آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مِصر سے ہجرت اور فرعون کا غرق ہونا

فرعون کا تکبّر، غیظ و غضب اور ظلم و ستم اپنی انتہا کو پہنچ چُکا تھا۔ وہ اور اُس کے حواری، حضرت موسیٰؑ اور اُن کے ساتھیوں کے خون کے پیاسے تھے، ایسے میں اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو ہجرت کا حکم فرمایا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے’’اور ہم نے موسیٰ ؑ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو، پھر اُن کے لیے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک راستہ بنا دو۔ پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آ پکڑنے کا خوف ہو گا، اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر۔‘‘ (سورۂ طٰہٰ 77)حضرت موسیٰؑ شروع رات میں بنی اسرائیل کو لے کر مِصر سے دریائے قلزم( بحیرۂ احمر) کی طرف نکلے۔ علّامہ طبریؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کے ساتھ چھے لاکھ، تیس ہزار سوار اور بیس ہزار پیادے تھے۔ اس کے علاوہ عورتیں، لڑکیاں اور بچّے بھی تھے۔ حضرت موسیٰؑ 9محرّم کو ہفتے کے دن غروبِ آفتاب کے بعد مِصر سے روانہ ہوئے۔ فرعون کو آپؑ کے نکلنے کی خبر صبح کو ہوئی۔ اُس نے فوری طور پر سات لاکھ سے زاید سواروں کے ساتھ اُن کا پیچھا کیا۔ جب بنی اسرائیل نے اپنے پیچھے فرعون کے فوجی سیلاب کو اور آگے بپھری موجوں کو دیکھا، تو گھبرا اُٹھے۔ قرآنِ کریم میں ہے’’تو موسیٰ ؑکے ساتھیوں نے کہا،’’ ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے۔‘‘ موسیٰؑ نے کہا ’’ہرگز نہیں، یقین مانو میرا ربّ میرے ساتھ ہے، جو ضرور مجھے راہ دِکھائے گا۔‘‘ ہم نے موسیٰ ؑکی طرف وحی بھیجی کہ’’ دریا پر اپنی لاٹھی مارو۔‘‘ (سورۃ الشعراء 63، 61)۔اُنھوں نے دریا پر لاٹھی ماری، تو اس میں بارہ خشک راستے نکل آئے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے اُن میں سے گزر گئے۔ لشکرِ فرعون یہ حیرت ناک منظر دیکھ کر سہم گیا۔ فرعون بھی قدرت کے اس کرشمے کو دیکھ کر مرعوب ہو چُکا تھا، لیکن پھر اپنے اوپر فرعونیت سوار کرتے ہوئے گویا ہوا’’ تم لوگ فکر نہ کرو، یہ سب کرشمہ میری ہیبت کا ہے، جس سے دریا کی روانی رُک کر راستے بن گئے ہیں تاکہ مَیں اپنے بھگوڑوں کو پکڑ کر سزا دے سکوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا اور اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور لشکر کو پیچھے آنے کا حکم دیا۔ جب فرعون اور اُس کا لشکر دریائی راستوں کے اندر سما گیا، تو اللہ تعالیٰ نے دریا کو روانی کا حکم دے دیا اور دریا کے سب حصّے آپس میں مل گئے۔ فرعون جب ڈوبنے لگا، تو پکار اُٹھا کہ’’ مَیں اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لاتا ہوں۔‘‘ قرآنِ کریم میں ہے’’پھر جب اُنہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، تو کہنے لگے کہ’’ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جن جن کو ہم اُس کا شریک بنا رہے تھے، ہم نے اُن سب سے انکار کیا۔‘‘ (سورۃ المومن: 84)جب فرعون غرق ہو گیا، تو اُس کی موت کا بہت سے لوگوں کو یقین نہیں آتا تھا، تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی نے اُس کی لاش کو باہر خشکی پر پھینک دیا، جس کا سب نے مشاہدہ کیا۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے’’آج ہم تیری لاش کو (پانی سے) نکال لیں گے تاکہ تو اُن کے لیے نشانِ عبرت ہو، جو تیرے بعد ہیں اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بے خبر ہیں۔‘‘ (سورۂ یونس: 92) آج بھی فرعون منفتاح ثانی کی حنوط شدہ لاش عبرت کا نشان بنی مِصر کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔ روایت ہے کہ فرعون اور اُس کے لشکر کی ہلاکت یومِ عاشور کو ہوئی۔امامِ بخاریؒ نے فرمایا، حضرت ابنِ عبّاسؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺمدینہ منورہ تشریف لائے، تو یہود عاشورہ (دس محرّم) کا روزہ رکھے ہوئے تھے، تو حضورﷺ نے دریافت کیا کہ’’ یہ کون سا روزہ ہے، جو تم رکھتے ہو؟‘‘ اُنہوں نے کہا’’ یہ وہ دن ہے، جب موسیٰ علیہ السّلام کو فرعون پر غلبہ حاصل ہوا تھا‘‘، تو نبی کریمﷺ نے اپنے اصحابؓ سے فرمایا’’تم موسیٰؑ کے زیادہ حق دار ہو، لہٰذا تم بھی روزہ رکھو۔‘‘(ابنِ کثیرؒ)

کوہِ طور پر اللہ سے کلام، تجلّی اور تورات کا ملنا

حضرت موسیٰؑ، فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ بحیرۂ احمر پار کرکے وادیٔ سینا کی جانب چلے۔ راستے میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرے، جو بُتوں کو پوجتی تھی۔ بنی اسرائیل نے جب یہ دیکھا، تو کہنے لگے’’اے موسیٰ (علیہ السّلام)! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں، ہمارے لیے بھی ایسا ہی ایک معبود بنا دو۔‘‘ موسیٰ (علیہ السّلام) نے کہا ’’تم بڑے ہی جاہل ہو۔ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں، یہ تباہ کیا جائے گا اور ان کا یہ کام محض بے بنیاد ہے۔‘‘ فرمایا’’کیا اللہ تعالیٰ کے سِوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں؟ حالاں کہ اُس نے تم کو تمام جہاں والوں پر فوقیت دی ہے۔‘‘(سورۃ الاعراف: 140، 138)حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کو لے کر آگے بڑھے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی کے لیے حضرت موسیٰؑ کو آسمانی کتاب دینے کا فیصلہ کیا، چناں چہ اللہ عزّوجل نے آپؑ کو تیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر بلایا، جس میں مزید دس راتوں کا اضافہ کر کے اُسے چالیس راتیں کر دیا۔ حضرت موسیٰؑ نے کوہِ طور پر جانے سے قبل اپنے بھائی، حضرت ہارونؑ کو اپنا جانشین مقرّر کیا۔ حضرت ہارونؑ بھائی بھی تھے اور نبی بھی۔ حضرت موسیٰؑ وقتِ مقرّرہ پر کوہِ طور پہنچے اور پروردگار سے ہم کلام ہوئے، تو کہنے لگے’’اے میرے پروردگار! مجھے اپنا جلوہ دِکھا دیجیے، مَیں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں۔‘‘ ارشاد ہوا’’تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے، لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو۔ وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا، تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے اور جب اُن کے ربّ نے پہاڑ پر تجلّی فرمائی، تو تجلّی نے اُس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السّلام) بے ہوش کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے، تو عرض کیا’’ بے شک، آپ کی ذات پاک ہے۔ مَیں آپ کے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور مَیں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا ہوں۔‘‘ارشاد ہوا کہ’’اے موسیٰؑ! مَیں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں میں ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے، اسے پکڑ رکھو اور میرا شُکر بجا لائو اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی۔‘‘ (سورۃ الاعراف: 145، 142)یہ حضرت موسیٰ (علیہ السّلام) کا اللہ عزّوجل سے ہم کلامی کا دوسرا واقعہ تھا۔

سامری کا سونے کا بچھڑا اور گو سالہ پرستی

حضرت موسیٰ علیہ السّلام جب چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور گئے، تو پیچھے سامری نامی ایک قِبطی نے، جو حضرت موسیٰؑ کا پڑوسی تھا اور بہ ظاہر آپؑ پر ایمان لا کر ساتھ ہو گیا تھا، بنی اسرائیل سے سونے کے زیورات اکٹھے کر کے ایک بچھڑا تیار کیا، جس میں اُس نے حضرت جبرائیل علیہ السّلام کے گھوڑے کے سُموں کے نیچے کی مٹّی بھی شامل کر دی۔ یہ مٹّی اُس نے چُپکے سے اُس وقت لے لی تھی، جب حضرت جبرائیلؑ ان لوگوں کو دریا پار کروا رہے تھے۔ یہ بچھڑا جب تیار ہو گیا، تو یہ کچھ کچھ بیل کی آواز نکالتا تھا۔ یعنی جب اس میں ہوا داخل ہو جاتی، تو اس میں سے گائے یا بیل کی آواز نکلتی۔ (ابنِ کثیرؒ) اس آواز سے سامری نے بنی اسرائیل کو گم راہ کیا اور بولا’’ یہی تمہارا اصل معبود ہے۔‘‘ قرآنِ پاک میں ہے ’’پھر اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا بنا دیا، یعنی بچھڑے کا بُت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی۔ پھر کہنے لگا کہ’’ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰؑ کا بھی، لیکن موسیٰؑ بھول گیا ہے۔‘‘ (سورۂ طہٰ: 88)

کوہِ طور سے واپسی اور سامری کو سزا

حضرت موسیٰؑ جب تورات لے کر واپس آئے، تو دیکھا کہ بنی اسرائیل سامری کے بچھڑے کی پرستش کر رہے ہیں۔ آپؑ کو سخت ناگوار گزرا۔ غضب ناک ہو کر اپنے بھائی، حضرت ہارونؑ کے سَر کے بال اور داڑھی پکڑ کر اُنہیں سخت سُست کہا۔ حضرت ہارونؑ نے عرض کیا’’اے میرے بھائی! میری داڑھی اور سَر کے بال مت کھینچو۔ دراصل قوم نے مجھے کم زور خیال کیا اور میرے قتل کے درپے ہو گئی۔‘‘ (سورۃ الاعراف: 150)پھر حضرت موسیٰؑ سامری کی طرف متوجّہ ہوئے اور فرمایا’’تُو نے یہ حرکت کیوں کی؟‘‘ اُس نے کہا’’ مَیں نے فرشتے کے نقشِ پا سے(مٹّی) ایک مُٹھی میں بھر لی تھی، پھر اس کو (بچھڑے کے قلب) میں ڈال دیا اور مجھے یہ کام بھلا لگا۔‘‘(حضرت موسیٰؑ نے کہا)’’ اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا پھرے گا کہ’’ مجھے نہ چُھونا ‘‘اور تیرے لیے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا۔‘‘ (سورۂ طٰہٰ: 97، 95)اور پھر ایسا ہی ہوا۔ سامری عُمر بھر یہی کہتا رہا کہ’’ مجھے نہ چُھونا‘‘ کیوں کہ اُسے چھوتے ہی چُھونے والا اور سامری دونوں شدید بخار میں مبتلا ہو جاتے۔ پھر وہ انسانوں کی بستی سے نکل کر جنگل میں چلا گیا، جہاں جانوروں کے ساتھ زندگی گزاری اور عبرت کا نمونہ بن گیا۔ حضرت موسیٰؑ نے اُس کے بچھڑے کو جلا کر دریا میں پھینک دیا۔

بنی اسرائیل کی سرکشی اور سَروں پر کوہِ طور کا معلّق ہونا

حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے جب تورات سے درس و تدریس شروع کی، تو بنی اسرائیل ایک مرتبہ پھر حیلے بہانے کرنے لگے اور بولے’’اے موسیٰؑ! ہم یہ کیسے یقین کر لیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے؟ ہو سکتا ہے کہ تم نے خود ہی بنا لیا ہو۔‘‘ اس صُورتِ حال پر حضرت موسیٰؑ نے ایک بار پھر اللہ سے رجوع کیا۔ اللہ نے فرمایا’’اے موسیٰؑ! اس قوم کے منتخب افراد کو لے کر کوہِ طور پر آ جائو تاکہ ہم اُن کو اپنا کلام سُنا دیں اور اُنہیں یقین آ جائے۔‘‘ حضرت موسیٰؑ نے اُن میں سے70سرکردہ افراد چُنے اور اُنہیں کوہِ طور پر لے گئے اور جب اپنے کانوں سے اللہ کا کلام سُن لیا، تو بولے’’جب تک ہم اللہ کو خود سے نہ دیکھ لیں، کیسے یقین کر لیں۔‘‘ اُن کی اس ہٹ دھرمی اور سرکشی پر کوہِ طور لرز اٹھا اور اوپر سے شدید بجلی کڑکی، جس کی دہشت سے یہ سب بہ ظاہر مُردہ ہو کر گر پڑے۔ حضرت موسیٰؑ نے اللہ جل شانہ سے دُعا کی، جس پر اللہ نے اُن سب کو دوبارہ کھڑا کر دیا۔ پھر یہ سب گڑگڑا کر توبہ استغفار کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی دُعا قبول کر لی۔ یہ لوگ قوم کے پاس واپس آئے اور توحید اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی رسالت کی گواہی دی، مگر کچھ دن ہی گزرے تھے کہ حسبِ عادت پھر شرک میں مبتلا ہوگئے۔ اس مرتبہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے سَروں پر کوہِ طور کو معلّق فرما دیا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے ’’اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور پہاڑ لاکھڑا کر دیا اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور جو کچھ اس میں ہے، اُسے یاد رکھو تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 63)بنی اسرائیل اپنے سَروں پر کوہِ طور کو دیکھ کر بہت زیادہ خوف زَدہ ہو گئے کہ کہیں اس بڑے پہاڑ کے نیچے دَب کر ختم نہ ہو جائیں۔ چناں چہ وہ سجدے میں گر کر توبہ استغفار کرنے لگے۔ پھر حضرت موسیٰؑ کی درخواست پر اللہ نے ایک بار پھر اُنہیں معاف کر دیا۔

وادی تیہ میں قید کے دَوران اللہ تعالیٰ کے انعامات

اللہ ربّ العزّت نے حضرت موسیٰؑ کو ارضِ مقدّسہ (یعنی مُلکِ شام) جانے اور اپنے باپ، دادا کی سرزمین کافروں سے چھڑوانے کا حکم دیا۔ حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کو لے کر وہاں پہنچ گئے۔ اُس وقت وہاں پر’’ قومِ جبّارین‘‘ کا قبضہ تھا۔ یہ لوگ عجیب خوف ناک شکل و صورت اور ہیبت ناک قدو قامت کے مالک تھے۔ اُن کے ظلم و ستم اور قہر و جبر کی داستانیں عام تھیں۔ بنی اسرائیل نے جب شہر سے باہر اُن کے حالات سُنے، تو شہر میں داخل ہونے اور اُن سے جہاد کرنے سے انکار کر دیا ’’وہ بولے کہ’’ موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں ہیں، ہم ہرگز وہاں نہیں جائیں گے۔ اگر لڑنا ہی ضروری ہے، تو آپؑ اور آپؑ کا پروردگار جا کر اُن سے لڑائی کر لیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔‘‘  (سورۃ المائدہ: 24)حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کی تمام تر نافرمانیوں اور بے ہودگیوں کو اب تک بڑے صبر و تحمّل سے برداشت کرتے چلے آئے تھے اور اُن کے لیے دُعاگو رہتے اور اللہ سے اُنہیں معافی دلوا دیتے، لیکن اُن کے اس جواب پر بے حد غم گین اور رنجیدہ ہو گئے اور اُن کے لیے بددُعا فرماتے ہوئے اُنہیں’’ فاسقین‘‘ کے نام سے پکارا۔ اللہ جل شانہ نے اپنے رسول کی دُعا قبول فرمائی اور اُنہیں مِصر اور شام کے درمیان’’ میدانِ تیہ‘‘ میں قید کر دیا اور وہ چالیس سال اُس میدان میں بھٹکتے رہے۔حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ بھی اُن کے ساتھ تھے، جو اُن کی غلطیوں اور نافرمانیوں پر اللہ سے معافی طلب کرتے رہتے، جس کی برکت سے سزا کے دَوران بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں برستی رہیں۔ اُنہوں نے حضرت موسیٰؑ سے دھوپ کی شکایت کی، تو آپؑ کی دُعا سے اُن کے سَروں پر اَبر کا سایہ کر دیا گیا۔ پھر بھوک کی شکایت کی، تو حضرت موسیٰؑ کی دُعا سے اللہ تعالیٰ نے مَن و سَلویٰ نازل فرما دیا۔مَن ایک قسم کے دانے تھے، جو زمین میں پھیلے ہوتے تھے۔ بنی اسرائیل اُنھیں پیس کر روٹی بنا لیتے، جب کہ سَلویٰ ایک قسم کے پرندے تھے، جو دریا کی طرف سے آتے تھے۔ مدّتوں یہ لوگ مَن و سلویٰ کھاتے رہے۔ اُن کے کپڑے میلے ہوتے اور نہ ہی پھٹتے ۔ جب اُن کو پانی کی حاجت ہوئی، تو وہ بھی عطا کردیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’اور جب موسیٰؑ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا، تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو (اُنہوں نے لاٹھی ماری)، تو اُس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر کے (پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) اللہ کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھائو اور پیو، مگر زمین پر فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 60)بنی اسرائیل نے حسبِ عادت نعمتِ خداوندی کی ناشُکری کرتے ہوئے ادنیٰ چیزوں کی فرمائش کر دی۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰؑ! ہم سے ایک قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہ ہو سکے گا، اس لیے اپنے ربّ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار ساگ، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز دے۔‘‘ آپؑ نے فرمایا’’ بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 61)وادی تیہ میں بنی اسرائیل کے ساتھ اللہ کے دو پیغمبر حضرت موسیٰؑ، حضرت ہارونؑ اور دو نیک بندے، حضرت یوشع بن نون اور حضرت کالب بن یوقنا بھی تھے اور اللہ تعالیٰ اُن کے طفیل بنی اسرائیل کو چالیس سالہ قید اور سزا کے دَوران بھی اپنی نعمتوں اور انعامات سے نوازتا رہا۔

بیل ذبح کرنے کا حکم اور بنی اسرائیل کے حیلے بہانے

حضرت ابنِ عباسؓ اور دیگر کئی بزرگ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک بہت مال دار بوڑھا تھا، جس کے بھتیجے، اُس کی موت کے متمنّی تھے تاکہ وہ وارث بن جائیں، لہٰذا ایک نے اُسے قتل کر ڈالا اور اُس کی لاش پھینک دی۔ لوگوں کو صبح پتا چلا، تو قاتل کی تلاش شروع ہوئی، مگر کچھ علم نہ ہوسکا۔ لوگ حضرت موسیٰؑ کے پاس آئے، تو آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی، جس پر اللہ نے حکم فرمایا کہ ایک گائے ذبح کریں۔ قرآنِ کریم میں اس واقعے کو یوں بیان کیا گیا ہے’’اور جب موسیٰ (علیہ السّلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ’’ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو‘‘، تو وہ بولے’’ کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟‘‘ (موسیٰ ؑنے) کہا’’ مَیں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں۔‘‘ اُنہوں نے کہا’’ اپنے پروردگار سے پوچھ کر بتائیں کہ وہ بیل کس طرح کا ہو؟‘‘ کہا’’ پروردگار فرماتا ہے’’ وہ بیل بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا، بلکہ اُن کے درمیان یعنی جوان ہو۔‘‘ سو، جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، ویسا کرو۔‘‘ اُنہوں نے کہا’’ اپنے پروردگار سے پوچھ کر بتائیے کہ اُس کا رنگ کیسا ہو؟‘‘ موسیٰ (علیہ السّلام) نے کہا’’ پروردگار فرماتا ہے کہ اُس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دِل) کو خوش کردیتا ہو۔‘‘ اُنہوں نے کہا’’ پروردگار سے پھر درخواست کیجیے کہ ہم کو بتادے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو؟ کیوں کہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں۔ پھر اللہ نے چاہا، تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہوجائے گی۔‘‘ موسیٰ(علیہ السّلام) نے کہا’’ اللہ فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو۔ زمین جوتتا ہو، اور نہ ہی کھیتی کو پانی دیتا ہو۔ اُس میں کسی طرح کے داغ نہ ہوں۔‘‘ غرض(بڑی مشکل سے) اُنہوں نے اس بیل کو ذبح کیا۔ تو ہم نے کہا’’ اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح اللہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دِکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔‘‘ (سورۃ البقرہ 67-73) اللہ کے حکم کے مطابق گائے کے گوشت کا حصّہ مقتول کے جسم سے ملایا گیا، تو وہ زندہ ہوکر کھڑا ہوگیا، اُس کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا۔ پھر حضرت موسیٰؑ نے اُس سے سوال کیا کہ’’ تجھے کس نے قتل کیا؟‘‘ اُس نے جواب دیا’’ مجھے فلاں بھتیجے نے قتل کیا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مر گیا اور جیسا تھا، ویسا ہی ہوگیا‘‘۔ (ابنِ کثیرؒ)

(جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں