آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
تحریر:سید علی جیلانی…سوئٹزرلینڈ
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ عوام نے دیکھا کہ ائرپورٹ پر ایک شخص کمانڈوز کی سیکورٹی میں لائونج سے باہر آرہا ہے ہر کوئی سمجھا کہ یہ یا تو وزیراعظم ہے، صدر ہے یا کوئی وزیرہے جب لوگوں نے ذرا قریب ہوکر دیکھا تو حیران ہوگئے کہ یہ تو کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی تھے جوکہ سیکورٹی کے اتنے سخت حصار میں آرہے تھے کیونکہ آفریدیT20کا ورلڈ کپ ہار کر واپس آرہے تھے اور ڈر تھا کہ عوام ان کا استقبال ٹماٹروں سے نہ کرے، پھر بھی شیم شیم کی آوازیں فضا میں گونج رہی تھیں کیونکہ ہماری کرکٹ ٹیم نے بے انتہا خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور غیرذمہ دارانہ بیٹنگ وہ تو ہمیں ورثہ میں ملی ہے بال کو سمجھنا نہیں ہے ہمیشہ چوکا اور چھکا لگانے کا سوچنا ہے اور جلد پویلین میں لوٹ کر جانا ہے اور گپیں لگانی ہیں دوسرے دن سے معافی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ سب سے پہلے وقار یونس نے معافی مانگی پھر شاہد آفریدی نے بھی ہاتھ جوڑ کر قوم سے معافی مانگ لی لیکن پھر تمام پاکستانی قوم نے ہاتھ جوڑ کر آفریدی سے کہا کہ آپ ہماری جان چھوڑدیں اب بہت ہوگیا آخر بڑی مشکل سے آفریدی نے قومی ٹیم کو چھوڑا۔ اب وہ ہی تاریخ سرفراز کی قیادت میں قومی ٹیم دھرا رہی ہے۔ ورلڈ کپ 2019ء میں وہ ہی خراب کارکردگی، غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ،

فیلڈنگ، وکٹ کیپنگ، کیچ ڈراپ کرنا وغیرہ وغیرہ، مکی آرتھر کا رویہ کھلاڑیوں کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے۔ سرفراز کی کپتانی سے بھی کھلاڑی مطمئن نہیں ہیں۔ جب بھی بھارت سے میچ ہوتا ہے بس دو چار دن پہلے گونج سنائی دینا شروع ہوجاتی ہے کہ بھارت سے ہر حالت میں میچ جیتنا ہے قومی نغمے بجنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جب یہ ٹیم میدان میں اترتی ہے تو وہ ہی ’’تو چل میں آیا‘‘ کی روایت برقرار رہتی ہے اور یکے بعددیگر بیٹسمین آئوٹ ہونا شروع ہوجاتے ہیں یہی کچھ اس مرتبہ بھارت کے ساتھ میچ میں ہوا۔ پاک، بھارت حالات، تنائو اور خاص کر موجودہ جنگی ماحول میں اس میچ کی اہمیت اور سنسنی خیزی عام حالات سے بڑھ کر تھی لیکن سرفراز الیون نے اس طرف توجہ نہ دی اور قوم کو مایوس کیا اور بھارت کے ساتھ میچ میں حکمت عملی کا فقدان نمایاں رہا۔ سرفراز تو ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں پر برس پڑے اور کہا کہ اگر ٹیم کے ساتھ اگر کچھ ہوا تو سب کچھ بہہ جائے گا اور میں اکیلا نہیں جائوں گا بلکہ چند کھلاڑیوں کو بھی میرے ساتھ گھر جانا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ ہوا اس کو بھول جائیں اور اگلے چار میچوں میں اچھی کارکردگی دکھائیں۔ ابھی تک قوم کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ 50اوورز بہت ہوتے ہیں اور اگر ہمارے کھلاڑی شروع میں سنگل پر توجہ دیں اور کوئی بھی لوز بال آئے تو اس پر چوکا یا چھکا لگائیں تو ہر میچ میں آپ بڑا اسکور کرسکتے ہیں اگر بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کا میچ آپ دیکھ لیں تو اتنا بڑا اسکور بنگلہ دیش نے بنایا اور ویسٹ انڈیز سے میچ جیتے۔ ہمیشہ ایک اچھی حکمت عملی بنانی پڑتی ہے لیکن لگتا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں آپس میں کمیونیکیشن کا فقدان ہے یہ لوگ آپس میں میچ سے قبل بیٹھتے نہیں ہیں کوئی پلاننگ نہیں کرتے ہر کرکٹر اپنی سوچ اور سمجھ سے کھیلتا ہے۔ ہار کی ذمہ داری صرف کپتان پر نہیں ڈال سکتے بلکہ یہ پوری ٹیم پر ہوتی ہے۔ کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے اور ہمیشہ یہ بھی نہیں سوچنا چاہئے کہ ہم جیتیں گے لیکن جس غیرذمہ داری سے کھیلتے ہیں اس پر افسوس ہوتا ہے۔ کرکٹ ایک فائٹ کرنے کا کھیل ہے اور کوئی ایک بیٹسمین بھی وکٹ پر کھڑا ہوجائے تو کھیل کا پانسہ بدل دیتا ہے اور ہارا ہوا میچ اپنے نام کرالیتا ہے اور ٹیم کو جتوا دیتا ہے اصل میں احساس بڑی چیز ہے ہر بیٹسمین کو پتہ ہونا چاہئے کہ وہ گلیوں میں سڑکوں پر نہیں کھیل رہا ہے بلکہ اپنے ملک کی قومی ٹیم میں کھیل رہا ہے اور پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں لاکھوں آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں اور بعض مرتبہ تو مخالف ٹیم کے کھلاڑی بھی ہمارے غیرذمہ دارانہ آئوٹ ہونے پر ہنس رہے ہوتے ہیں۔ یہ ذمہ داری کرکٹ بورڈ اور سلیکٹرز پر بھی عائد ہوتی ہے کہ جو کھلاڑی بھی پرفارمنس نہیں دے رہا ہے اس کو ٹیم سے نکالیں اسکو بار بار چانس دے کر ٹیم کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے۔ اب بار بار تجربے کا وقت گزر گیا اب عملی اقدامات کرنے کا ٹائم ہے اور سارے فیصلے صرف اور صرف میرٹ پر کرنے ہونگے۔ کرکٹ میں بھی بڑی سیاست بازی، کرپشن اور سازشیں ہیں، اصل میں ہمیں احساس ہورہا ہے کہ کرکٹ میں کیوں تباہی ہورہی ہے اگر پاکستانی سیاستدانوں پر نظر ڈالیں وہ جتنی کرپشن کرلیں دولت لوٹ لیں ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے حلال و حرام کی تمیز مٹ چکی ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے یہ سکھایا ہے کہ ملکی دولت لوٹو اور عیش کرو مگر ملک کا نہ سوچو پھر ہم پاکستانی کرکٹ ٹیم سے کیسے امید رکھیں گے کہ وہ ملک کے لئے کھیلیں گے۔ کھلاڑی بھی دولت بنانے کے چکر میں رہتے ہیں بھلے وہ سٹے یا جوئے سے حاصل ہو۔ بنگلہ، گاڑی عیش و عشرت کی زندگی ہو ملک کا نام روش کرنے سے ہمیں کیا ملے گا اگر ہمارے یہاں قانون کی صحیح حکمرانی ہوتی تو پاکستانی سیاست بھی اچھی ہوتی ملک بھی ترقی کرتا اور کرکٹ ٹیم پر بھی زوال نہیں آتا اگر پاکستان میں سفارشی لوگوں کا برسراقتدار آنا بند ہوجائے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا بند ہوجائے، کرپشن ختم ہوجائے اور ہر محکمے میں میرٹ پر فیصلے ہوں تو پاکستان کو دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل ہوجائے۔ جس طرح نیک اور پڑھے لکھے سیاستدانوں کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اچھے نئے ٹیلنٹڈ کھلاڑیوں کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی ان میں جذبہ اور ایمانداری سے کام کریں اگر اس ورلڈ کپ میں کوئی کھلاڑی یا بورڈ کا کوئی عہدیدار سازش میں ملوث ہے تو اس کو سخت سزا دینی چاہئے۔ بہت ضروری ہے کہ پہلی تبدیلی قومی اکیڈمی اور قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں ہونی چاہئے کرکٹ میں بھی احتساب کا نظام لائیں۔ آسٹریلیا کی طرح پروفیشنل ازم اور آسٹریلیا کی طرح کے کوچنگ اسٹاف کو بھی لائیں، قومی ٹیم میں کارکردگی کی بنیاد پر ایسا کوچنگ سسٹم ہو جس میں سزا اور جزا کا نظام بھی ہو۔ پاکستانی قوم محنتی، جفاکش، بہادر اور ہمت والی قوم ہے اور ہر میدان میں پاکستانی قوم نے اپنے آپ کو منوایا ہے اور پاکستانی قوم کے کئی بیٹوں اور بیٹیوں نے دنیا میں مقام حاصل کیا ہے۔ پاکستانی شاہنیوں سرفراز الیون بس اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا چار میچ ہیں جان کی بازی لگادو، جان لڑادو ایک دوسرے کو ہمت دو، حکمت عملی بنائو، پلاننگ کرو قوم تمہارے لئے دعا کررہی ہے اس وطن کا نام تم نے روشن کرنا ہے گر کر پھر اٹھنا ہے یہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سیکھا ہے کہ ہارنے کے بعد مایوس نہ ہو۔ خدا پر بھروسہ کرکے ہمت کرو اور ہر کھلاڑی تحمل سے وکٹ پر کھڑے ہوکر جذبہ حب الوطنی سے کھیلے انشاء اللہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی اور تم ورلڈ کپ 2019ء کے ساتھ وطن واپس لوٹو گےاور پاکستانی قوم اپنے شاہینوں اور قومی ہیروز کا استقبال پھول نچھاور کرکے کرے گی۔

یورپ سے سے مزید