آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مغربی سماج کی ایک خوبی ہے کہ وہاں کوئی بھی مسئلہ ہو اُس کے حل سے لے کر رائے زنی تک اُس شعبے کے ماہر سے رجوع کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے سماج میں بالعموم کسی بھی بندے کی شہرت یا پھر طاقت کو مہارت کا نعم البدل خیال کیا جاتا ہے۔ معاشرے کے کچھ نامور افراد یا شخصیات کو تو گویا ’’ہرفن مولا‘‘ خیال کیا جاتا ہے اور وہ بھی اپنے تئیں خود کو ایسے ہی تیس مار خاں سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی بھی مسئلہ ہو یہ آل راؤنڈرز چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

حالیہ دنوں ہمیں کرکٹ کا بخار بہت برُی طرح چڑھا ہوا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ انڈین ٹیم نے ہمارا وہ ٹائیفائیڈ اپنی بلے بازی سے چند گھنٹوں میں اتار پھینکا۔ درویش کی کرکٹ سے دلچسپی کم ہے مگر جب پوری قوم اس کے نشے میں جھوم رہی ہو تو قوم کی محبت سے سرشار کوئی فرد خود کو اس گہماگہمی سے کس طرح الگ تھلگ رکھ سکتا ہے۔ ایک محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے اس درویش کی بھی یہ تمنا ہوتی ہے کہ بیشتر میچوں میں جیت میرے ملک کی ہو بالخصوص جب معرکہ اپنے روایتی حریف بھارت کے ساتھ ہو۔ یہاں تک تو بات درست ہے لیکن پروپیگنڈے کی خوفناک مہم یہاں تک رہتی نہیں ہے۔ قومی سطح پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کفر اور ایمان کی جنگ چھڑ گئی ہے۔

اس ’’دو قومی نظریے کی لڑائی‘‘ میں وہ بندہ پکا بے ایمان کہلاتا ہے جو بھارت کو برُا بھلا نہ کہے۔ ہر جگہ دعائیں مانگی جا رہی ہوتی ہیں کہ پاک پروردگار مسلمانانِ پاکستان کی ٹیم کو کامیابی و کامرانی دلوانا۔ اپنی غیبی طاقتوں سے ان کی امداد کرنا۔ گویا یہ کرکٹ کا کھیل نہ ہوا حق و باطل کا معرکہ برپا ہوگیا۔ ویسے تو ہمارا ایک طبقہ کرکٹ کو لہو و لعب کے معنوں میں بیان کرتا ہے لیکن جس روز ٹاکرا پاک بھارت کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہوتا ہے اُس روز یہ بھی بچوں کو آیت کریمہ پر بٹھا دینا چاہتے ہیں مگر کیا کریں کہ وہ بچے بھی بھاگ بھاگ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے پاکستانی ٹیم کو انڈین کرکٹ ٹیم کے بالمقابل کامیابی مل گئی، ٹی وی چینلز نے تو جو شادیانے بجائے سو بجائے اگلے روز کے اخبارات کی سرخیاں دیکھنے کے قابل تھیں۔ شاہینوں نے بھارتی چوہوں کو بِلوں میں گھسا دیا۔ ہمارے ایک قومی روز نامے نے سرخی جمائی کہ پاکستان نے پوری دنیا میں بھارت کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ ناچیز نے چیف ایڈیٹر صاحب سے شکایت کی تو فرمانے لگے کہ ہاں احتیاط کی جانا چاہئے مگر یہ عوامی جذبات ہوتے ہیں۔ درویش بارہا خود کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے اور آج اپنے معزز قارئین کی خدمت میں رکھ رہا ہے کہ کوئی شخص جو قوم پرستی کے بجائے انسانیت نوازی کی سوچ کا علمبردار ہو اُسے ایسی صورتحال میں کیا اظہارِ خیال کرنا چاہئے؟ حب الوطنی کا تقاضا تو یہی ہے کہ وہ بھی اسی احمقانہ جذباتی ریلے میں بہہ جائے تاکہ اس کی حب الوطنی کو کوئی ٹھیس نہ لگے۔ لیکن بھائیو اور بہنو! ضمیر نامی چیز کی بھی کوئی اہمیت ہے یا نہیں؟ جو اندر ہی اندر سے یہ پکارتا ہے کہ اس بپھری ہوئی جذباتی انتہا پسندی کو قابو میں لانے والی ایک ہی مہمیز ہے کہ اے مخالف ٹیم کے نوجوانو! اس شدت پسندی کو تمہی لگام ڈال سکتے ہو۔ جذباتیت کی سب سے بڑی تباہ کاری شعور سے بے اعتنائی ہے، مت ماری جاتی ہے اور انسان دماغ رکھتے ہوئے بھی درست فیصلے نہیں کر پاتا۔ باہر کھڑے تماشائی کی کارفرمائی بے وجہ زور لگا رہی ہوتی ہے کہ دیکھو ریلو کٹوں کو پیچھے دھکیلو۔ بیٹنگ پہلے اور فیلڈنگ بعد میں مگر یہ تو وہ باتیں ہیں جن کی سمجھ بوجھ اس گیم کے اناڑیوں کو بھی ہے، کھلاڑیوں کو تو اس نوع کی منصوبہ بندی، سمجھ بوجھ یا فہم و فراست بہت پہلے سے ہونا چاہئے۔

درویش نے تو سابق حکومت کو یہ مشورہ دیا تھا کہ کرکٹ کے سب سے بڑے کھلاڑی کو اس شعبے کا سب سے بڑا عہدہ دے دیا جائے تاکہ وہ اس میں اپنی قابلیت و مہارت کا لوہا منوا سکے۔ حکومت کے اِس فیصلے کہ علاقائی کرکٹ کو فروغ دینے کے لئے ادارہ جاتی سرپرستیوں کو آؤٹ کر دیا جائے، پر اس کھیل سے دلچسپی یا درد مندی رکھنے والے بہت سے ماہرین تلملا اٹھے ہیں کہ رحم رحم جہاں پناہ رحم۔ امید ہے کہ اس خاص مسئلے پر ’’شاہِ کرکٹ‘‘ کو رحم ضرور آئے گا کیونکہ قوم نے خواستہ و نخواستہ ان کے پارٹی نشان کو اپنا قومی نشان مان رکھا ہے لیکن درویش کی آرزو ہے کہ کھیل کو کھیل ہی رہنے دو اسے روزی روٹی، دین ایمان یا حکومت و اقتدار کا مسئلہ نہ بنائو۔ ساون کے اندھوں کو جس طرح ہمہ وقت ہریالی ہی دکھتی ہے اسی طرح کئی جلے بھنے پاکستانی کرکٹ کی قومی جیت کے خیال سے بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ خدا سمجھ بوجھ کے ساتھ سب کو ہدایت نصیب فرمائے۔ اس دعا کے ساتھ کہ اگرچہ کرکٹ اتفاقات کا کھیل ہے مگر پوری دنیا میں وہ ٹیمیں جیتیں جو اچھا کھیلیں۔ ہم اپنی قومی جیت کے لئے کسی اہل اور حقدار کا حق مارنے کی ترغیب دینے سے باز رہیں۔ کرکٹ اور دیگر کھیلوں کو اقوام عالم میں دوستی، بھائی چارے، محبت اور اپنائیت کا باعث ہونا چاہئے ناکہ منافرت و انتہا پسندی پھیلانے کا ذریعہ۔

کرکٹ ڈپلومیسی جس طرح حریف ممالک میں جنگوں کو ٹالنے کا باعث بنتی رہی ہے اسی طرح یہ امن و سلامتی اور بہترین سماجی و سیاسی اور معاشی تعلقات کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اس بہانے سے اقوام و ممالک کے درمیان ہی نہیں عوام الناس میں بھی ملنے ملانے کے مواقع میسر آتے ہیں جو دوستی و محبت کا زینہ ثابت ہو سکتے ہیں لیکن اس کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے لہٰذا درویش کی اپنے میڈیا کے ذمہ داران کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ کھیلوں کو اقوامِ عالم میں بالعموم اور پاک ہند تعلقات کے لئے بالخصوص امن، دوستی، محبت اور اپنائیت کا ذریعہ بنا کر پیش کریں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)