آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کہانی نمبر ایک: اسلام آباد۔ آپ کو پچھلے پانچ برسوں سے عوام کی نظروں میں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اور عوام یہی سمجھنے لگے تھے کہ آپ آئیں گے اور ملک کے حالات نہ صرف سنبھل جائیں گے بلکہ بدل بھی جائیں گے لیکن پھرکیا ہوا، آپ کے آتے ہی دوست ممالک سے ڈالروں کی بارش ہونے لگی لیکن اس کے باوجود حالات نہ سنبھلے بلکہ معیشت کا سفر منفی سمت اختیار کرنے لگا، پھر بیانیہ بدلا کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب ہورہا ہے، میڈیا سے کہا جانے لگا کہ تین ماہ کا وقت دیا جائے جس کے بعد تنقید قابل قبول ہوگی پھر تین ماہ بھی گزر گئے، معیشت کسی طرح سنبھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ پھر آپ کے خلاف آپ کی جماعت میں سے ہی آوازیں بلند ہونے لگیں، آپ کی اہلیت پر ہی سوالات اٹھنے لگے اور کہا جانے لگا کہ آئی ایم ایف کے پاس دیر سے جانے کے آپ کے فیصلے سے ملک کو شدید معاشی نقصان پہنچا، اس کا ذمہ دار بھی آپ کو ہی ٹھہرایا گیا، میڈیا میں آپ کی جماعت کے ہمنوا بہت سے بڑے نام آپ کے خلاف ہوگئے اور پھر کپتان پر دبائو اتنا پڑا کہ آپ کو فارغ کئے بغیر کوئی چارہ ہی نہ رہا، میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ میرے اتنے الزامات کو آپ نے بہت تحمل سے سنا، تھوڑا سا مسکرائے اور تمام الزامات کو یکسر رد کرتے ہوئے آپ نے میری تصیح کی اور فرمایا کہ یہ تمام الزامات میڈیا ٹرائل کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں، سابقہ حکومت کو اپنے دور حکومت کے چوتھے سال اندازہ ہوچکا تھا کہ اگلی حکومت میں عوام ان کو قبول کرنے والے نہیں ہیں لہٰذا آخری اور پانچویں سال سابقہ حکومت نے معیشت کو منظم طریقے سے تباہ کیا تاکہ موجودہ حکومت پہلے دو سال معیشت کو سنبھالنے میں ہی گزار دے اور انھیں نئی حکومت پر تنقید کا موقع مل سکے اور یہی ہوا۔ ہمیں حکومت میں آنے کے بعد جس طرح کی معیشت ملی اس کو سنبھالنے کے لئے کوئی بھی میری وزارت سنبھالتا اس کو وہی فیصلے کرنا تھے جو میں نے کئے۔ پھر مجھ پر تو اپنوں ہی کی طرف سے بہت تیر چلے ہیں، دیکھنا تو یہ ہے کہ ہماری طرف سے انہیں تیر کمان میں ڈال ڈال کر کون دیتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے ہٹائے ہوئے سات ہفتے ہوچکے ہیں، روپیہ مزید سستا ہو چکا ہے، پیٹرول پندرہ روپے مہنگا ہو چکا ہے، اسٹاک مارکیٹ دو ہزار پوائنٹ مزید گر چکی ہے جبکہ آئی ایم ایف سے معاہدہ بھی انہی شرائط پر ہوا ہے جن پر میں مذاکرات کرکے آیا تھا لیکن اب میڈیا میں کوئی شور نہیں ہے اس کا مطلب ہے کہ سارا شور مجھے ہٹانے کے لئے ہی تھا، ہمارے لئے سبق یہی ہے کہ اپنی حکومت کو بچانے کے لئے ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا۔

کہانی نمبر دو: پنجاب۔ کپتان کو بتادیا گیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے لئے تین ایسے نام ہیں جنہیں اگر وزیراعلیٰ پنجاب لگادیا جائے تو پنجاب میں ترقی کی رفتار ماضی کی حکومت کے مقابلے میں نہ صرف برابر رہ سکتی ہے بلکہ تیز بھی۔ ان تین ناموں میں میرا نام بھی شامل تھا لیکن اچانک قرعہ کسی اور کے نام نکل آیا۔ حقیقت تو یہ تھی کہ ہمیں پنجاب میں شہباز شریف کی کارکردگی سے مقابلہ کرنا تھا جس سے چیف سیکریٹری سے لیکر آئی جی تک خوف کھایا کرتے تھے۔ جن کی رعب و دبدبے کے باعث انتظامیہ سو فیصد اپنی ذمہ داریاں پوری کیا کرتی تھی لیکن ہمارا وزیراعلیٰ ایک ایس پی کے آنے پر کھڑا ہونے والا سیاستداں رہا ہے، ان کو وزیراعلیٰ کی تربیت فراہم کرنے میں کافی وقت لگنے والا ہے اور ہمیں اندازہ ہے پنجاب میں ترقی ساکت ہوگئی ہے، انتظامیہ مفلوج ہے، بیوروکریسی سابقہ حکومت کی لگائی ہوئی ہے جس کی جانب سے ہر کام میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پھر نیب کا خوف ہے یا پھر سابقہ حکمرانوں سے دوستیاں، اہم فیصلوں میں تاخیر کی جاتی ہے جس کے سبب کئی منصوبوں کے لئے مختص کردہ رقم استعمال ہونے سے رہ جاتی ہے، ادارے بھی پوری رفتار سے کام نہیں کر پارہے لیکن پارٹی قیادت کا فیصلہ سرا ٓنکھوں پر۔ پوری کوشش ہے کہ ہماری حکومت کامیاب ہو، ہمارے وزیر اعلیٰ کامیاب ہوں اور ہمارا کپتان کامیاب ہو۔

کہانی نمبر تین: اسلام آباد۔ آپ تو خوش قسمت ہیں آپ کو کپتان نے بہترین اتحادی قرار دیا ہے، امید ہے کہ آپ کی وزارت بہترین جارہی ہوگی۔ وزیر صاحب مجھے دیکھ کر مسکرائے، اس سے قبل کچھ بولتے ان کے ہاتھ میں موجود موبائل فون کی گھنٹی نے ہماری بات کو مکمل ہونے سے روک دیا۔ وزیر صاحب نے فون کان پر لگایا اور انتہائی مایوسی سے گویا ہوئے، شام چار بجے کی کوئی فلائٹ نہیں ہے کراچی کے لئے؟ میری ایک مغربی سفارتکار سے انتہائی اہم میٹنگ ہے لیکن ان کو پھر مایوسی والا جواب ملا کہ شام ساڑھے سات بجے سے قبل کراچی کیلئے کوئی فلائیٹ دستیاب نہیں ہے، وزیر صاحب نے مایوسی سے جواب دیا ٹھیک ہے پھر وہی فلائٹ کرادو اور کراچی فون کر کے میری طرف سے آج شام کی ملاقات کے لئے معذرت کرلو۔ فون کاٹ کر وزیر موصوف اچانک میرے ساتھ بیٹھے شاہ صاحب سے مخاطب ہوئے۔ شاہ صاحب آج شام چار بجے کی فلائٹ لینا تھی کراچی کے لئے لیکن آفس سے فون آیا ہے کہ کوئی فلائٹ نہیں ہے چار بجے۔ شاہ صاحب کچھ حیران ہوئے اور پھر اپنے آفس فون کیا اور چند منٹ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام چار بجے کی فلائٹ ہے، میں نے آپ کی سیٹ کنفرم بھی کرا دی ہے۔ وزیر موصوف نے حیرانی اور کچھ غصے کا اظہار کرتے ہوئے مجھے دیکھا اور بولے یہ ہے ہماری وزارت جہاں وفاقی وزیر اپنی مرضی کی فلائٹ بھی نہیں کرا سکتا وہ اپنی مرضی سے وزارت کیسے چلائے گا اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ ہم اتحادی ہونے کا بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ بیوروکریسی کام میں روڑے اٹکاتی ہے، سابقہ حکومت کے غلط اور غیر قانونی منصوبوں کی منظوری کے لئے دبائو ڈالتی ہے، انکار کرنے پر مسائل کھڑے کئےجاتے ہیں، سیکریٹری کو ہٹانے کا کہا جائے تو اسے ترقی دیکر اور اہم عہدہ دے دیا جاتا ہے، دو وزارتوں کا وعدہ کرکے دس ماہ بعد تک صرف ایک وزارت دی گئی ہے، لہٰذا فیصلہ کیا ہے کہ بجٹ کے بعد کپتان سے بات کریں گے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے وعدے پورے کئے جائیں ورنہ ہم ایک بے اختیار وزارت لیکر بدنام نہیں ہونا چاہیں گے۔ یہ تین

چھوٹی چھوٹی تین کہانیاں ہیں۔ امید ہے کہ یہ کہانیاں بہت سے بڑی کہانیوں سے منسلک کی جائیں تو صورتحال کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا، آپ بھی کوئی اندازہ لگائیں ہم بھی لگاتے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید