آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کراچی کے درخشاں ماضی کے پیاؤ اب کھنڈر بن چکے ہیں

اسد احمد خان

کراچی کے درخشاں ماضی کی جھلک پیش کرنے والے جانوروں کے لیے پانی کی سہولت فراہم کرنے والے 100سال پرانے اسٹرکچر ،جنھیں اصطلاحاً پیاؤ کہا جاتا ہے نامناسب دیکھ بھال اور بڑھتی ہوئی پانی کی قلت کی وجہ سے کھنڈر میں تبدیل ہو گئے ہیں۔پانی کی قلت سے دوچار شہر قائدکے مصروف مقاما ت پر اب ان کے آثار ہی باقی بچے ہیں جو تجاوزات کی زد میں ہیں، پارسی کمیونٹی کی شہرکےلیے بے مثال خدمات کی علامت یہ پیاؤ دہائیوں سے خود پانی کو ترس رہے ہیں،کراچی کے معروف اورصاحب ثروت تاجروں نے 1878میں جانوروں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کی روک تھام کےلیے ’’سوسائٹی فار دی پریوینشن آف کریولٹی (ایس پی سی اے) قائم کی تھی، جس کے تحت شہر کے مختلف مقامات پر مال برداری کے لیے استعمال ہونے والے جانوروں گھوڑوں، اونٹوں، گدھوں اور دیگر جانوروںکےلیے پینے کے پانی کےلیے پیاؤ قائم کیے گئے۔ بعض مقامات پر مخیر حضرات نے اپنے مرحومین کے نام پر پانی کی سہولتیں تعمیر کیں، بعض حوالوں کے مطابق شہر بھر میں 30 سے زائد مقامات پر یہ پیاؤ قائم کیے گئے، جہاں پانی کی دستیابی یقینی بنانے اور صفائی ستھرائی کے لیے عملہ بھی تعینات کیا گیا، جس کی تنخواہیں سوسائٹی ادا کرتی تھی۔

1933ء میں جمشید نسروانجی کراچی کے پہلے باقاعدہ میئر منتخب ہوئے، انہیں جدید کراچی کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ 1942ء تک کراچی فقط تین، چار لاکھ افراد کا مسکن تھا۔ شام چار پانچ بجے یہ شہر بند ہو جاتا، بِشتی (سقّے) سڑکوں پر نکل آتے اور سڑکیں دھوئی جاتی تھیں، جرائم کا نام بھی نہ تھا۔ چوری یا راہ زنی کی کوئی واردات ہو بھی جاتی تھی، تو برسوں اس کا چرچا رہتا۔ انگریزوں کے دور میں جہاں صفائی ستھرائی پر توجہ دی گئی، وہیں شہر میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر عوامی بیت الخلا بھی تعمیر کیے گئے۔بار برداری اور سامان ڈھونے کے کام آنے والے جانوروں کے لیے بھی جگہ جگہ ’’پیاؤ‘‘ اور چارہ رکھنے کی جگہ بنائی گئی۔

یہ پیاؤ اس وقت کی مصروف گزرگاہوں پر قائم کیے گئے، جن میں گرومندر تا ٹاور تک کے علاقے شامل ہیں۔ زیادہ تر پیاؤ سایہ دار درختوں کے نیچے پتھروں سے تعمیر کیے گئے بالخصوص تانگہ اسٹینڈ کے قریب قائم ہونے والے پیاؤ تانگوں میں جتے ہوئے گھوڑوں کو سیراب کرنے کا اہم ذریعہ بنے رہے۔ جب یہ تاریخی اسٹرکچر قیام پاکستان کے بعد کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ذمے داری میں شامل ہوگیا، تاہم کچھ ہی عرصہ چلنے کے بعد ان پیاؤ کا انتظام درہم برہم ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بیشتر پیاؤ بند ہو گئے۔ ایک خوبصور ت پیاؤ سولجر بازار جانے والے راستے کے چوراہے پر لب سڑک واقع ہے، تاہم اس پتھروں کے اس پختہ ڈھانچے کے گرد لگنے والے پتھاروں کی وجہ سے اس کے سامنے سے گزرنے والے لاکھوں شہری اس سہولت کی اہمیت اور تاریخی پس منظر سے لاعلم ہیں ۔اس کے اطراف گنے کے جوس کی مشین اور پھلوں کے جوس کے ٹھیلے لگے ہوئے ہیںاور عقبی حصہ میں بھی تجاوزات قائم ہیں۔ کے الیکٹرک نے اس تاریخی پیاؤ کی دیواروں پر بجلی کے میٹر نصب کرکے تجاوزات کو مستقل حیثیت فراہم کردی ہے۔

سولجر بازار میں 1924میں تعمیر ہونے والی یہ سہولت Framroze E. Punthakey سے موسوم کی گئی، جنہوں نے 1878سے 1921تک سوسائٹی کے اعزازی سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں اس عہد کو کراچی کا درخشاں ماضی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ سولجر بازار میں تعمیر ہونے والی پانی کی اس سہولت کا انتظام تین نسلوں سے ایک خاندان کے سپرد تھا ۔وہ برٹش گورنمنٹ کے دورسے اس سہولت کا انتظام چلارہےتھے۔

مخیر پارسی خاندان نے اس مقام پر پانی کی سہولت بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پاکستان آمد پر پانی کے کنکشن اور موٹر نصب کرنے کے علاوہ ڈھانچہ کی مرمت کا کام دوبارہ کروایا انہوں نے اپنے خرچ سے عمارت پر رنگ و روغن کرایا۔

میری ویدر ٹاور سے آگے نیٹی جیٹی پل پر چڑھنے سے قبل فٹ پاتھ پر ایک بے نام سبیل بھی ارباب اختیار اور تہذیبی ورثہ کے قدردانوں کی توجہ کی منتظر ہے چوکنڈی کی قبروں کی بناوٹ سے مشابہت رکھنے والی اس پانی کی سبیل کو فن تعمیر کا شاہکار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، محرابی جھروکے میں پانی کا سوکھا جھرنا کسی وقت بندرگاہ تک باربرداری کرنیوالے جانوروں کو سیراب کرتا ہوگا یا پھر یہاں سے گزرنے والے تھکن سے چور مزدور اپنی پیاس بجھاتے ہوں گے، تاہم کئی دہائیوں تک لاکھوں نفوس کو تروتازہ رکھنے والی یہ سہولت اب خود برسوں سے پیاسی کھڑی ہے، شہر کی اہم ترین شاہراہ پر قائم اس پیاؤ کو بھی بری طرح نظر انداز کیا گیا۔

اس کے چاروں جانب خوبصورت ستون کندہ ہیں، منزل بہ منزل چھت کے نیچے پتھر کی دیدہ زیب جالیاں آج بھی اس خطے کے سنگ تراشوں کی مہارت کا خراج وصول کرتی نظر آتی ہیں، اس کے چاروں جانب خاص ڈیزائن کی چہار دیواری بھی قائم ہے ،جس میں گولائی کی شکل میں نیچے کی جانب محرابیں بنی ہوئی ہیں، پانی کی اس سہولت کے اندر گندے کپڑوں کی گٹھریاں رکھی ہوئی ہیں جو یقینا یہاں شب بسری کرنے والے افراد نے رکھی ہیں ۔درحقیقت یہ اسٹرکچر ایک فراموش کردہ فن پارہ ہے ،جسے بحال کرکے آنے والی نسلوں کو شہر کے شاندار ماضی سے روشناس کرایا جاسکتا ہے۔

گرومندر پر کے ایم سی پارک کے عقب میں قائم 125سال پرانے پیائو سے پانی کی فراہمی اب بھی جاری ہے، خوش قسمتی سے شہر میں موجود واحد سہولت ہے، جس سے پانی کی فراہمی اب بھی جاری ہے۔ یہ سہولت یکم ستمبر 1893 کو دولت مند پارسی شہری Byramji Edulji نے اپنے والدین کے نام سے تعمیر کی، اس سہولت کی دیکھ بھال 81 سالہ عبدالرحمن کررہے ہیںاور انہوں نے ہی کئی مرتبہ منقطع ہونے والا پانی کا کنکشن خود اپنے خرچ پر بحال کرایا۔

اگرچہ پیائو پر درج عبارت میں نہانے اور کپڑے دھونے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، تاہم شہر میں پانی کی قلت کی وجہ سے اس جگہ مزدور اور محنت کش نہاتے ہیں اور چھوٹی

گاڑیاں بھی دھوئی جاتی ہیں۔پانی کا یہ پیائو عام شہریوں کے لیے ایک سہولت ہے۔

کولاچی کراچی سے مزید