آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صائمہ فہیم

بچے زندگی کا محور ہوتے ہیں، ان کی کھلکھلاہٹ گھر کے آنگن کو مہکاتی ہے۔ان کی زندگی بچوں کے گرد ہی گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ان کا ہنسنا‘رونا اور کھلکھلانا زندگی کا احساس دلاتا ہے۔لیکن آج کل کم و بیش ہر خاتون اس لیے پریشان نظر آتی ہے کہ اس کا بچہ ٹھیک سے کھانا نہیں کھاتا، بس ہر وقت اس کو چاکلیٹ یا ٹافیاں چاہئیں ہوتی ہیں، نہ غذائیت سے بھر پور غذا لیتے ہیں نہ ہی وقت پر کھانا کھاتے ہیں۔ لیکن پیاری مائوں اگر دیکھا جائے تو اس میں بچے سے زیادہ آپ کا قصور ہے، کیوں کہ آپ ہی تو بچوں کو ان چیزوں کا عادی بناتی ہیں ۔ بچوں کی چپس، ٹافیاں اورسینڈوج وغیرہ کھانے کی فرمائشیں آپ ہی تو پورا کرتی ہیں۔ کچھ ما ئیں تو اپنے بچوں کو بھوک لگنے پر بسکٹ یا چاکلیٹ وغیرہ دے دیتی ہیں، انہیں سبزی ،دال یا چاول کی عادت نہیں ڈالتیں، اُن کے ایسا کرنے سے بچے غذائیت بخش غذائوں سے دُور ہوجاتے ہیں اور ان ہی چیزوں کے عادی بن جاتے ہیں۔ انہیں غذائیت سے بھرپور کھانے کا عادی بنانے کے لئے آپ کو خود بھی عملی نمونہ بنناپڑے گا ۔اگر گھر کا بڑا فرد خود دسترخوان پر بیٹھنے پر ناک منہ چڑائے گا یا ناپسندیدگی کا اظہار کرے گا تو پھر بچے بھی ایسا ہی کریں گے، انہیں تو کھانا نہ کھانے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے، رفتہ رفتہ وہ کھانے پر تنقید کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ مائوں کو چاہیے کہ دسترخوان پر رکھی ہر چیز بچوں کو ضرور کھلائیں،اگر وہ انکار کریں تو ان سے کہیں ایک نوالہ چکھ کر تو دیکھو ہو سکتا ہے کہ انہیں مزیدار لگے اور وہ خود دوسرا نوالہ لے لیں۔ آپ ان کی پسند کا بھی خیال رکھیں، ان سے رات کو پوچھیں کہ کل تمہارے لیے کیا کھانا بنائوں، اس طرح وہ کھانے کی طرف راغب ہوتے ہیں، اگر وہ گوشت شوق سے نہیں کھاتے تو یخنی، پلائو، یخنی سوپ وغیرہ بنا لیں، اس طرح غذائیت سے بھرپور کھانا بھی ہو گا، ویسے بھی بچے سوپ شوق سے پیتے ہیں۔نیز کھانے کے دوران سلیقہ مندی کا مظاہرہ کریں ،کیوں کہ بچے، جو دیکھتے ہیں وہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کھانے کی پلیٹ مکمل صاف کریں، تا کہ بچے بھی ایسا ہی کریں۔ ایسا کرنے سے بچوں میں کھانے کےآداب پیدا ہوں گےاور ساتھ ساتھ وہ تمام چیزیں کھانے کے عادی بھی ہوجائیں گے ۔ بچوں کے سامنے چل پھرتے یا کام کرتے وقت کھانےپینے سے گریز کریں، انہیں اس بات کا پابند بنائیں کہ کھانا بیٹھ کے کھایا جاتا ہے۔ ہربچے کی بھوک اور اُن کی پسند و نا پسند ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔آپ کو چاہیے کہ بچوں کو ہر چیز کھانے کی عادت ڈالیں ،تا کہ وہ کسی بھی کھا نے کو دیکھ کر منہ نہ بنائیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں