آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جس طرف نظر کریں، زوال ہی زوال، جس شے کے بارے میں سوچیں، اس کا آج کل سے بدتر، سیاسی پارٹیوں کو دیکھ لیں، وہ مسلم لیگ جس کے سربراہ کبھی قائداعظم، آج کئی دھڑوں میں، بڑے دھڑے کے تاحیات قائد نواز شریف، چشمِ بدور جیل میں بیٹھ کر قائدی فرما رہے، بھٹو کی پیپلز پارٹی پر یہ وقت، فیصلے زرداری صاحب کر رہے، مولانا مودودی کی جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، چلو جماعت اسلامی اس لحاظ سے تو بہتر، کوئی بھی امیر بن سکے، عام آدمی بھی اہم عہدے تک پہنچ پائے، کم ازکم یہاں مولانا مودودی کے بعد ان کی آل اولاد تو پارٹی پر قابض نہیں، جماعت میں موروثی غلامی کی نحوست نہیں، جمعیت علمائے اسلام، دو حصوں میں، ایک کے سربراہ پہلے مولانا سمیع الحق، اب ان کے بیٹے، دوسراحصہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاس، مولانا بھی جانشینی کیلئے بیٹے کو تیار کر رہے، خیر سے بیٹا قومی اسمبلی کا ممبر بن چکا، اے این پی کے سربراہ کبھی باچا خان، ولی خان، اب اسفند یار ولی، یہ بھی اپنے بیٹے ایمل خان کو تیار کر رہے بلکہ خیبر پختونخوا کا پارٹی صدر بنا چکے، 35سال جیل کاٹنے والے عبدالصمد اچکزئی کی گدی ان کے بیٹے محمود اچکزئی نے سنبھالی ہوئی۔

اسی طرح چھوٹی پارٹیوں کو دیکھ لیں، سب کا یہی حال، سب کا آج کل سے بدتر، اوپر اوپر سے جمہوری پارٹیاں، اند ر اندر سے 98فیصد پارٹیوں میں ڈکٹیٹر شپ، پارٹیاں یوں چلائی جا رہیں جیسے ذاتی ملیں، فیکٹریاں، کارخانے۔ مذہب کو دیکھ لیں، کل ہمارے امام بے مثال، جید علماء، آج مایوسی ہی مایوسی، بیورو کریسی پر نظر ڈال لیں، کیا شاندار ماضی، کیا باکمال لوگ تھے، چند کو چھوڑ کر آج بڑے عہدے، چھوٹے لوگ، کل ایک ایک بیوروکریٹ پر کتاب لکھی جا سکتی تھی، آج سب بیورو کریٹس پر ایک کتاب لکھنا مشکل، حکمرانوں کا حال یہ، قائداعظم، لیاقت علی خان، بھٹو سے ہوتی ہوئی بات نواز شریف، ممنون حسین، آصف زرداری اور راجہ پرویز اشرف تک پہنچی ہوئی، بات یہیں نہیں رکی، بلاول بھٹو، مریم نواز بھی حکمرانی کی لائن میں لگے ہوئے، اللہ کی شان، ملک پر یہ وقت بھی آنا تھا۔

تاجروں، تجارت کو دیکھ لیں، روز بروز مندے کا رجحان، ایسی چور بازاری، دو نمبری کہ گزرے کل میں سوچی بھی نہیں جا سکتی تھی، ملکی امیج کا جو فالودہ بن چکا، وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا، دو ڈھائی ملکوں کے علاوہ کہاں ہماری عزت، دنیا کا کون سا ملک جہاں پاکستانیوں نے چَن نہ چڑھائے ہوں، کون سا ایسا خطہ جہاں ہم نے دھوکوں، فراڈوں کے جھنڈے نہ گاڑے ہوں، باہر ہماری ایسی عزتیں، اکثر ملکوں کے ایئر پورٹوں پر علیحدہ کرکے بار بار تلاشی، بار بار مشینوں سے گزارا جائے، اکثر جگہوں پر تلاشیوں، مشینوں کے بعد کتوں کے حوالے بھی کیا جائے، اپنی کرنسی، خزانے، بینکوں مطلب معیشت کو دیکھ لیں، ملکی اداروں پر نظر مار لیں، دل خون کے آنسو روئے، چاروں صوبوں میں کرپشن کا جو لیول آج، وہ کل کسی کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا، اِٹ پٹو تھلے اک نئی کرپشن کہانی، یہ پانامے، اقامے، یہ منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس کہانیاں، کل یہ سب کوئی سوچ سکتا تھا، یہ ایان سیریز، یہ انور مجید داستانیں، یہ ہل میٹل قصے، یہ ٹی ٹی راج کپوروں کی ٹیکنیکل کاروائیاں، کل اتنے باریک کام کرنے والے ہنرمند کہاں تھے، اتنی بے رحم لوٹ مار، یہ تو زمانہ جاہلیت میں بھی نہ ہوئی، تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، کہیں ایسا نہیں ہوا کہ کسی بادشاہ نے اپنے ملک کو لوٹ کر دوسرے ملکوں میں جائیدادیں بنائی ہوں، ماضی میں کوئی ایسا بادشاہ ہو تو مجھے ضرور بتائیں۔

بلاشبہ پنجاب میں شریف برادران کی وجہ سے موٹروے، سڑکیں، پُل بنے، میٹرو، اورنج منصوبے، چند اسپتال، کچھ تعلیمی درسگاہیں، بلاشبہ بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ سے کسی حد تک جان چھوٹی، مگر ’’کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے‘‘ والے پنجاب میں بھی ساؤتھ پنجاب کا برا حال، سندھ کا تو نہ ہی پوچھیں، قبرستان بن چکا، بلوچستان، کیا بات کریں، حکمرانوں سے کوئٹہ کی دو سڑکیں ہی ٹھیک نہیں ہو رہیں، بی آر ٹی منصوبے کے بعد خیبر پختونخوا کی بات ہی نہ کریں، ملک بھر میں صحت، تعلیم کا آج، کل سے برا، غریب، غربت کل سے زیادہ، مہنگائی، بے روزگاری ہر روز زیادہ، نہری نظام سے زرعی کھالوں تک، یوٹیلٹی اسٹوروں سے اسٹیل مل تک، پی آئی اے سے ریلوے تک، زراعت سے انڈسٹری تک، شرمندگی ہی شرمندگی، دیہاتوں کی بات کریں، سب شہروں کا رخ کر رہے، شہروں کی بات کریں، صرف کراچی کو لے لیں، کبھی عربی شیخوں سمیت دنیا بھر سے لوگ یہاں ویسے ہی آیا کرتے، جیسے آج کل ہم دبئی جاتے ہیں، بالی ووڈ فلموں کی شوٹنگ یہاں ہوئی، کراچی کو آج دیکھ کر رونا آئے، اتنا زوال، توبہ توبہ، صوبوں، سیاسی جماعتوں، سیاستدانوں حتیٰ کہ پوری قوم میں برداشت ختم ہی ہو چکی، اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا، اصول، منطق کی یہاں موت ہو چکی۔

کہنے کو ہم ایٹمی طاقت، دریا، سمندر، صحرا، جنگل، میدان، پہاڑ، چاروں موسم، گندم سے کپاس تک، مالٹے سے چاولوں تک ہر شے ہمارے پاس، مگر اصل میں ہم وہ بھکے ننگے فقیر جو قرضوں کا سود دینے سے بھی قاصر، ہمارے پاس جو کچھ، ہم 70سالوں سے مسلسل ضائع کئے جا رہے، ہم اپنا سونا کوئلہ بنا چکے، آبادی آؤٹ آف کنٹرول، انسان سازی پر توجہ نہیں، ہماری تعلیم رٹو طوطے پیدا کر رہی، بات ڈگری سے شروع ہو کر نوکری پر ختم ہو جائے، تربیت نامی شے ہے نہیں، ہم سب انقلاب کے خواہاں مگر کوئی خود کو بدلنے کیلئے تیار نہیں، ہماری لڑائیاں امریکہ سے، حالت یہ سی پیک چین کے حوالے، معیشت آئی ایم ایف کے پاس، باقی چھوڑیں، افغان کرکٹ بورڈ کہہ رہا ’’اگر کہیں تو ہم آپ کی کرکٹ بہتر کر دیں‘‘، دکھ یہ، گھر کا کوڑا گلی میں پھینک کر، ڈاکوؤں، لٹیروں، چوروں کو ووٹ دے کر، ملک لٹنے پر چپ رہ کر، جھوٹ کا ساتھ دے کر، خوشامد، جی حضوری میں اول آکر سمجھ رہے، ہم ترقی کر رہے، دکھ یہ بھی، ہم اپنے زوال کے خود تخلیق کار، دکھ یہ بھی کہ یہ زوال روز بروز بڑھتا ہی جا رہا، کہیں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا مگر اصل دکھ یہ کہ ہم زوال کے گھیرے میں، لیکن ہمیں اس کا احساس ہی نہیں۔

ادارتی صفحہ سے مزید