آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کوپن ہیگن (پ ر) شہدائے ماڈل ٹائون کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اور ان کے ورثا کو انصاف دلانے کی خاطر منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک کے سالانہ پروگرام کا آغاز علامہ عتیق احمد ہزاروی نے آیات بینات سے کیا، راجہ عمران اور حمزہ یوسف نے نعت کے گلدستے پیش کئے۔ اس سے قبل شہدا کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی بھی کی گئی تھی۔صدر منہاج القرآن ڈنمارک نے خطبہ استقبالیہ میں پاکستان کے نظام عدل پہ سوال اٹھایا کہ پاکستان کا بچہ بچہ ٹی وی پہ قاتلوں کو دیکھتا اور جانتا ہے لیکن معزز عدالتیں پانچ سال گزر جانے کے بعد کسی فیصلہ تک پہنچنے سے قاصر کیوں؟ صدرمنہاج القرآن ویمن لیگ ڈنمارک اور نائب صدرمنہاج ویمن لیگ یورپ ڈاکٹر شازیہ رانا نے کہا کہ عجب نظام ہے ہمارے 14قتل اور سو کارکن زخمی ہوئے لیکن نظام عدل نے الٹا ہمارے ہی سیکڑوں کارکنان کو پانچ اور سات سالہ سزائیں سنادیں۔ امانت علی چوہدری نے کہا کہ مظلوموں کا خون قاتلین کو فرار نہیں ہونے دے گا اور انصاف ہوکے رہے گا۔مجیب الرحمن قریشی، صدر پاکستان پیپلز پارٹی ڈنمارک نے کہا کہ مقتولین کی تحریک نے موجودہ حکومت میں بھرپور ساتھ دیا لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے شہدا کو انصاف دلانے کے وعدوں پہ الیکشن جیت کر اس معاملے کو سرد خانے ڈال دینا افسوسناک ہے۔ مدثر وسیم

ایڈووکیٹ، لیگل ایڈوائزر پاکستان کمیونٹی فورم ڈنمارک نے کہا کہ ہمارا نظام عدل غریب کے حق میں کمزور اور اشرافیہ کے تحفظ میں متحرک ہے مقام افسوس ہے کہ پانچ سال گزر جانے کے بعد بھی 14 شہیدوں کے ورثا دربدر ہیں۔ معروف مصنف اسلم علی پوری نے کہا کہ ہم زندوں پر ان شہیدوں کے لئے انصاف کی آواز بلند کرنے کا قرض ہے ڈائریکٹر منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک مفتی ارشاد حسین سعیدی نے کہا کہ یوں تو ہرقتل قابل مذمت ہے لیکن یہ 14 قتل اس لئے سنگین ترین ہیں کہ انکو حاکم وقت نے قتل کیا اور اس پر ریاست خاموش اور نظام عدل گونگا بن چکا ہے۔ لیکن سلام ہے ان کارکنوں پر جنہوں نے اپنے عزیزوں کا خون بیچنا تو ایک طرف آج تک کوئی کمزور بیان تک نہیں دیا۔ ویسے تو موجودہ حکومت کا بطور حکومت بھی مظلوموں کو انصاف دینا فرض ہے لیکن آپ نے نہ صرف الیکشن دیگر وعدوں کے علاوہ ان شہدا کو انصاف دینے کے وعدوں پر جیتا ہے بلکہ ان وعدوں کے بدلے لاکھوں ووٹ بھی وصول کیے، خدارا انصاف کریں اس سے قبل کہ شہدا کے ورثا کا پیمانہ لبریز ہوجائے پھر معاملہ آپ سے سنبھالا نہ جائے گا۔صدر مسلم لیگ ق ڈنمارک راجہ شوکت نے کہا کہ یہ دن پاکستان کی تاریخ کبھی بھول نہیں پائے گی، ہم سب جس پوزیشن پر بھی ہیں جس جماعت میں بھی ہیں اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ان شہدا کے لئے صدائے احتجاج بلند کرنا ہوگی۔ مسلم لیگ ق یہ فرض ادا کرتی رہے گی۔ محمد جاوید آرائیں سیکرٹری جنرل آرائیں کونسل ڈنمارک نے کہا کہ 17 جون کے دن ٹی وی پر خواتین اور بزرگوں پر لاٹھی چارج اور ڈائریکٹ فائرنگ دیکھ کر سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر ان کا قصورکیا ہے اور یہ کرب اب تک قائم ہے کیونکہ ان مظلوموں کو انصاف نہیں ملا سید اعجاز حیدر شاہ بخاری نے کہا کہ اے پی سی نے مظلوموں کے لئے انصاف کی جدوجہد کو اپنایا نتیجہ صفر، چیف جسٹس نے ایک ماہ میں انصاف کا وعدہ کیا، نتیجہ صفر، نئی حکومت نے نئی جے آئی ٹی بنائی نتیجہ صفر، آخر کون بچارہا ہے قاتلوں کو؟ پروگرام کے مہمان خصوصی، سابق نائب ناظم اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل اور موجودہ ڈائریکٹر منہاج القرآن جرمنی سید فرحت حسین شاہ نے کہا کہ یوں تو شہدا کا دکھ بھی عظیم ہے لیکن جو اپاہج کردیئے گئے، بے روزگار کردیئے گئے، یتیم بچوں اور بیوہ ہونے والی خواتین جس رنج و الم سے گزررہے ہیں اس کا بدلہ شریف خاندان کو جلد یا بدیر چکانا ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں