آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’اپنے ملک کے شیروں کو قتل نہ کرو، ورنہ دشمن کے کتے تمہیں نوچ ڈالیں گے۔ ایک وقت آئے گا جب آپ میرے یہ الفاظ یاد کریں گے‘‘۔

شہید ِجمہوریت ڈاکٹر محمد مُرسی

مصرکے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مُرسی ڈکٹیٹر جنرل السیسی کی زنجیروں سے ہی نہیں قیدِ حیات سے بھی آزاد ہوگئے۔ حسنی مبارک کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد عام انتخابات ہوئے تو اخوان المسلمین کی نمائندہ جماعت فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے واضح برتری حاصل کرلی۔ قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ اور پھر امریکہ سے پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر محمد مُرسی کو مصر کے پہلے منتخب صدر کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے قوم سے پہلے خطاب کے دوران وہی خطبہ دہرایا جو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے امیر المومنین بننے کے بعد دیا تھا۔ ڈاکٹر محمد مُرسی نے اقتدار سنبھالتے ہی دستور ساز اسمبلی کے ذریعے نیا آئین تشکیل دیا جس میں فوج کے اختیارات کم کر دیئے گئے۔ مصری فوج کے سربراہ جنرل محمد حسین طنطاوی جو سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے تھے، کو گھر بھیج دیا گیا۔ مغربی جمہوریت کے علمبرداروں کا ایمان متزلزل ہونے لگا کیونکہ جمہوریت انہیں تب تک بھلی محسوس ہوتی ہے جب تک ان کے پسندیدہ لوگ منتخب ہوتے رہیں۔ اسلامی دنیا کا عمومی تصور تو یہی ہے کہ مذہبی جماعتیں خیراتی ادارے چلا سکتی ہیں، ملک چلانا ان کے بس کی بات نہیں۔ لوگ ان کے جلسوں کی رونق بڑھاتے اور شعلہ بیانی سے لطف اُٹھاتے ہیں مگر بیلٹ پیپر پر ان کے حق میں مہر نہیں لگاتے۔ اور یہ تصور بڑی حد تک درست بھی ہے لیکن اس خیال کے برعکس مصر کے عوام نے اس مذہبی جماعت کو ووٹ دیئے جسے آپ شدت پسند سمجھتے ہیں تو اس مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہئے تھا مگر اخوان المسلمین کے برسراقتدار آنے پر مغربی ممالک کے ایوانوں میں تو جوار بھاٹا تھا ہی، عرب ممالک کی قیادت بھی بہت مضطرب اور بے چین تھی۔ لہٰذا ناپسندیدہ حکومت کو جڑ پکڑنے سے پہلے ہی اُکھاڑنے کے منصوبے بننے لگے۔ مصر کی دوسری بڑی جماعت ”النور پارٹی“ جس نے 498نشستوں میں سے 111پر کامیابی حاصل کی تھی اور اگر اس کے اتحادیوں کی نشستیں بھی شامل کرلی جائیں تو پارلیمنٹ میں اس کے ارکان کی تعداد 127ہو جاتی ہے، یہ اخوان المسلمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت پسندانہ مذہبی نظریات کی حامل ہے، یہ حکومت کے خلاف سازش کا حصہ بن گئی۔ ابھی مُرسی کی حکومت کو ایک سال بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی کٹھ پتلیوں کو میدان میں لے آئی اور حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بجائے اس کے کہ فوج قیامِ امن کے حوالے سے اپنا آئینی کردار ادا کرتی، حکومت کو مسائل حل کرنے کے لئے 48گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا۔ مُرسی نے یہ الٹی میٹم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور یوں 3جولائی 2013ء کو فوج نے پہلی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ فوجی مداخلت کے خلاف ہونے والے احتجاج کو ریاستی تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں، مظاہرین شہید ہوئے، سیاسی رہنماؤں کے خلاف بے بنیاد مقدمات قائم کرکے سزائیں سنائی گئیں۔ ڈاکٹر مُرسی کو چار ماہ تک نامعلوم مقام پر قید رکھ کر یہ سوچا جاتا رہا کہ ان کے خلاف چارج شیٹ کیا ہو۔ آخرکار لوگوں کو تشدد پر اُکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ جب انہیں پنجرے میں قید کرکے جیل لایا گیا تو انہوں نے شیر کی طرح غراتے ہوئے کہا، آئین اور قانون کی رو سے میں آج بھی مصر کا صدر ہوں اور مجھے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ اپریل 2015ء میں ڈاکٹر مُرسی اور ان کے ساتھیوں کو غداری کے الزام میں 20,20سال قیدکی سزا سنا دی گئی۔

مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر مُرسی کو ”شہیدِ جمہوریت“ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ ان کی شہادت دراصل بہیمانہ قتل ہے۔ بظاہر تو مُرسی کا قتل مصری ڈکٹیٹر عبدالفتح السیسی نے کیا ہے لیکن وہ سب ممالک شریکِ جرم ہیں جن کی اشیرباد سے اس نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹا گیا۔ اس خونِ ناحق کی ذمہ داری اس عالمی برادری پر بھی عائد ہوتی ہے جو برسہا برس سے انسانی حقوق کی پامالی پر خاموش رہی۔ ڈاکٹر محمد مُرسی ایک اسلام پسند رہنما تھے اور مجھے توقع تھی کہ ان کی موت پر سب سے پہلے مذہبی رہنما آگے بڑھیں گے۔ میں منتظر رہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن اس ظلم و جبر کے خلاف آواز اُٹھائیں، پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے مذمت نہ سہی دکھ اور رنج کا اظہار کر دیا جائے، حافظ سعید، مولانا طاہر اشرفی، مفتی منیب الرحمٰن، مولانا طارق جمیل، حامد سعید کاظمی، مولاناحنیف جالندھری سمیت کسی مذہبی رہنما نے رسمی بیان بھی جاری نہ کیا۔ ہاں بھٹو کے نواسے اور بینظیر کے بیٹے نے تمام تر نظریاتی اختلافات کے باوجود اس ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھائی کیونکہ بلاول کے نانا بھی جمہوریت پر قربان ہوئے۔ مریم نواز نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لب کشائی کی کیونکہ کچھ دکھ سانجھے اور مشترک ہوتے ہیں۔

اگر آپ لبرل ہیں، پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر یقین رکھتے ہیں، جمہوریت پر آپ کا ایمان غیر متزلزل ہے تو پھر آپ کو ہر اس شخص کے لئے آواز اٹھانا چاہئے جو سول بالادستی کی جدوجہد میں غیر جمہوری قوتوں کے ظلم و ستم کا شکار ہوتا ہے۔ اگر آپ کے اپنے ”مُرسی“ اور اپنے اپنے ”اردوان“ ہیں تو پھر آپ کے لبرل اِزم میں کھوٹ ہے، آپ کی جمہوریت پسندی ڈھکوسلا ہے، آپ کی انسانیت محض فراڈ ہے۔ اور دوسری طرف ہمارے معاشرے کے صالحین اور اسلام پسندوں کا تضاد ملاحظہ فرمائیں۔ مصر میں فوج اقتدار پر قبضہ کرلے تو وہ سڑکوں پر نکلتے ہیں، ترکی میں اسٹیبلشمنٹ کو دیوار سے لگا دیا جائے تو وہ خوشیاں مناتے ہیں لیکن یہاں اپنے ملک میں سویلین بالادستی کی جدوجہد ہو تو ”کٹھ پتلیاں“ بن کر ان کی گود میں جا بیٹھتے ہیں، ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ انہیں مصر کے مُرسی پر رشک آتا ہے، ترکی کا اردوان بھاتا ہے مگر پاکستان کے ”اردوانوں“ اور ”مُرسیوں“ کی بات ہو تو پیمانہ بدل جاتا ہے اور منہ سے جھاگ اُڑاتے ہوئے کہنے لگتے ہیں، تم ان چوروں اور ڈاکوؤں کو ان سے ملا رہے ہو۔ جب تک یہ اسلام پسند اپنے جمہوریت پسندوں کو چور اور ڈاکو سمجھتے رہیں گے اور لبرل حضرات اسلام پسندوں سے کنی کتراتے رہیں گے، السیسی جیسے ڈکٹیٹروں کی موج لگے رہے گی۔ آپ کے نزدیک ڈاکٹر محمد مُرسی ”شہیدِ اسلام“ ہوں گے مگر میرے نزدیک مُرسی ”شہیدِ جمہوریت“ ہیں۔جمہوریت اور سول بالادستی پر ایمان ہی ہمیں مجتمع کر سکتا ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید