آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’شائقین سپورٹ کریں، یہی ٹیم92 کی ٹرافی واپس لائیگی‘‘

ورلڈ کپ کرکٹ کا سیمی فائنل کھیلنے کے لئے پاکستان ٹیم کو مزید سیڑھیاں چڑھنی ہیں، جنوبی افریقا کے بعد نیوزی لینڈ، افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی ہرانا ہے، تاہم سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی تنقید سے تنگ کھلاڑیوں نے شائقین سے کہا ہے ہمیں سپورٹ کریں یہی ٹیم1992کی ٹرافی وطن واپس لائے گی۔

جنوبی افریقا کے خلاف میچ کے ہیرو حارث سہیل اور 3 وکٹیں لینے والے لیگ اسپنر شاداب خان نے قوم سے حمایت کی اپیل کی ہے ، اس سے قبل کپتان سرفراز احمد نے ٹیم میں گروپنگ اور اختلافات کو غلط قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ہارنے سے قیاس آرائیوں میںشدت آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جس کا جو دل ہوتا ہے لکھ دیتا ہے اور کھلاڑیوں کے ساتھ مختلف واقعات ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ان پر نفسیاتی اثر پڑ رہا ہے، انہوں نے سابق کرکٹرز کی تنقید کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی (سابق کرکٹرز) نظر میں وہ کھلاڑی ہی نہیں ہیں اور وہ خدا بن کر ٹی وی پر بیٹھے ہیں۔

سرفراز سے جب سوال پوچھا گیا کہ اس وقت میڈیا آپ لوگوں کے لیے زیادہ خطرناک بنا ہوا ہے یا سوشل میڈیا؟ جس کے جواب میں سرفراز نے کہا کہ دونوں ہی ایک جیسے ہیں۔

سرفراز احمد کا کہنا ہےکہ اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، یہ سب کچھ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ کسی کو بھی نہیں روکا جا سکتا، پہلے بھی ٹیمیں ہاری ہیں اگر یہ چیزیں (سوشل میڈیا) پہلے ہوتیں تو ان لوگوں کو اندازہ ہوتا کہ یہ چیز کتنی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔

جنوبی افریقا کے خلاف میچ کے ہیرو حارث سہیل کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کے لئے یہ جیت ضروری تھی اور کوشش کریں گے اس فتح کے تسلسل کو اگلے میچوں میں بھی قائم رکھیں، ٹیم کے حوصلے بلند ہوں اور ہم سیمی فائنل میں جگہ بناسکیں۔

جنوبی افریقا کے خلاف اپنی89رنز کی تیز رفتار اننگز کے بارے میں حارث سہیل نے کہا کہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق کسی بھی نمبر پر کھیلتا ہوں اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق کارکردگی دکھاتا ہوں، تاہم جنوبی افریقا کیخلاف جیت سے ٹیم کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور امید ہے کہ ٹیم آگے جائے گی۔

حارث کا کہنا تھا کہ کوشش کروں گا کہ کارکردگی اگلے میچوں میں بھی قائم کروںکیونکہ تینوں میچ اہم ہیں اور ہم نے جیتنے ہیں سب کھلاڑیوں کو علم ہے کہ اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے سیمی فائنل میں جانا ہے تو سب ٹیموں کو ہرانا ہوگا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید