آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے وزیراعظم عمران خان کی معطلی کا مطالبہ کردیا۔

سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو نوٹس دے کر اچھا کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تعزیت کا بہانہ بناکر خان گڑھ گئے، گھوٹکی میں ضمنی الیکشن ہونے تک وزیراعظم کو معطل کیا جانا چاہیے۔

وزیر بلدیات نے مزید کہا کہ وزیر اعظم، گورنر سندھ اور 2 وفاقی وزراء کو گھوٹکی میں الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی پر نوٹس کےبجائے انہیں ضمنی الیکشن تک معطل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب اور اس کا چیئرمین اس وقت حکومت کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور ان سے کوئی بعید نہیں کہ وہ کسی کو بھی اور کبھی بھی گرفتار کرسکتی ہے۔

سعید غنی نے یہ بھی کہا کہ تعزیت کے نام پر وزیراعظم نے ضمنی الیکشن لڑنے والے امیدوار سے ملاقات کی بلکہ امیدوار کے کچھ مطالبات پر عمران خان نے انہیں گورنر سندھ سے رابطے کی ہدایت بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ اس بات کی شکایت پر عمران خان کو نوٹس دیا ہے، لیکن نوٹس پر کچھ نہیں ہونا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس خلاف ورزی پر وزیر اعظم، گورنر سندھ اوروفاقی وزراء کی رکنیت اس وقت تک معطل کرے جب تک وہاں الیکشن مکمل نہیں ہوجاتے۔

سعید غنی نے یہ بھی کہا کہ گھوٹکی میں ملاقات کے دوران پارٹی کے ارکان کی وہاں موجودگی کو ڈسپلن کی خلاف ورزی ہم اس لئے تصور نہیں کرتے کہ وہ اس فیملی کے ممبران میں سے بھی ہیں۔

قومی اسمبلی میں سابق صدر اور پارٹی کے شریک چیئرمین اور سعد رفیق کے پروڈیکشن آرڈرجاری ہونے اور دیگر 2 ارکان کے نہ ہونے اور اسمبلی کی کارروائی پرسکون ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پروڈیکشن آرڈر آئینی طور پر ہر اس رکن کا حق ہے، جو منتخب ہوکر آیا ہے اور جن دو ارکان کے آرڈر جاری نہیں کئے گئے ہیں یہ آئین کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

وزیر بلدیات سندھ نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں 3روز کے بعد بجٹ پر کارروائی کا آغاز ہونا خوش آئند ہے اور ایوان میں کارروائی چلنی چاہیے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کی گرفتاری کی خبروں کے حوالے سے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ عمران نیازی اینڈ کمپنی جس کو چاہے گرفتار کروا سکتی ہے کیونکہ نیب اور اس کا چیئرمین اس وقت ان کے ہاتھوں یرغمال ہے اور وہ جسے چاہیں گرفتار کروا دیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ہی ہیں اور رہیں گے اور ان پر تمام ارکان اسمبلی کا مکمل اعتماد ہے۔

ان کی گرفتاری کی صورت میں پارٹی کے لائحہ عمل کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ہم آئین اور قانون کے تحت تمام راستہ اختیار کریں گے تاہم ابھی یہ صرف خبریں ہی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں