• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
منتخب اداروں کی توہین کوئی ہمارے موجودہ منتخب حکمرانوں سے سیکھے۔ شب و روز پارلیمینٹ کی بالادستی کی دہائی دے رہے ہوتے ہیں لیکن حرام ہے جو خود منتخب اداروں کی توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیں ۔ تازہ ترین مثال نئے صوبوں کے قیام کے لئے بنائے گئے قومی کمیشن کی طرف سے بہاولپور جنوبی پنجاب (بے جے پی)کے نام سے نئے صوبے کے قیام کی تجویز ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کمیشن کس اخلاقی اور آئینی جواز کے تحت یہ تجویز سامنے لایا ہے؟ آئین کی رو سے کسی بھی صوبے میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے تمہید کی حیثیت اس صوبے کی اسمبلی کی قرارداد کو حاصل ہے اور وفاق اس کے تناظر میں اقدامات کا پابند ہے۔ اب پنجاب اسمبلی نے 9 مئی2012ء کو جو متفقہ قرارداد منظور کی ہے‘ اس میں دو نئے صوبوں (یعنی بہاولپور کی بحالی اور جنوبی پنجاب کی تشکیل) کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس کمیشن نے دو کی بجائے بی جے پی کے نام سے محض ایک نئے صوبے کی تجویز دی ہے۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے الفاظ یہ ہیں کہ :
On the basis of these facts, this house is of the considered opinion that the former status of Bahawalpur province should be restored at once. Therefore, this house wants immediate restoration of Bahawalpur province and demands that the federal government immediately set up a national commission that shall immediately decide all important issues (judicious distribution of water and other resources, geographical demarcation and all other constitutional, legal and administrative affairs) regarding new provinces and complete the process of creation of new provinces.
2) This representative house of the Provincial Assembly of Punjab demands that the federal government establish Janoobi Punjab province and for giving practical shape to the creation of new province it also demands that the federal government immediately set up a national commission that shall immediately decide all important issues (judicious distribution of water and other
resources, geographical demarcation and all other constitutional, legal and administrative affairs) regarding new provinces and complete the process of creation of new provinces
گویا وفاقی حکومت نے پنجاب اسمبلی کی مذکورہ قرارداد کی روشنی میں جو قومی کمیشں تشکیل دیا ہے ‘اس کا یہ مینڈیٹ ہی نہیں کہ وہ نئے صوبوں کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ وہ ایک یا دو ہوں یا پھر یہ کہ کسی اور صوبے کے اندر نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں کیونکہ آئین کی رو سے وفاق نئے صوبوں کے قیام کیلئے تب ہی اقدام کریگا جب متعلقہ صوبے کی اسمبلی کی طرف سے سفارش سامنے آجائے۔ اب جب خیبرپختونخوا کی اسمبلی نے اسے یہ مینڈیٹ ہی نہیں دیا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کی تقسیم کیلئے کام کرے تو وہ کس مینڈیٹ کے تحت ہزارہ صوبے کی سفارش سامنے لائی ہے۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی نے وفاق سے صرف یہ سفارش کی ہے کہ وہ بہاولپور کو بحال اور جنوبی پنجاب کو تشکیل دے کر ان کے اور وسطی پنجاب کے مابین وسائل کی تقسیم کا فارمولا طے کر لے لیکن وہ دو صوبوں کی بجائے یہ ایک نیا صوبہ بنانے چلی ہے ۔ صوبائی اسمبلی نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے نام تجویز کئے ہیں اور کمیشن دو صوبوں کو ملا کر بے جے پی کے نام سے ایک نئے صوبے کا تصور سامنے لایا ہے۔ اب یہ پنجاب کے عوام اور پنجاب اسمبلی کی توہین نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر اسی طرح چند افراد کی خواہشات اور سیاسی ضرورتوں کے تحت نئے صوبوں کی تشکیل کا سلسلہ چل پڑا تو پھر یہ کہاں جا کر رکے گا؟ ایک علاقہ جس سے کسی صوبائی اسمبلی کا کوئی تعلق نہیں اور جو براہ راست وفاق کے زیرانتظام ہے ‘ فاٹا کا ہے جو نہ صوبہ ہے‘ نہ ضلع اور نہ وہاں کی منتخب اسمبلی ہے۔ کمیشن نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے یا الگ صوبہ بنانے کیلئے تو کوئی تجویز نہیں دی ہے لیکن پنجاب کی منتخب اسمبلی کی سفارش کے برعکس اپنی مرضی کے مطابق پنجاب کی تقسیم کی سفارش کردی ہے۔ ”جرگہ“ کے قارئین جانتے ہیں کہ میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کا حامی ہو کر بھی اس وقت نئے صوبوں کے قیام کا پنڈورا باکس کھولنے کا حامی نہیں تھا اور جب محمد علی درانی نے بہاولپور صوبے کیلئے صدا بلند کی تو بنیادی تصور کا حامی ہوکر بھی میں نے اس بنیاد پر مخالفت کی کہ یہ وقت اس طرح کے کاموں کیلئے سازگار نہیں لیکن جب پنجاب اسمبلی ‘جو اس کام کیلئے متعلقہ اور مناسب فورم ہے‘ نے قرارداد منظور کی تو میں نہ صرف حامی بن گیا بلکہ یہ بھی عرض کرنے لگا کہ اب اسکی حمایت آئین اور قانون پر یقین رکھنے والے ہر جمہوریت پسند کا فرض ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت پنجاب کے اندر نئے صوبوں کے قیام میں مخلص ہے اور نہ مسلم لیگ (ن) کی۔ ہم جانتے ہیں کہ ابتدا میں دونوں جماعتوں کی قیادت سرائیکی اور بہاولپور صوبے کی مخالف تھیں۔ مسلم لیگ (ن) کو مشکل میں ڈالنے کے لئے پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب کا نعرہ بلند کیا۔ جواب میں پیپلز پارٹی کے پھیلائے ہوئے جال سے اپنے آپ کو نکالنے کے لئے مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے بادل نخواستہ بہاولپور صوبے کی حمایت کردی نتیجتاً دونوں اپنی اپنی چال کا شکار ہوکر ایک دوسرے کی جال میں پھنس گئے۔ اسی لئے دونوں نے پنجاب اسمبلی میں دو صوبوں کی قرارداد کی حمایت کردی ۔ اب اگر پیپلز پارٹی کی قیادت نئے صوبوں کے قیام میں مخلص ہوتی تو سیاسی ڈرامہ بازی کے بجائے پنجاب اسمبلی کی قرارداد پر من وعن عمل کرتی اور اگر مسلم لیگ(ن) کی قیادت مخلص ہوتی تو پارٹی میں نئے آنے والوں سے بہالپور اور سرائیکی صوبے کی حمایت سے دستبرداری کے وعدے لینے کے بجائے صوبائی اسمبلی کی قرارداد پر عملدرآمد کے لئے زور ڈالتی تاہم ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اب وہ کوئی بھی حربہ استعمال کر لیں بہاولپور اور سرائیکی صوبوں کے قیام کا راستہ نہیں روک سکیں گے۔ جس طرح سرحداسمبلی کی قرارداد سیاسی قیادت کے گلے کا طوق بن گئی تھی اسی طرح پنجاب اسمبلی کی قرارداد سے اب مفر ممکن نہیں ۔ بہتر یہی ہے کہ دونوں جماعتوں کی قیادت سیاسی ڈرامہ بازی چھوڑ کر پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے مطابق بہاولپور اور سرائیکی (پنجاب اسمبلی کو چاہئے کہ وہ جنوبی پنجاب کے بجائے سرائیکستان کے حق میں ترمیمی قرارداد منظور کرلے) کے قیام کے لئے اقدامات کرے۔ قومی کمیشن کی سفارشات پنجاب اسمبلی کی سفارشات کے منافی ہی نہیں ناقابل عمل بھی ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ایک بڑے فساد کا راستہ کھل سکتا ہے ۔ میانوالی اور بھکر کو اس میں شامل کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نیا صوبہ لسانی بنیادوں پر بنایا جارہا ہے ۔ اب اگر لسانیت بنیاد بنے تو پھر ڈی آئی خان کو پختونخوا سے کاٹ کر اس میں شامل کرنا ہوگا پھر تو کراچی اور حیدرآباد کے لوگ بھی لسانی بنیادوں پر نئے صوبے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ ہزارہ کے ساتھ پھر چترال کے لوگ بھی نیا صوبہ مانگیں گے۔ بلوچستان کے اندر تو پختون کب سے اپنے لئے لسانی بنیادوں پر الگ صوبہ مانگ رہے ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کے حق میں سب سے مضبوط دلیل صوبائی دارالحکومت سے دوری کی دی جاتی ہے لیکن بھکر اور میانوالی کا بہاولپور سے فاصلہ تو اس سے کئی گنا زیادہ ہے جو لاہور اور ان اضلاع کے مابین ہے ۔ بی جے پی کی صورت میں بہاولپور کے لوگ مطمئن نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اپنے صوبے کی بحالی چاہتے ہیں اور جب بہاولپور دارالحکومت بنتا ہے تو ملتان کے لوگوں کو اسی مشکل کا سامنا کرنا ہوگا جو انہیں لاہور کے ساتھ پیش آرہا ہے اور اگر ملتان دارالحکومت بنتا ہے تو بہاولپور کے لوگ پھر تخت لاہور کی بجائے تخت ملتان کی زیادتیوں کا رونا روئیں گے۔ نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں لیکن تب جب متعلقہ اسمبلیاں سفارش کریں اور صرف اس شکل میں‘ جس شکل میں وہ تجویز کریں۔
تازہ ترین