آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اپوایوکےکی تنظیم نو، سیمی اعوان چیئرپرسن منتخب، پاکستانی خواتین کی مددکرنےکا عزم

لندن(آصف ڈار) برطانیہ میں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن یو کے (اپوا) کی تنظیم نو کردی گئی ہے اور سیمی اعوان کو اس کا نیا چیئرپرسن بنا دیا گیا ہے۔ جبکہ صائمہ اللہ اس تنظیم کی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئی ہیں اس کے دیگر عہدیداروں میں عالیہ افضل خان،عطیہ تھانوی وحیدہ شاہ اور رخسانہ قاضی شامل ہیں، نئی تنظیم کے زیر اہتام ایک عید ملن تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں خواتین اور کمیونٹی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر محفل موسیقی کا پروگرام بھی ہوا جبکہ پاکستان میں خواتین کی امداد کے لئے بعض اشیاء کی نیلامی بھی کی گئی۔ اس موقع پر جیولری اور کپڑوں کے سٹالز بھی لگائے گئے تھے۔ اپوا یو کے کی چیئرپرسن سیمی اعوان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوا یو کے کو بہترین انداز میں چلانے کے لئے اس میں نوجوان نسل کو شامل کرنا ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئی تنظیم کی ٹرسٹیز کے اکثریت نوجوان خواتین پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ تنظیم 1949ء میں رعنا لیاقت علی خان نے قائم کی تھی

اور اس کا مقصد پاکستانی خواتین کی مدد کرنا تھا جبکہ برطانیہ میں قائم کی گئی تنظیم نہ صرف پاکستان میں لڑکیوں کے سکولوں اور ہسپتالوں کے لئے فنڈز فراہم کرتی ہے بلکہ برطانیہ کے اندر موجود پاکستانی خواتین کی بھی بھرپور انداز میں مدد کرتی ہے۔ عالیہ افضل خان، وحیدہ شاہ اور صائمہ اللہ نے بتایا کہ اپوا یو کے کے زیر اہتمام ہر سال چار امداد ی پروگرامز کرائے جائیں گے جن کا مقصد پاکستان کی نادار خواتین اور سکولوں کے لئے فنڈز جمع کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوا برطانیہ میں بھی خواتین کو قانونی مدد فراہم کرتی ہے اور جہاں ضرورت ہوتی ہے ان کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستانی اور مسلمان خواتین کو حقوق دلانے کے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسوقت صورتحال یہ ہے کہ اسلامی نکاح تک کو برطانوی نظام میں قانونی قرار نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ میں اس طرح کے لیگل امور پر کام کررہی ہیں۔ تقریب میں سعید اعوان، سید قمر رضا، عمر منصور اور دیگر کمیونٹی شخصیات نے بھی شرکت کی۔

یورپ سے سے مزید