آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ سنی ہوئی باتیں نظر انداز کرنے کے لئے نہیں ہوتیں۔ ایسے اقوال توجہ طلب ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک قول ہے کہ جس ملک میں روڈ راستوں پر چلتی ہوئی گاڑیوں میں نظم و ضبط ہوتا ہے، اس ملک کی حکومت میں نظم و ضبط ہوتا ہے۔ ایسا ملک ترقی کی راہوں میں بہت آگے نکل جاتا ہے۔ اگر چند روز کے لئے آپ کا جانا کسی ملک میں ہو اور آپ جاننا چاہیں کہ اس ملک کے لوگ کس قدر صاف ستھرے، نفاست پسند اور باطن اور ظاہر میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں، تو اس ملک میں جانے کے بعد آپ ان کے ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشنز، بس اسٹینڈ، دفتر، تعلیمی ادارے اور پبلک ٹوائلٹ دیکھیں۔ آپ کو اگر ٹوائلٹ بدبو اور گندگی سے پاک، صاف ستھرے دکھائی دیں تو یقین جانیے وہ ملک اور اس ملک میں رہنے بسنے والے لوگ اپنے کاروبار، لین دین، روزمرہ کی زندگی میں صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ ایسے ممالک ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ ایسے ممالک کسی کے مقروض نہیں ہوتے۔ ایسے ممالک امداد لیکر اپنی حکومت نہیں چلاتے۔

ایک مضحکہ خیز بیماری کچھ ممالک اور ان ممالک میں رہنے والی قوموں کو ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کردیتی ہے۔ مفلوج سے مراد یہ نہیں ہے کہ ایسی ذہنی طور پر مفلوج قومیں لولی لنگڑی ہوتی ہیں۔ ان کے ہاتھ پائوں ہوتے ہیں۔ توانا بھی ہوتے ہیں، مگر ایسی قومیں زبانی کلامی ڈینگیں مارنے کے علاوہ دنیا میں کچھ نہیں کرسکتیں۔ ترقی کی منزلیں ڈینگوں اور بلند بانگ دعوئوں سے طے نہیں ہوتیں۔ اپنے آپ کو خوش فہمی میں مبتلا رکھنے سے کہ ہم دنیا میں سب سے عظیم ہیں، کشا کش زندگی میں ایسی خوش فہمی قوموں کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ ان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں دیتی۔ وہ خوش فہمیوں میں زندہ رہتے ہیں، اور خوش فہمیوں میں مرجاتے ہیں۔ اخلاق اور ایمانداری میں اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا رکھنے سے آپ دنیا میں کسی پر ثابت نہیں کرسکتے کہ آپ حقیقت میں بااخلاق اور ایماندار ہیں۔ آپ کو ثابت کرکے دکھانا ہوگا کہ آپ بااخلاق اور ایماندار ہیں۔ آپ لین دین میں ہیرا پھیری نہیں کرتے۔ آپ لاکھ دعوے کریں کہ دنیا میں آپ سب سے زیادہ تیز دوڑ سکتے ہیں۔ آپ اپنے دعویٰ کے بل بوتے پر دنیا میں تیز ترین دوڑنے والے نہیں بن سکتے۔ آپ کو ثابت کرکے دکھانا ہوگا کہ آپ ایسان بولٹ سے زیادہ تیز دوڑتے ہوئے آٹھ سیکنڈ میں ایک سو میٹر کا فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔ ٹین کنستر بجا کر اور گلا پھاڑ کر چلانے سے کہ ہم سات آسمان چھولیں گے، ہم جیتیں گے، ہم جیتیں گے، گانے بجانے اور کہنے سے آپ کچھ بھی جیت نہیں سکتے۔

آل انڈیا کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر ماسٹر عبدالعزیز بٹوارے کے بعد تن تنہا پاکستان آگئےتھے۔ ان کی فیملی ہندوستان میں رہ گئی تھی۔ ان کے بیٹے ٹیسٹ کرکٹ کھیلے اور بیٹی ہندوستان کی ٹینس چیمپئن بنی۔ ماسٹر عبدالعزیز یہاں آنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ میں اپنے لئے جگہ نہ بنا سکے۔ آخرکار سندھ مدرستہ السلام کراچی کے کرکٹ کوچ بنے۔ کھیل شروع ہونے سے پہلے اور میچ کے دوران پویلین میں بیٹھے ہوئے اور اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے کھلاڑی بونگیاں مارتے تھے۔ ’’میری باری آنے دے، دیکھنا میں فاسٹ بالر کو پہلی گیند پر چھکا ماروں گا‘‘۔ کوئی کہتا ’’لنچ سے پہلے میں سنچری بنالوں گا‘‘۔

تب ماسٹر عبدالعزیز آہستہ سے کہتے تھے۔ ’’بیٹا بول مت۔ کر کے دکھا‘‘۔

ہم بولتے ہیں مگر کر کے کچھ نہیں دکھاتے۔ صرف بونگیاں مارتے ہیں۔ We are the best۔

ایک اور اچھی کہاوت سن لیجئے۔ قول ہےکہ اچھی حکومت کی پرچھائیاں ہر محکمہ پر پڑتی ہیں۔ عین اسی طرح ناقص حکومت کی پرچھائی ہر محکمہ پر مسلط دکھائی دیتی ہے۔ اب آپ اس کہاوت کی کیمیائی تفصیل پر غور کیجئے۔ امتیاز احمد، فضل محمود، خان محمد، حنیف محمد کا نام آپ نے سنا ہوگا۔ پاکستان میں اچھی حکومت کے دور میں کھیلتے تھے۔ اچھی کارکردگی دکھاتے تھے۔ ملک کا نام روشن کرتے تھے۔ اپنا نام روشن کرتے تھے۔ اسکوائش کھیل سے وابستہ ایک عالمی لیجنڈ کے نام سے آپ ضرور واقف ہوں گے۔ لگاتار سترہ اٹھارہ برس تک اسکوائش کی دنیا کے شہنشاہ تھے۔ ان کو ہرانا جوئےشیر کا لانا ہوتا تھا۔ ان کا نام تھا جہانگیر خان۔ ناقابل یقین جوہر دکھاتے تھے۔ ایک لمبے عرصہ تک پاکستان کی ہاکی ٹیم کا دبدبہ دنیا بھر کی ہاکی ٹیموں پر چھایا رہتا تھا۔ ہماری ہاکی ٹیم کو ہرانا دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ناممکن لگتا تھا۔ یہ اچھی حکومتوں اور اچھے دنوں کی باتیں ہیں۔ نہ رہی اچھی حکومتیں اور نہ نظر آیا محکموں کی کارکردگی پر اچھا عکس۔ سب کچھ ملیا میٹ ہوگیا۔

نفسیاتی طور پر دنیا کے تمام فاسٹ بالر بڑے ضدی، سرکش اور اپنے رویوں میں سخت گیر ہوتے ہیں۔ مجھے کہتے ہوئے اچھا نہیں لگتا کہ کپتان کی حکمرانی کی پرچھائیاں واضح طور پر ورلڈ کپ میں ہماری ٹیم کی کارکردگی پر نظر آرہی ہیں۔ کپتان بضد ہو چکے ہیں کہ پاکستان میں آسٹریلیا کی طرز پر کرکٹ کو ازسرنو منظم کریں گے۔ بینکوں اور کمرشل اداروں کو کرکٹ ٹیمیں رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سینکڑوں کی تعداد میں کھلاڑی بیروزگار ہوجائیں گے۔ صرف پانچ صوبائی ٹیمیں ٹورنامنٹوں میں حصہ لیں گی۔ یہ طریقہ کار ڈھائی کروڑ کے ملک آسٹریلیا میں مروجہ ہے۔ بیس بائیس کروڑ کے ملک پاکستان پر ڈھائی کروڑ کے ملک آسٹریلیا کا کرکٹ کی ترویج کے لئے مروج طریقہ کار ہمارے ہاں ہرگز نہیں چل سکتا۔ اگر آپ کرکٹ کو اپنے اصلی اوج اور عروج پر لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو سرکار اس کی بسم اللہ اسکولوں سے کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں