آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں جگہ بنانے کیلئے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ ایک ملک اسی وقت ترقی کرتاہے جب ا س کی معاشی صورتحال مستحکم ہو اور برآمدات اس کی درآمدات سے زیادہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں دوسرے ممالک سے اشیا برآمد کرنے سے زیادہ اپنے ملک میں ہی ان کی پیداوار کا انتظام و انصرام کیا جائے۔ اس سلسلے میں جدید پروڈکشن ٹیکنالوجی اور ایکوپمنٹس کی دستیابی، ٹیکنیکس اور ان کے استعمال کو جاننا از حد ضروری ہے، ورنہ پروڈکشن ممکن نہیں ہو سکے گی۔

پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں ٹیکنیکل ایجوکیشن کی بہت کمی ہے، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں فنی تعلیم کی شرح صرف 4سے 6فیصد ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 66فیصد تک ہے۔ ہمارے دیہات، قصبوں اور شہروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو صرف چند پیشوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ حصول رزق کے لئے اختیار کئے جانے والے درجنوں، بیسیوں اور سینکڑوں پیشوں میں سے طلباء و طالبات کو وسیع پیمانے پر انتخاب کرنے اور کامیابی سے ہمکنار ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

پاکستان کی آبادی کا ایک قابلِ ذکر حصہ 18سے 25سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان میں 60٪ فیصد سے زیادہ نمبر لینےوالےتو کسی نہ کسی طرح چاہتے ہوئےیا نہ چاہتے ہوئے بھی میڈیکل یا انجینئرنگ کے شعبے میں چلے جاتے ہیں لیکن باقی 60٪ فیصد سے کم نمبر لینے والے کوئی بہتر فیصلہ نہیں کر پاتے۔ ان میں سے زیادہ تر نان- ٹیکنیکل فیلڈ کا چناؤ کرتے ہیں، جس کا اکثر اوقات نہ تو انہیں اور نہ ہی معاشرے کو کوئی خاص فائدہ پہنچتاہے۔

ٹیکنیکل ایجوکیشن عملی (پریکٹیکل) تجربات پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس ڈگری یا ڈپلومہ نہیں ہےتو جب آپ کو کسی معروف کمپنی یا مینوفیکچرنگ فرم میں ملازمت کا موقع نکلتاہے تو وہاں ڈگری یا سرٹیفیکیٹ کی پابندی آپ کے کیریئر میں سب سے بڑی ر کاوٹ بن جاتی ہے۔ مہارت کےساتھ ڈگری کا ہونا آپ کے کیریئر کو بلندی پر لے جاسکتاہے لیکن جب تعلیم کے میدان میں بہت سی ترجیحات موجود ہوں، ٹیکنیکل ایجوکیشن کے کالجوں اور اعلیٰ تعلیم کی یونیورسٹیوں میں سے کسی ایک فیلڈ کا انتخاب کرنا ہو تو طالبعلم درست تعلیمی یا پیشہ ورانہ مہارت کے انتخاب کے معاملے میں بھٹک سکتاہے۔ ہمارے ہاں ثانوی ا سکول کی حد تک تو طلباء کو یہ تک نہیں پتہ ہوتا کہ انہیں اعلیٰ ثانوی تعلیم کے لیے اپنی صلاحیتوں کے مطابق کونسے مضامین کا انتخاب کرنا ہے، جو ان کی سوچ اور مستقبل کے پیشے کیلئےمناسب ہوں۔ بعض اوقات طلباء مضامین کے انتخاب میں اپنے والدین، رشتہ داروں یا پھر اپنی پسندیدہ مثالی شخصیت کی تقلید کرتے ہیں۔

پاکستان میںاگر ہم اپنے نوجوانوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن جیسے تھری ڈی ڈیزائننگ، فیشن ڈیزائننگ، الیکٹریکل اپلائنسز، موبائل رپیئرنگ، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ جیسے کورسز کی جانب راغب کریں تو اس سے نہ صرف معاشرے میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور فرسٹریشن ختم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ دوسروں پر انحصار کرنے کے خطرناک رجحان کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔

یہ بہت اہم ہے کہ پاکستانی نوجوان نسل اس صورتحال میں اپنی ترجیحات کو نئی سمت دے اور ان مواقع کو استعمال کرنے کی کوشش کرے، جو پاکستان کو اقتصادی ترقی کی طرف لے جائیں۔ اس ضمن میںسب سےاہم کام عوامی سطح پر آگاہی پھیلانا ہے۔ لوگوں کو اس بارے میں آگاہ اور اس بات پر آمادہ کرنا ہوگاکہ وہ قومی مقصد کیلئے تکنیکی شعبوںکی طرف آئیں۔ دوسری طرف حکومت کو بھی اس ضمن میں نوجوان نسل کیلئے مزید ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کرنے چاہئیں اور ساتھ ہی بہتر کیرئیر کے مواقع بھی پیدا کرنے ہوںگے، تاکہ ان ہنرمند افراد کی بدولت ملک مزید ترقی کرے۔ ہم مصنوعات کی تیاری میں دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہیں اور بہت زیادہ زرمبادلہ اشیا کی درآمد پر خرچ کررہے ہیں۔ اشیا کی پیداوار اور اس میں اضافے کیلئے ہمیں اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہوگا تاکہ وہ تکنیکی اور پیداواری شعبوں کو صحیح خطوط پر چلائیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

تعلیم سے مزید