آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
تکلیف ہی تکلیف، ریلیف ندارد
وزیرِ مملکت برائے محصولات ، حماد اظہر قومی اسمبلی میں آیندہ مالی سال 2019-20ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے

11جون کو وزیرِ مملکت برائے ریونیو، حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2019-20ء کا وفاقی بجٹ پیش کیا، جس کے بعد بجٹ سیشن کا آغاز ہو گیا اور اب قومی اسمبلی میں تقریباً ایک ماہ تک وفاقی میزانیے پر بحث جاری رہے گی۔ اس دوران بجٹ میں ترامیم بھی پیش کی جائیں گی، لیکن اس کا حجم7,036ارب روپے ہی برقرار رہے گا۔ ماضی کی روایات کے عین مطابق قومی اسمبلی کے فلور پر حزبِ اختلاف نے بجٹ تقریر کے دوران شدید احتجاج اور شور شرابا کیا۔ گرچہ اپوزیشن ارکان نے بجٹ تقریر کی نقول پھاڑ کر علامتی طور پر وفاقی میزانیے کو مسترد کر دیا، لیکن مُلک بَھر میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کا پہلا باقاعدہ بجٹ عوام دوست ہے یا عوام دشمن۔ تاہم، سب سے زیادہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ آیا وفاقی بجٹ 2019-20ء میں مُلک کی اقتصادی سمت کا تعیّن کیا گیا ہے یا نہیں، کیوں کہ موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ مُلکی معیشت کو بُحران سے نکالے گی۔ دوسری جانب منہگائی کے ستائے عوام کی بھی یہی خواہش اور آرزو ہے کہ حکومت مُلک کی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے میں کام یاب ہو جائے۔

اگر بجٹ کا مفہوم و مقصد سمجھ لیا جائے، تو ایک عام آدمی کے لیے اس پر بات کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بجٹ کوئی بیلنس شیٹ نہیں کہ جس میں جمع و خرچ ہونے والی رقوم کی تفصیلات موجود ہوں، بلکہ اس میں مُلک کی ترقّی کے اہداف مقرّر کیے جاتے ہیں۔ یعنی آیندہ مالی سال میں اخراجات گھٹانے ہیں یا بڑھانے، نئے ترقّیاتی منصوبوں کا آغاز کرنا ہے یا نہیں، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہیں یا کفایت شعاری کو اپنانا ہے۔ بجٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صرف قومی خزانے سے رقم خرچ کرنی ہے، بلکہ اس کے ذریعے تو آمدنی حاصل کرنے اور انہیں عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے نئے نئے طریقے وضع کیےجاتے ہیں، جب کہ موجودہ معاشی بُحران میں تو ہمارے لیے اپنے اقتصادی اہداف اور اقتصادی پالیسی کا تعیّن بھی بےحد ضروری ہے۔ اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں، تو پتا چلتا ہے کہ دسمبر 1979ءمیں عظیم چینی رہنما اور اقتصادی جادوگر، ڈینگ ژیائو پھنگ نے اپنی پالیسی ساز تقریر میں چینی قوم کو ترقّی کا ہدف دیا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مستقبل میں تمام قومی پالیسیز اقتصادی پالیسی کے تابع ہوں گی۔ یعنی عوام اپنی تمام ترتوانائیاں مُلکی معیشت مستحکم کرنے پر صَرف کریں گے اور خارجہ پالیسی کو بھی معاشی تقاضوں کے پیشِ نظر از سرِ نو ترتیب دیا جائے گا۔ اس تقریر کے نتیجے میں چین نے ایک بڑی جَست لگاتے ہوئےعالمی نظام سےمطابقت پیدا کرنے کےلیے ایک جامع تبدیلی کی جانب قدم بڑھائے۔ اس کے بعد چین کی قیادت تبدیل ہوتی رہی، لیکن اس کی اقتصادی پالیسی میں کوئی ردّ و بدل نہیں ہوا۔ نتیجتاً، چین کی معیشت ترقّی کرتی رہی اور آج وہ دُنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے۔ وزیرِ اعظم، عمران خان اور اُن کے اقتصادی منتظمین نے بارہا قوم اور دُنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ مُلک بد ترین معاشی بُحران سے دو چار ہے اور مضرّات پرسوچ بچارکیےبغیر ہی مُلک کے دیوالیہ ہونے کی اصطلاح کثرت سےاستعمال کی گئی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر معاشی صورتِ حال واقعی انتہائی خراب ہے، تو کیا وفاقی بجٹ میں اس پر قابو پانے کے اقدامات کیے گئے ہیں اور کوئی ایسی پالیسی وضع کی گئی ہے کہ جس کے نتیجے میں عوام کو ترقّی کے امکانات نظر آئیں یا پھر یہ بجٹ بھی ماضی کی طرح اُن عارضی اقدامات کامجموعہ ہے کہ جن سےحکومت، اپوزیشن کی تنقید کے آگے بند باندھنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم، اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت معاشی بحالی مُلک اور موجودہ حکومت کی بقا کا مسئلہ بن چُکی ہے۔

ہم اس مضمون میں وفاقی بجٹ کے عوام پر ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ بجٹ 2019-20ء میں چینی، گھی، خوردنی تیل، گوشت، منرل واٹر، مشروبات، سی این جی، سگریٹ، گاڑیاں، فلیورڈ جوسز، چمڑےسےبنی مصنوعات، کھیلوں کاسامان، آلاتِ جراحی، سنگِ مرمر، مچھلی اور گوشت سے تیار شُدہ اشیاء منہگی، جب کہ کھاد، بیکری آئٹمز اور موبائل فونز سَستےکیےگئےہیں۔ سرکاری ملازمین (ماسوائے21 اور22 گریڈ کے ملازمین) کی تن خواہوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جب کہ مزدور کی کم ازکم اُجرت 17,500روپے مقرّر کی گئی ہے، جو ایک احسن اقدام ہے۔ وفاقی بجٹ میں روزمرّہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکس لگایا گیا ہے اور یہ کہنا بڑی زیادتی کی بات ہوگی کہ چینی، گھی، خوردنی تیل اور گوشت وغیرہ پر ٹیکس عاید کرنے سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ عام آدمی تو بجٹ سے قبل ہی منہگائی کے بوجھ تلے دب ہوا تھا، جب کہ نئے ٹیکسز نے تو متوسّط طبقے کے لیے بھی اپنا گھریلو بجٹ متوازن رکھنا مشکل بنادیاہے اورایسے میں حکومت کی جانب سے منہگائی میں اضافے کا جواز فراہم کرنا بہت مشکل ہو گا۔ یاد رہے کہ تمام اُبھرتی ہوئی معیشتوں نے، جن میں چین بھی شامل ہے، اپنی مڈل کلاس کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجّہ دی، کیوں کہ یہی طبقہ معیشت کی رفتار تیز کرتا ہے اور اگر اسے ہی لینے کی بہ جائے دینے پڑ جائیں، تو پھر معیشت کی گاڑی چلانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر بجٹ تقریر اور بعد از بجٹ پریس کانفرنس کا تجزیہ کیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ حالیہ بجٹ میں صرف محاصل جمع کرنے پر زور دیا گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کے لیے نئے ذرایع تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک اچھی کاوش ہے، کیوں کہ استطاعت رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد قومی مجرم ہیں۔ مُشیرِ خزانہ، عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ فائلر اور نان فائلر کا تصوّر ختم کر دیا گیا ہے اور گاڑی، جائیداد خریدنے والا فرد خود بہ خود ہی فائلر بن جائے گا۔ نیز، حکومت کا دعویٰ ہے کہ اُس کے پاس ٹیکس نادہندگان کی فہرست موجود ہے اور وہ کسی کی ناراضی کی پروا کیے بغیر ان سب سے ٹیکس وصول کرے گی۔ گرچہ یہ خاصا مشکل کام ہے، لیکن اگر حکومت اس میں کام یاب ہو جاتی ہے، تو ہر قانون پسند شہری اس کی تعریف کرے گا۔ مُشیرِ خزانہ نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مزید ٹیکس ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیکٹر 1,200ارب روپے کا کپڑا فرخت کرتا ہے اور صرف 8ارب روپے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اگر اسے کاروبار کرنا ہے، تو ٹیکس ادا کرے۔ مُشیرِ خزانہ کی یہ بات مناسب ہے، لیکن کیا ایک ایسے سیکٹر کے لیے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنا صحیح ہے کہ جس پر ہماری زیادہ تر برآمدات کا انحصار ہو اور جو بین الاقوامی مارکیٹ میں چاروں طرف سے دبائو میں ہو۔ اگر بجٹ میں ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمداتی سیکٹرز کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی، تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔ اِسی طرح ہر گاڑی رکھنے والے فرد پر ٹیکس عاید کرنا بھی مناسب نہیں اور کیا اس میں پنشنرز اور بزرگ افراد بھی شامل ہوں گے۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت بالخصوص کراچی کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے کسی نئے منصوبے پر سوچ بچار کر رہی ہے، جہاں شہری ذاتی گاڑیاں رکھنے پر مجبور ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مُشیرِ خزانہ اور اُن کی ٹیم کا مقصد صرف پیسا اکٹھا کرنا ہے اور انہیں عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں۔ گرچہ کسی حد تک یہ سختی اچھی ہے، لیکن وہی بجٹ متوازن کہلاتا ہے کہ جس میں عوام کو ریلیف بھی فراہم کیا جائے۔

ماہرین اس اَمر کی جانب بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں کہ اگر صنعتی شعبے کو مراعات نہ دی گئیں، تو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور نہ ہی برآمدات میں اضافہ ہو گا، لیکن حالیہ وفاقی بجٹ میں اس پر بھی کوئی خصوصی توجّہ نہیں دی گئی، حالاں کہ نوجوانوں کی اکثریت عمران خان کی کرشماتی شخصیت اور جوشیلی تقاریر کے سحر میں آکر یہ یقین کر بیٹھی تھی کہ پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ پھرخود عمران خان اور اُن کے قریبی ساتھیوں نے بھی انہیں مسیحا بنا کر پیش کیا اور عوام نے اُن سے غیر معمولی توقّعات وابستہ کر لیں۔ حالاں کہ اُس وقت بھی معاشی ماہرین اس اَمر کی جانب بار بار توجّہ دلاتے رہے کہ معاشی استحکام ایک طویل اور صبر آزما عمل ہے اور اس مقصد کے لیے اعلیٰ مہارت، بہترین طرزِ حُکم رانی اور بر وقت فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اُن کی باتوں پر کسی نے کان نہ دھرے۔ نتیجتاً، آج عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے پیکیج لینے پر غور و فکر میں 10ماہ ضایع کر دیے، جو اس کی قوتِ فیصلہ کی کمی اور مالی معاملات کی کم علمی کا مظہر ہے۔ پھر انتہائی عُجلت میں اقتصادی ٹیم میں تبدیلی نے بھی بہت سے سوالات جنم دیے اور حکومت کے لیے اپنا دفاع کرنا مشکل ہوگیا ۔ اس وقت بالخصوص حکومت کے منتخب ارکان دُہری مشکل سے دوچار ہیں، کیوں کہ ایک جانب انہیں غیر منتخب ماہرین کی ٹیم کا دفاع کرنا پڑ رہا ہے اور دوسری جانب خود ان کی اہلیت مشکوک ہوگئی ہے۔ سابق وزیرِ خزانہ، اسد عُمر کو نتائج نہ دینے پر وفاقی بجٹ سے ایک ماہ قبل راتوں رات عُہدے سے ہٹانے اور آئی ایم ایف کے سابق ملازمین اور پسندیدہ ماہرین سے بجٹ بنوانے سے عوام میں حکومت کا اچھا تاثر قائم نہیں ہوا۔ تاہم، اسد عُمر کو داد دینا پڑے گی کہ اب بھی اپنی پارٹی سے اُن کی وابستگی برقرار ہے۔

آیندہ مالی سال کے بجٹ میں سب سے بڑا چیلنج رواں خسارے پر قابو پانا اور ریوینو حاصل کرنا ہے۔ بجٹ میں محصولات کا ہدف 5,500 ارب روپے مقرّر کیا گیا ہے، جب کہ بجٹ خسارہ 3,151ارب روپے ظاہر کیا گیا ہے۔ بجٹ کے مجموعی حجم کا کم و بیش نصف خسارہ ماہرین کو چکرا دینے کے لیے کافی ہے، جب کہ ریونیو کا ہدف بھی حیرت انگیز حد تک زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً تمام معاشی ماہرین محصولات کےہدف کو ناممکن قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، مُشیرِ خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر، شبّر زیدی کو یقین ہے کہ وہ یہ ہدف حاصل کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت اور ایوانِ صنعت و تجارت، کراچی سمیت مُلک کی دیگر کاروباری و تجارتی تنظیموں نے بجٹ کو غیر اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی خزانہ خالی ہونے کی صُورت میں حکومت کے پاس نئے نوٹ چھاپنے اور مزید قرضے لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں افراطِ زر اور قرضوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ خیال رہے کہ بجٹ میں افراطِ زر کا ہدف 8.3فی صد مقرّر کیا گیا ہے، جب کہ عالمی مالیاتی اداروں نے، جن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقّیاتی بینک شامل ہے، افراطِ زر کی شرح 13سے14فی صد متعین کی ہے۔ موجودہ حکومت اسے سازش بھی قرار نہیں دے سکتی، کیوں کہ وہ خود آئی ایم ایف کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تاہم، افراطِ زر کی شرح میں اضافے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ اس کا تعلق منہگائی میں اضافے سے ہے۔

آیندہ مالی سال کے بجٹ کا اعلان ہوتے ہی توانائی کے خود مختار اداروں نے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اپنے نرخوں میں اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ عام صارفین کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ سبسڈی کا خاتمہ بھی آئی ایم ایف کی شرائط کا حصّہ ہے۔ برآمد کنندگان توانائی منہگی ہونے پر پہلے ہی نالاں تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے اُن کی مقابلے کی سکت ختم کر کے رکھ دی ہے، کیوں کہ پاکستانی مصنوعات کی قیمت بنگلا دیش کی مصنوعات سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے مُلک میں کبھی بھی کاروبار دوست ماحول نہیں رہا۔ یہاں تاجروں اور کاروباری شخصیات کو چور، ڈاکو کہا جاتا ہےاور اُن کےلیےہرقدم پر رُکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ آخر ایسی صورتِ حال میں مُلک میں نئی صنعتیں کیسے لگیں گی، پیداوار کیسے بڑھے گی اور برآمدات میں اضافے کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہو گا۔ دوسری جانب عمران خان اور اُن کی حکومت بڑے منصوبوں کے سخت خلاف ہے، تو ان منصوبوں کی غیر موجودگی میں روزگار کے نئے مواقع کیسے پیدا ہوں گے، جن کا ہدف ایک کروڑ رکھا گیا ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان جامعات سےفارغ التّحصیل ہورہے ہیں، لیکن نوکریاں ندارد۔ ملازمت نہ ملنے کی صورت میں نوجوانوں میں اضطراب جنم لے گا، جو تشویش ناک ہے۔ بجٹ میں سیمنٹ پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے، جس کی وجہ سے عمارتوں کی تعمیر پر آنے والی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا اور نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

مُشیرِ خزانہ، عبدالحفیظ شیخ نے عہُدہ سنبھالتے ہی یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ پاکستان میں صرف ایک فی صد شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں اور 99فی صد اُن پر مزے اُڑاتے ہیں۔ وزیرِ اعظم اس انکشاف پر(جودرحقیقت انکشاف نہیں)نہ صرف بہت خوش ہوئے، بلکہ انہوں نےخود بھی یہ کہنا شروع کر دیا کہ جب شہری ٹیکس ہی نہیں دیں گے، تو پیساکہاں سے آئے گا اور مُلک کیسے چلے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ یا مفروضہ بالکل غلط ہے کہ عام پاکستانی ٹیکس نہیں دیتا۔ اس ضمن میں چند مثالیں ہی کافی ہیں۔ موبائل فون کے بیلنس پر 27فی صد ٹیکس عاید ہے، جس میں سے نصف سے زاید رقم قومی خزانے میں جمع ہوتی ہے۔ بجلی کے بِل میں 35روپے پی ٹی وی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، چاہے آپ پی ٹی وی دیکھیں یا نہ دیکھیں۔ دوسری جانب پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملزجیسے ادارے بالتّرتیب 500اور700ارب کے قرضوں کے بوجھ تلے دبےہوئے ہیں اورحکومت صرف اس لیےانہیں چھیڑنے پر آمادہ نہیں کہ اس کے نتیجے میں یونینز اور ملازمین شور مچانے لگتے ہیں۔ اسی طرح ہر شے پر جی ایس ٹی عاید ہے اور ہر اکائونٹ پر وِد ہولڈنگ ٹیکس۔ لہٰذا، اسے غلط بیانی ہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی شہری ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ درحقیقت، وزیرِ اعظم اور اُن کےمشیر، انکم ٹیکس کاذکر کرتے ہیں اور پاکستان میں اس کی ادائیگی کی شرح پوری دُنیا کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ اگر کروڑوں، اربوں روپے مالیت کے مکانات اور گاڑیوں کے مالکان سے انکم ٹیکس طلب کیا جائے، تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ انکم ٹیکس اس لیے ادا نہیں کیا جاتا کہ لوگوں کو حکومت پر بھروسا نہیں، تو یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل خود یوٹیلیٹی بِلز جلا کر ان کی ادائیگی سے منع کیا تھا اور اُن کا یہ اقدام اب ان کی حکومت کے لیے مصیبت بن گیا ہے۔ اسی لیے اب وزیرِ اعظم سمیت ہر حکومتی اہل کار کبھی دھمکی دیتا ہے، تو کبھی فریاد کرتا ہے کہ ٹیکس ادا کریں۔

موجودہ حکومت نے مُلک میں انقلاب لانے کا دعویٰ کیا تھا، کیوں کہ یہ تبدیلی کا دوسرا نام ہے، لیکن کیا اسے اس کا مینڈیٹ ملا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو قومی اسمبلی میں معمولی اکثریت حاصل ہے اور اپوزیشن بار بار یہ دھمکی دے رہی ہے کہ وہ بجٹ منظور نہیں ہونے دے گی۔ اسی طرح پنجاب میں بھی پی ٹی آئی نے اکثریت نہ ہونے کے باوجوددوسری جماعتوں سےجوڑ توڑ کرکے حکومت بنائی، تو ایسی صُورتِ حال میں حُکم راں جماعت بنیادی تبدیلی کیسے لائے گی۔ بِلاشُبہ حکومت کی نیّت اچھی ہے اور یہ کچھ کر دکھانے کا عزم بھی رکھتی ہے، لیکن پارلیمان میں اسےوہ تین چوتھائی اکثریت کیسے حاصل ہوگی کہ جو بجٹ منظور کروانے کے لیے ضروری ہے۔ اُسے یہ مشکل بجٹ اجلاس میں ضرور پیش آئے گی۔ اس کے برعکس یہ بہتر تھا کہ حکومت مُلک کی معاشی سمت کا تعیّن کرنے کے لیے اپوزیشن سے مفاہمت کرلیتی، جس کے نتیجے میں مستقبل میں قومی ترقّی کے اہداف کا حصول ممکن ہوجاتا اور آئی ایم ایف جیسے بے رحم اداروں کو بھی یہ واضح پیغام مل جاتا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں کم از کم معیشت کے معاملے پر متفّق و ہم آہنگ ہیں اور اُس کے لیے پاکستان پر مزید دبائو ڈالنا ممکن نہ ہوتا، لیکن نئے مالی سال کے بجٹ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو فی الوقت طویل المدّت معاشی حکمتِ عملی بنانے میں کوئی دِل چسپی نہیں اور صرف بجٹ ہی کو فتح قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ تبدیلی کے لیے مزید اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔

بجٹ تقریر کے بعد پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس ایک روایت ہے، جس میں وزارتِ خزانہ کے حُکّام بجٹ کے چیدہ چیدہ نکات اور اثرات کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک جانب متاثرہ طبقات کو کچھ ڈھارس ملتی ہے،تو دوسری جانب حکومت کو عوامی ردِ عمل کے ساتھ یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ بجٹ منظور کروانے کے لیے کون کون سی ترامیم مناسب ہوں گی، جنہیں کٹوتیاں کہا جاتا ہے۔ بجٹ پیش کرنے کے بعد بجٹ سیشن کی پہلی تقریر قائدِ حزبِ اختلاف کرتے ہیں، جس میں وہ اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ گرچہ یہ مؤقف حکومت کے خلاف ہوتا ہے، لیکن اس کے ذریعے بجٹ کی منظوری کا پہلا مرحلہ طے ہو جاتا ہے اور بحث و مباحثے سے معاملات ایوان میں طے کرنے کی شروعات ہوجاتی ہیں۔ تاہم، اس مرتبہ ایک نئی رِیت یہ ڈالی گئی کہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیے جانے کے بعد رات 12بجے وزیرِ اعظم، عمران خان نے قوم سے خطاب کیا، جس میں وہ حسبِ معمول اپوزیشن لیڈرز، بالخصوص سابق وزیرِ اعظم، میاں نواز شریف اور سابق صدر، آصف علی زرداری اور ان کی جماعتوں پر خُوب گرجے برسے۔ اس دوران انہوں نے انتہائی غیض و غضب کے ساتھ پُرانے الزامات دُہرائے کہ ان سب نے مُلک کو کنگال کر دیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’’میرے پاس سود کے 300ارب ڈالرز ادا کرنے کے بعد مُلک چلانے کے لیے پیسا نہیں۔‘‘ پھر انہوں نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ ’’جان دے دُوں گا، لیکن این آر او نہیں دُوں گا اور اِن سب کو نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ وزیرِ اعظم کو اس اہم مرحلے پر معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے جان دینے کے دعوئوں کی بہ جائے مفاہمتی رویّہ اپنانا چاہیے تھا، کیوں کہ ایک کم زور اتحادی حکومت کے سربراہ کو بجٹ منظور کروانے کے لیے ہر قدم پر اپوزیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران خان کی یہ سیاسی حکمتِ عملی ناقابلِ فہم ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے ان کے ارکانِ پارلیمان کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گا اور اُن کے لیے بجٹ منظور کروانا مشکل تر ہو جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے صرف اِسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اپنی نگرانی میں ایک انکوئری کمیشن کے قیام کا اعلان بھی کر دیا، جو یہ کھوج لگانے کی کوشش کرے گا کہ 2008ء سے 2018ء تک لیے گئے ہزاروں ارب روپے کے قرضے کہاں خرچ ہوئے اور اس کمیشن میں آئی ایس آئی، آئی بی، ایف بی آر، ایف آئی اے اور ایس ای سی پی سمیت دیگر ادارے شامل ہوں گے۔ تاہم، وزیرِ اعظم کے فریق بننے سے اس کمیشن کی خود مختاری پر سوالات اُٹھیں گے، جب کہ مُلک میں آزاد عدلیہ موجود ہے، جو مُلکی تاریخ کے کئی اہم فیصلے سُنا چُکی ہے اور نیب جیسا احتساب کا ادارہ بھی سرگرمِ عمل ہے۔ لہٰذا، براہِ راست وزیرِ اعظم کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کا قیام غیر مناسب ہے۔ اور پھر صرف گزشتہ 10برس میں لیے گئے قرضوں ہی کا احتساب کیوں۔ کیا اس سے پہلے مُلک میں کسی حکومت نے قرضے نہیں لیے۔ 2005ء تک پاکستان کے قرضے 2.5ارب ڈالرز تھے، لیکن جب پرویز مشرف گئے، تو یہ 20ارب ڈالرز تک جا پہنچے، جو مُلکی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہے۔ سو، ماہرین کا یہ استفسار بجا ہے کہ مشرف دَور میں لیے گئے قرضوں کی انکوائری کیوں نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں، مُشیرِ خزانہ، عبدالحفیظ شیخ پی پی کے دَور میں وفاقی وزیرِ خزانہ رہ چُکے ہیں، تو کیا وہ کمیشن کے سامنے پیش ہو کر بتائیں گے کہ اُس دَور میں لیے گئے قرضوں کا مصرف کیا تھا۔ واضح رہے کہ چھوٹے، بڑے تمام منصوبوں پر خرچ کی گئی رقوم کا باقاعدہ حساب کتاب رکھا جاتا ہے اور ان کا آڈٹ بھی ہوتا ہے، تو کیا یہ ساری معلومات موجود نہیں یا کسی نے وزیرِ اعظم کو ان دستاویزات کے متعلق بتایا ہی نہیں کہ وہ اتنا بڑا اعلان کرنے سے پہلے انہیں دیکھ لیتے۔ اگر بیرونی قرضوں سے بنائے گئے منصوبوں کی انکوائری ہوگی، تو پھر کون اس مُلک میں سرمایہ کاری کرے گا۔ غیر ملکی سرمایہ کار صرف تقاریر اور شخصیات کی بنیاد پر کسی مُلک میں سرمایہ کاری نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے منافعے اور مُلک کا ماحول دیکھتے ہوئے اس کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اکثر یہ مثال پیش کی جاتی ہے کہ چین میں بڑے بڑےسرکاری عُہدےداران اور رہنمائوں کو کرپشن پر سزائیں ہو رہی ہیں۔ گرچہ یہ عمل دُرست ہے، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہاں ترقّی و استحکام کے 30برس بعد احتساب کا عمل شروع ہوا۔ ہماری حکومت کے لیے تو اس وقت بجٹ خسارے پر قابو پانا ہی ایک بڑا چیلنج ہے، جب کہ وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ بیرونِ مُلک موجود لُوٹے گئے ہزاروں اربوں ڈالرز مُلک میں واپس لائیں گے، منی لانڈرنگ کی لعنت کو ختم کریں گے اور بیرونِ مُلک مقیم پاکستانی ڈالرز کی بارش کر دیں گے۔ بِلاشُبہ یہ ایک بہت بڑا عزم ہے اور اِسی کی وجہ سے عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیے، لیکن 10ماہ گزرنے کے باوجود بھی ایسا کچھ نہ ہوا اور مزید قرضے لیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کی اُمیدیں دَم توڑ رہی ہیں۔ چلیں، ہم یہ مان لیتے ہیں کہ عمران خان کا قرضے لینےکافیصلہ عارضی ہے، لیکن کیا اس وفاقی بجٹ میں مُلکی معیشت کی ترقّی کی راہ کا تعیّن کیا گیا ہے۔ کرپٹ افراد کو سزا دینا مستحسن عمل ہے، لیکن اگر پھر بھی مُلک میں پیسا نہیں آتا، تو حکومت صرف جیل بَھرنے اور مقدّمات چلانے سے عوام کو کب تک مطمئن کرتی رہے گی۔ اب وزیرِ اعظم اور کابینہ کو بیانات دینے کی بہ جائے وہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے کہ جن کی وجہ سے قوم ترقّی کی راہ پر گام زن ہو۔ اگر گرد و پیش کی حالیہ مثالیں سامنے رکھی جائیں، تو حکومت کو معاشی استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے اندرونِ مُلک مفاہمت کی فضا اور بیرونِ مُلک سب سے دوستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ عوام اپنے وطن کے لیے کچھ کر دکھانے کو بے قرار ہیں، لیکن انہیں ایک مخلص رہنما کی ضرورت ہے۔ پاکستانی عوام کو عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ اے کاش! وہ عوام کو ترقّی کی راہ پر گام زن کرنے میں کام یاب ہو جائیں۔

سنڈے میگزین سے مزید