آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’باہر سے علاج‘ نواز شریف کی ضد ہے، شہزاد اکبر

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نواز شریف کی ضد ہے کہ علاج ملک سے باہر ہی ہوگا۔

جیو نیوز سے گفتگو میں شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف کو آج تک جو ریلیف ملا، وہ کسی دوسرے قیدی کو نہیں ملتا،آج کاعدالت کا فیصلہ بالکل قانون کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی خواہش ہے کہ انہیں پاکستان میں علاج نہیں کرانا، حکومت کی طرف سے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے مزید کہا کہ علاج کرانا یقیناً نواز شریف کا حق ہے لیکن صرف لندن سے علاج کرانا ہے یہ کونسا انسانی حق ہے؟

شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف سزا یافتہ ہیں،وہ عدالت سے بار بار غیر معمولی رعایت مانگ رہے ہیں،سپریم کورٹ اس شرط پر 6ہفتوں کا ریلیف دے چکی ہے کہ اس دوران آپ اپنا ضروری علاج کروالیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں یہ ریلیف دیگر بیمار قیدیوں کو فراہم نہیں کرتیں، عدالتی ریلیف سے جڑی شرط پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا، ان 6ہفتوں میں ضروری علاج نہیں کرایا گیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے یہ بھی کہا کہ سزا یافتہ شخص کی خواہش کی مطابق نہیں چلا جاسکتا،وہ چاہتے ہیں علاج باہر سے کرانا ہےیا جیل میں رہنا ہے،اپوزیشن رہنمائوں کی ضمانت کی درخواستیں عدالتوں سے مسترد ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنما کرپشن کے کسی بھی معاملے کا خاص جواب نہیں دے سکے، اب اگر یہ رٹ لگے ہیں کہ ہم سے انتقام لیا جارہا ہے اس الزام میں میرٹ نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ جس انسانی حق کا مطالبہ نواز شریف کر رہے ہیں،انہیں بتانا چاہیے کہ اپنے اقتدار کے دوران انہوں نے یہ حق جیل میں رہنے والے کتنے لوگوں کو دیا؟ آپ نے قیدیوں کے لئے کتنے اسپتال بنوائے؟ جس طبی سہولت کی آپ خواہش کر رہے ہیں وہ آپ نے کتنے لوگوں کو فراہم کی؟

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کا پاکستان نواز شریف نے چھوڑا تھا، انہیں ویسا ہی پاکستان بھگتنا پڑے گا،ملک میں تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے،دیگر قیدیوں کی طرح انہیں بھی سہولیات ملیں گی۔

قومی خبریں سے مزید