے پوری کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ وہ ایونٹ کھیلنے کے اہل نہ تھے، اس میچ سے قبل تک ورلڈ کپ میں 4 مارچ 1992 کو سڈنی میں 43 رنز، 9 مارچ 1996کو بنگلور میں 39 رنز، 8 جون 1999 کو مانچسٹر میں 47 رنز، یکم مارچ 2003 کو سنچورین میں 6 وکٹ، 30 مارچ 2011 کو موہالی میں 29 رنز اور 15 فروری 2015 کو ایڈیلیڈ میں پاکستان 76 رنز سے ہارا۔ اسی طرح انگلش سرزمین پر دونوں ٹیموں کا واحد مقابلہ اتفاق سے مانچسٹر میں ہی ہوا تھا جہاں اس مرتبہ ہوا ہے ۔ رواں ہفتے ٹیموں کے میچز کچھ زیادہ بڑے نہیں ہیں مگر کسی ایک کمزور ٹیم نے اپ سیٹ کردیا تو سب کے لئے مسئلہ ہوگا،پوائنٹس ٹیبل پر صورتحال خاصی دلچسپ ہے آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں ٹاپ ون کے لئے کشمکش جاری ہے مگر میزبان انگلش ٹیم کے آخر میں اوپر آنے کے امکانات ہونگے، پاکستان کو باقی ماندہ 4 میچز جیتنے ضروری ہونگے اور پھر اسکے بعد اسکے لئے دیگر ٹیموں کے نتائج اہمیت اختیار کر جائیں گے گرین شرٹس کا اگلامیچ جنوبی افریقا سے اگلے اتوار کو لارڈز میں ہے ورلڈ کپ میں پروٹیز کا یہ 7 واں جبکہ پاکستان کا چھٹا میچ ہو گا، اس مقام پر گویا جنوبی افریقا کے پاس ٹرپ کا ایک پتہ کم ہو چکا ہو گا۔ پاکستان کے باقی ماندہ میچ نیوزی لینڈ، افغانستان اور بنگلہ دیش کے خلاف ہوں گے جو مجموعی طور پر آسان ہیں جبکہ جنوبی افریقا کو اس کے بعد سری لنکا اور آسٹریلیا کا سامنا کرنا ہو گا، اتفاق یہ بھی ہو گا کہ لندن کے ایک مقام اوول سے دوسرے مرکز ہوم آف کرکٹ لارڈز کے تاریخی مقام پر میچ منتقل ہونگے اور پاکستان کو یہ اعزاز ملے گا کہ تاریخی مقام کا پہلا میچ پاکستان کھیلے گا ۔ اوول کے تمام میچ ختم ہو چکے ہیں، پاکستان اور جنوبی افریقا ، بڑا میچ اور بڑا شو ہو گا۔ چند ماہ قبل قومی ٹیم ان کے دیس میں 5 میچوں کی سیریز سخت مقابلے کے بعد 3-2 سے ہاری ہے۔ مجموعی مقابلوں میں پاکستان کا ریکارڈ خاصا خراب ہے۔ 78 میچوں میں سے صرف 27 جیتے اور نصف سنچری یعنی 50 ہارے ہیں، باہمی ون ڈے سیریز کی ٹرافی پاکستان کے لئے ہمیشہ خواب ہی رہی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ بھی مایوس کن مگر دلچسپ ہے۔ گذشتہ ورلڈ کپ سے قبل تک پاکستان پروٹیز کا قلعہ ورلڈ کپ میں کبھی بھی فتح نہ کر سکاتھا ۔ 2015 کے ایونٹ کے آک لینڈ کے لو سکورنگ شو میں پاکستان 29 رنز سے جیتا تھا، نامساعد حالات میں موجود کپتان سرفراز احمد کا اسی میچ میں عمدہ کم بیک تھا۔ 1992 سے 1999 تک مسلسل 3 ورلڈ کپ میں پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف ناکام رہا۔ 2003 سے 2011 تک 3 ورلڈ کپ میں ان کا آمنا سامنا نہیں ہوا۔ 8 مارچ 1992 کو پاکستان آسٹریلیا کے شہر برسبین میں بارش سے متاثرہ میچ میں 20 رنز سے ہارا۔ 29 فروری 1996 کو کراچی میں 5 وکٹ اور 5 جون 1999 کو ناٹنگھم میں قومی ٹیم کو 3 وکٹ کی شکست ہوئی۔ ورلڈ کپ میں ان دونوں ٹیموں کے میچوں میں کوئی ٹیم 250 سے زائد اسکور نہ بنا سکی۔ پاکستان کا ہائی اسکور 242 اور جنوبی افریقا کا 243 رہا۔ اس کے مقابلے میں کم اسکور میں پاکستان 222 سے آگے جبکہ جنوبی افریقا 202 سے پیچھے رہا ہے۔ ٹاس کے حوالہ سے انگلش سرزمین پر تو ورلڈ کپ کا واحد میچ جنوبی افریقا کے نام ہے تاہم مجموعی طور پر اس دیس میں دونوں ممالک میں 3 مرتبہ ٹاکرا ہوا ہے۔ جنوبی افریقا نے 2 میں فتح حاصل کی مگر پاکستان کی واحد کامیابی اس لئے تاریخی و اہم رہی ہے کہ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نے اس کے خلاف اہم میچ جیتا اور پھر چیمپئن بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ 10 باہمی میچوں میں پروٹیز کو 6-4 سے برتری حاصل ہے ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں