آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کا 54واں اجلاس لاہور میں ختم ہوا،تو اجلاس کے اہم نکات میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ مینجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کی سفارشات کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ورلڈ کپ کی شکست کا پوسٹ مارٹم’کرکٹ کمیٹی‘ کریگی۔

ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ آئی سی سی ٹورنامنٹ کے اختتام پر پی سی بی ’کمیٹی‘ بنا کر تحقیقات کرتا رہا ہے،تاہم اس بار یہ ذمہ داری محسن خان کی سربراہی میں کام کرنے والی ’کرکٹ کمیٹی‘ کے سپرد کی جارہی ہے۔

یاد رہے 64سال کے محسن خان کی سربراہی میں کام کرنے والی چار ارکان کی کمیٹی جس میں سابق کپتان وسیم اکرم،مصباح الحق اور خواتین سلیکشن کمیٹی کی سربراہ عروج ممتاز شامل ہیں ،پی سی بی کے چئیر مین احسان مانی نے گذشتہ سال 26اکتوبر کو بنائی تھی۔

یہ کمیٹی اپنے وجود کے دن سے ہی خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے،ابتداءً میں سابق کپتان وسیم اکرم کے میچ فکسنگ کے ماضی پر محسن خان کے تبصروں کے بعد سے دونوں کے ایک ہی کمیٹی میں رہنے پر سوالات اٹھے،پھر کمیٹی کی غیر فعالیت پر بھی میڈیا خاصے سوالات اٹھاتا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں سامنے آنے والی’کرکٹ کمیٹی‘کے آٹھ ماہ کے دوران صرف دو ہی اجلاس بمشکل منعقد ہو سکے ہیں ،اور اب ورلڈ کپ کی شکست پر’کرکٹ ‘کو کوچ اور چیف سلیکٹر کو گھر بھیجنے کی بازگشت ہے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید