آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حکومت مخالف موقف کے بیانئے میں کن کن محرکات سے متاثر ہیں یا متاثر ہو سکتے ہیں، قومی میڈیا سے لے کر زبانِ خلق، خصوصاً مخالفین کے تناظر میں کچھ اس قسم کے خیالات ذہن میں در آتے ہیں:۔ مثلاً:۔

--oوہ قوم کے بجائے اپنے والد کے مقدمات کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ان کا یہ سارا شور شرابا محض اور محض اپنے والد گرامی کے لئے ہے۔

--oقومی احتساب کی زد میں چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی باقی قیادت سمیت فریال تالپور بھی آچکی ہیں چنانچہ ان کی جدوجہد دو آتشہ بلکہ سہ آتشہ ہوتی جا رہی ہے۔

ہو سکتا ہے قومی میڈیا بعض حصوں اور مخالفین کے ان احساسات میں صداقت کا عنصر بھی ہو البتہ یہ عنصر اپنی کسی بھی اخلاقی یا قانونی حیثیت سے سو فیصد محروم ہے، اس لئے کہ ناانصافی کے امکانات یا ممکنہ پسِ منظر کا تعلق کسی کے والد گرامی، پھوپھو یا اس کی جماعت کے ساتھ صاف دکھائی دے رہا ہو تب اس میں ’’قوم کے بجائے‘‘ ’’ذاتی‘‘ کی شر پسندانہ یا غیر دانش مندانہ دلیل کہاں سے آٹپکی؟ بے انصافی کا جہاں بھی شائبہ ہو وہاں لڑنا چاہئے، چاہے اپنی ذات ہو یا عوام کا معاملہ؟

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ’’سلیکٹڈ پارلیمنٹ، سلیکٹڈ اپوزیشن، سلیکٹڈ صحافی اور سلیکٹڈ پرائم منسٹر‘‘ کی اصطلاحات رائج کر کے اپنے سیاسی ادراک کو ’’ن‘‘ لیگ سے ہی نہیں باقی جماعتوں اور قائدین کے مقابلے میں بھی مہمیز دیدی ہے، ہم دیکھتے ہیں حزب اختلاف کے سرد و گرم چشیدہ بزرگ قائدین بلاول بھٹو زرداری کو اب ایک خاص احترام کی نظروں سے دیکھنے لگے اور پرکھ بھی رہے ہیں۔ حقیقت میں بلاول نے نیب میں اپنی پیشی کے روز ان سیاسی اصطلاحات پر مبنی حالات کا نقشہ کھینچ کر عمران خان سمیت ان کی مکتب حکومت کی آئینی شفافیت کو ایسا دھچکا پہنچایا ہے جس نے عوام میں پہلے ہی سے موجود ایسے تاثر کو گہری تقویت دے دی ہے۔

سیاست میں ٹائمنگ کی حیرت ہمیشہ تسلیم کی گئی ہے۔ وزیرستان میں جو ہمہ جہتی بحران موجود ہے، جس کی شدت سے کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا، خواہ کوئی حب الوطنی کے نام پر عوام کے ذہنوں کو الٹا لٹکائے رکھنے پر مصر ہو جیسا کہ ہمیشہ ایسا ہی کیا گیا، اس موقع پر بلاول نے قومی پارلیمنٹ کے دو ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر کے قومی اسمبلی میں پروڈکشن آرڈرز کا مطالبہ کر کے نہ صرف جمہوری حقوق کو ایک نئی زندگی دیدی، انسانی حقوق کا تسلیم کیا جانا بھی ناگزیر ثابت کر دیا یعنی یہ دونوں کا حق ہے، حزب اختلاف بلاول کے نقش قدم پر چل پڑی مگر پیش قدمی کی جرأت ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا چہرہ ہوتی ہے۔

عوام کی روح کے حقیقی تقاضوں کے مطابق بھرپور نمائندگی کے باعث بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، ان کی سیاسی شائستگی اور شجاعت وہ دوسری وجہ ہے جس کی بنیاد پر ہم پاکستان کے سیاسی مستقبل کے آسمان پر ایک روشن ستارے کی پیش گوئی کر سکتے ہیں، زیادہ حساس بات حالات کا وہ رخ ہے جس کا تعلق عمران خان اور ان کی منتخب حکومت کے بارے میں عوام کی منفی رائے میں تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان ہے، اب وہ عمران خان کا ’’لوٹی ہوئی دولت‘‘ واپس لانے کا وعدہ غلط نہ بھی کہیں تب بھی عملاً اسے کسی تدبیر و تدبر کے بغیر اندھے کی لاٹھی سے تعبیر کرنے لگے ہیں۔

حکومت کے خلاف متوقع تحریک گو مشترکہ قیادت کے بینر تلے ہی چلائی جائے گی، امکان غالب ہے اس تحریک کے کنوینر مولانا فضل الرحمٰن ہوں گے، عدلیہ کے دو معزز جج صاحبان، آصف علی زرداری، شہباز شریف، حمزہ شہباز، شاہد خاقان عباسی کی گرفتاریوں کے امکانات، فوج کے اندر واقعات کا افشا اور سزائوں کے اعلانات، نیب کی جانب سے حزب اقتدار کے بعض لوگوں کی گرفتاریوں کی جانب اشارے، سرکاری سطح پر مہنگائی کے مہیب ترین سیلابی ریلے کی یقینی آمد، ایسے معاملات نہیں جنہیں عمران حکومت آسانی سے نپٹا سکنے کی اہلیت رکھتی ہو، محسوس یوں ہوتا ہے قومی بجٹ کے بعد ان تمام واقعات کی واقعیت اور سنگینی عمران حکومت کو سیاسی اور سماجی حواس باختگی میں مبتلا کر سکتی ہے، عوام ’’تبدیلی‘‘ کے نام پر جس ناقابل شکست دکھ کا سامنا کر رہے ہیں، وہ اس حواس باختگی کو آتشیں ماحول کی انتہائوں پر لے جا سکتا ہے۔

عمران خان کی حکومت، افسوس ہے بہت ہی لرزا دینے والی بدگمانیوں کے نشانہ پر رہتی ہے، انہی دنوں ایک کالم نگار نے ایسی بات لکھی جس سے طبیعت فی الواقعی متوحش پن کا شکار ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔ ان کا کہنا ہے ’’مجھ سے پوچھیں تو میں سال پہلے لکھے اپنے الفاظ دہرا دیتا ہوں: ’’اگر عمران خان کی حکومت آ گئی تو میں اپنے کل اثاثوں یعنی دو موبائل، دو گھڑیوں(اب ایک رہ گئی) چھ کپڑوں کے اور چار جوتوں کے جوڑوں سمیت ملک سے زندہ بھاگ جائوں گا کیونکہ جو یہاں رہے گا اس کے تن پر یہ بھی باقی نہیں رہے گا‘‘ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم ایسے بھاگنے کی سکت بھی نہیں رکھتے‘‘۔

عمران خان تقریباً چھ سات دہائیوں سے قومی سیاستدانوں اور قومی پارلیمانی جمہوری سیاست کے خلاف چلائی جانے والی بدنیت مہمات کے نتیجے میں ’’سیاسی کامیابی‘‘ سے ہمکنار ہوئے، ان کی اقتدار سے پہلے کی سیاست اور اقتدار کے بعد کا بیانیہ مگر عوام کو ان قومی سیاستدانوں اور اس قومی پارلیمانی جمہوری سیاست سے دور نہیں کر سکا، ان کے مخالفین میں سے ہر ایک کا ووٹ بینک وہیں کا وہیں موجود ہے، جو لوگ بھی اگلی منصوبہ بندی یا منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں وہ آج تک ملک و قوم کی اس قیادت کو صفحہ ہستی سے غیر موثر یا معدوم نہیں کر سکے نہ آئندہ کر سکیں گے، چنانچہ جب متوقع بحران منہ زور سرخ آندھیوں یا حجم اور رفتار اختیار کرنے لگے گا اس کا سارا جھکڑ عمران حکومت کی بظاہر مضبوط عمارت کی سیاسی بنیادیں ہی ختم کر سکتا ہے، اس سارے منظر کے بھنور سے ابھرنے یا نمودار ہونے والا سب سے نمایاں چہرہ بلاول بھٹو زرداری ہی ہو سکتا ہے، ’’ن لیگ‘‘ کی قیادت ابھی تک اپنے ذہنی کنفیوژن سے ہی پیچھا نہیں چھڑا پا رہی، ہو سکتا ہے اس وقت بھی اس کی یہ سیاسی بیماری اس کے ساتھ اسی طرح چمٹی ہوئی ہو۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے رہبر نواز شریف صاحب کی سیاسی جانشین مریم نواز کی ملاقات قومی سطح پر سیاسی تسلسل کے لئے ایک تاریخی پیش قدمی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، محسوس یوں ہوتا ہے عمران حکومت کے مدمقابل اپوزیشن کی مزاحمت آخری حد تک جائے گی جس میں حکومت کی پوزیشن کا ہموار رہنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں