آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں! پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی مہم اس دلفریب اور پرکشش نعروں سے شروع کی کہ عوام بھی یقیناً اس سے بہت متاثر ہوئے۔ لیکن اہل عقل سوال کرتے ہیں کہ وہ ملک جس کی حکومت کا میزانیہ (Budget)ہمیشہ خسارہ میں رہتا ہے۔ اس خسارہ کو پورا کرنے کے لیے جگہ جگہ جاکرقرضوں کی بھیک مانگنی پڑھتی ہے اور پھر انتہائی " سخت شرائط" پر قرضوں کی وصولی ممکن ہوتی ہے۔جس میں بلند شرح سود، یوٹیلیٹی بلز میں ہوشربا اضافہ، پٹرول میں بلاجواز اضافہ اور سیلزٹیکس کے نام پہ قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ شامل ہیں۔ آج تک ایک بات سمجھ نہ آسکی۔ عالمی معاشی فورمز پہ جب بھی گفتگوہوتی ہے۔ تو یہ بتایاجاتا ہے کہ " دنیا کو غربت سے پاک" کرنا ہے۔ غیرمنصفانہ تقسیم دولت کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ لیکن جب یہی عالمی معاشی ادارے کسی ملک کی مشکل معاشی حالات میں مددکرنے میدان میں اترتے ہیں تو سب سے پہلے فورمز میں کی جانے والی گفتگو اور وہاں پر متعین کرنے والے اہداف بھول جاتے ہیں۔ اورمعاشی طور پر مجبور ملک کو ہر وہ پالیسی اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں جس سے غربت میں اضافہ ہو اور دولت کا ارتکاز ممکن ہوسکے۔تبھی یہ ادارے اپنے قرضوں کی واپسی کو ممکن بنانے کے لیے یہ کیوں نہیںکہتے کہ حکومت اپنی شاہ خرچیاں 50 فیصد کم کردے، کابینہ،مقننہ میں موجود

افراد پرہونے والے خرچے غیرضروری ہیں انہیں کم کیا جائے نیاپارلیمنٹ ہاؤس یا سیکریٹریٹ قائم نہ کیا جائے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی ذرا مقننہ کااجلاس دیکھیں۔ ممبر اسمبلی یا سینیٹ کی سیٹیں ایک دوسرے سے چپکی ہوئی ہوتی ہیں۔ چلنے کی جگہ تک نہیں ہوتی ہے۔ ہال بھی بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں 72 سالوں میں اب تک تین دفعہ پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیرہوچکی ہے۔ مرمت اور زیبائش کے سالانہ اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ اور تو اور صوبائی اسمبلیاں بھی پیچھے نہ رہیں۔ تقریباً صوبہ میں نئی اسمبلیاں تعمیرہوچکی ہیں۔ جہاں سال میں کتنے دن اجلاس ہوتاہے؟ اور کتنی قانون سازی؟اورسالانہ اخراجات کابل کتنا ہوتا ہے؟ سادگی (Austerity ) کی تعریف میں نہیں آتا؟ بالکل اسی طرح تقریباً تمام عوامی اداروں میں " سرکلر ڈیٹ" ایک درد سربنا ہوا ہے کیا وجہ ہے کہ جب ہر ادارے کا اپنا الگ بجٹ مختص ہوتا ہے اور اس میں بجلی کے بل کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں تو ایسے میں " سرکلرڈیٹ" کاپہاڑہرسال موجودہونا عالمی اداروں کی نظر سے نہیں گزرتا کہ اس پہ اعتراض کریں کہ جو عوامی ادارے بجلی کے بل کے ڈیفالٹر ہوں کے ایک مخصوص مدت کے بعد اور مختلف کارروائی کے بعد انہیں نجی شعبہ کے حوالے کردیا جائے گا یا حکومت کو دھمکایا جائے کہ اگر یہ حکومتی ادارے سرکلرڈیٹ کو ختم نہیں کریں گے تو عالمی مالی ادارے حکومت وقت کو اگلے قرضوں کی قسط روک لیں گے۔ لیکن یہ سب راقم کی خواہش ہے۔ عالمی مالی اداروں کو اس سے کیا غرض! انہیںتو اس میں فائدہ نظرآتا ہے کہ حکومت غیرضروری اخراجات کرے تاکہ اس کا بجٹ خسارہ بڑھے یوں حکومتیں کشکول لیکر ان اداروں کی خدمت میں حاضر رہیں۔ یعنی ان عالمی مالی اداروں کی زندگی / موجودگی ہمارے جیسے غریب بلکہ غریب سے زیادہ غیرمنصوبہ ساز ملکوں پہ منحصر ہے کہ وہ اپنا بجٹ خسارہ بڑھاتی جائیں۔ ایسے میں یہ ادارے مسیحاتو نہ ہوئے؟ اب بھی وقت ہے حکومتی افراد آگے آئیں اور عالمی اداروں کے نامزدافراد کے ہاتھوں سے معیشت کی باگ ڈور واپس لیکر ملکی معیشت کو صحیح خطوط پہ استوار کریں گھر اور نوکری کی لالی پاپ کے بجائے " آزاد سرمایہ کارانہ" فضا پیدا کریں Cost of doing busineesبزنس کی لاگت کو بنیادی ڈھانچہ کی لامحدود فراہمی سے کم کریں خودبخود نوکریاں بھی فراہم ہونے لگیں گی اور گھر بھی بناناشروع ہوجائیں گے۔ غربت میں بھی کمی آئے گی۔ "لیکن شرط مضبوط ارادے " کی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں