آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسپیکر نے حمزہ شہبار کو اسمبلی میں بلا کر اپوزیشن کو خاموش کردیا

مقصود اعوان، لاہور

ملک میں ماضی میں تین چار دہائیوں سے برسراقتدار رہنے والی دوبڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت نے ’’شریف‘‘ اور ’’زرداری‘‘ خاندانوں کی اہم ترین شخصیات کی گرفتاریوں کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلانے کی بھرپور تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر مملکت آصف علی زرداری ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتاریوں نے دونوں متحارب بڑی سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو کر پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر و سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھٹو کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ جاتی عمرہ رائے ونڈ فارم پر ظہرانہ دیا جس میں دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنما بھی شریک ہوئے اس موقع پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت نے آئین اور پارلیمان کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے، وفاقی بجٹ کی منظور ی روکنے اور حکومت کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ملک گیر جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا ۔بلاول زرداری بھٹو نے مریم نواز سے ون آن ون ملاقات کے بعد لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد آصف علی زرداری کے آبائی شہر نواب شاہ سے 21جون کو حکومت کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے تحریک شروع کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ اس ملاقات میں دونوں جماعتوں کی نوجوان قیادت کے جے یو ا ٓئی سمیت دوسری اپوزیشن اور دینی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کےلئے ان سے رابطوں کو تیز کرنے کے علاوہ تاجر ،مزدور، وکلاء تنظیموں بالخصوص علماء کرام کو حکومت کے خلاف تحریک کا حصہ بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا پہلے مرحلے میں وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کے نفاذ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے عذاب سے تنگ عوام کو سڑکوں پر لایا جائے گا اگر اس میں اپوزیشن کو اس کی توقعات کے مطابق کامیابی نہ مل سکی تو علماء اور تاجروں کو میدان میں اتارا جا سکتا ہے اور اس تحریک کو وزیراعظم سمیت بعض وزراء کے مذہب کے بارے متنازعہ بیانات کو جواز بنا کر مذہبی رنگ بھی دیا جاسکتا ہے اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو دینی قوتوں سے رابطوں کا ٹاسک دیئے جانے کا امکان ہے ۔ اس کے علاوہ دونوں اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمینٹ کے اندر بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی منصوبہ بندی کی ہے اس حوالے سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور بلاول زرداری بھٹو نے خورشید شاہ، شاہد خاقان عباسی، سردار ایاز صادق، خواجہ آصف ،رانا ثناء اللہ، سید یوسف رضا گیلانی ، راجہ پرویز اشرف جیسے سرکردہ اراکین کو حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ایسے اراکین پارلیمینٹ سے رابطے کرنے کی ذمہ داری سوپنی ہے جو حکمران جماعت کی پالیسیوں سے نالاں ہیںتاکہ ان کی کسی نہ کسی طرح حمایت حاصل کرکے حکومت کے وفاقی بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ ڈالی جاسکے۔سوموار کو وزیراعظم کی صدارت میں اجلاس میں اپوزیشن کو ہر محاذ پر بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کا سارا فوکس ملک کی کھربوں روپے کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانا اور بڑے بڑے قومی لٹیروں کی کرپشن کو بے نقاب کرکے انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنا ہے اس حوالے سے آئندہ چند ہفتوں میں مزید بڑے بڑے سیاست دان، بیوروکریٹس احتساب کی زد میں آنے و الے ہیں اس ضمن میں وزیراعظم اور ان کے رفقاء عوام تک یہ پیغام پہنچانے میں بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں کہ شریف زرداری خاندان جن کیسوں میں گرفتار ہوئے یہ انہی دونوں پارٹیوں کے دور حکومت میں ایک دوسرے کے خلاف بنائے گئے تھے اور آج ملک کو جن اقتصادی ،معاشی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے اس کی وجہ ماضی کے یہ حکمران خاندان اور اشرافیہ ہے جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں لوٹ مار کا نظام قائم رکھا ۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے بارے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ 2018ء کے انتخابات تک تین دیہائیوں تک دونوں متحارب سیاسی جماعتوں کے قائدین جو انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کے خلاف زہر اُگلتے رہے چند مہینوں میں ان کے منہ سے پھول کیسے جھڑنے لگے ہیں ۔ عوامی حلقے موجودہ اَبتر معاشی صورت حال میں بڑے پریشان ہیںان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خاں اب باتوں کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کے عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ عوام کے دکھوں کا جلد مداوا ہو سکے، جس کا وعدہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے انتخابی مہم میں کیا تھا۔ پنجاب میں صوبائی بجٹ 2019-20ء پر بحث شروع ہو گئی ہے قائدحزب اختلاف میاں حمزہ شہباز شریف نے بحث کا آغاز کیا ۔بجٹ اجلاس سے قبل نیب نے میاں حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کرکے ان کا احتساب عدالت جسمانی ریمانڈ لے لیا اس صورتحال میں اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں قائدحزب اختلاف کی گرفتاری کو جواز بنا کر ایوان کے اندر اور باہر زبردست احتجاج کرنے کی منصوبہ بندی کی لیکن اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی کے برعکس اپوزیشن کی درخواست پر قائدحزب اختلاف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرکے اپوزیشن کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا اور یوں صوبائی وزیر خزانہ کو صوبائی بجٹ پیش کرنے میں کسی بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن کی کارروائی صرف نعرے بازی تک محدود رہی ۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی وزیر سبطین خاں کے گرفتار ہونے پر ان کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری کرکے انہیں اجلاس میں بلایا ہے ۔صوبائی وزیر سبطین خاں کی گرفتاری کے بعد اپوزیشن اراکین کا یکطرفہ احتساب کا جواز بھی ختم ہو گیا ہے ۔ صوبائی وزیر سبطین خاں کی گرفتاری کے بعد اگلے مرحلے میں اس کیس کے حوالے سے بڑے بڑے پردہ نشینوں کے بھی گرفت میں آنے کا امکان ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ نیب کب دیگر ملزموں پر ہاتھ ڈالنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ جماعت اسلامی نے اتوار کے روز لاہور سے عوامی مارچ شروع کرکے مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف ملک گیر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید