آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عوام اور حکومت خود کو بدلیں،پاکستان دوراہے پر ہے، اچھا وقت انشاء اللہ آئے گا، کرپشن کی وجہ سے لوگ ٹیکس نہیں دیتے، پی ایم ہاؤس کا خرچہ کم کرکے میں نےقربانی کاعمل اپنے آپ سے شروع کیا، وزیراعظم

کراچی(جنگ نیوز،ٹی وی رپورٹ) وزیراعظم عمران خان نے کہاہےکہ عوام اور حکومت خود کو بدلیں ،پاکستان دوراہے پر ہے ، اچھا وقت انشاء اللہ آئیگا ، کرپشن کی وجہ سے لوگ ٹیکس نہیں دیتے ، پی ایم ہاؤس کا خرچہ کم کرکے میں نے قربانی کا عمل اپنےآپ سے شروع کیا، لیڈر جوابدہ ہوتا ہے میرے سارے اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں ، کوئی بزنس ہے نہ فیکٹری نہ ہی کسی دوست کی پروا ہے، عوام کا ٹیکس انہی پر خرچ ہوگا، عوام اور حکومت اسکیم کو کامیاب بنائینگے،قرضوں سے نجات کیلئے مشکلات سے گزرنا ہوگا،ٹیکس نیٹ میںآنےوالوں کو کوئی ادارہ تنگ نہیں کریگا، مجھ سے براہ راست شکایت کی جاسکتی ہے،قرضوں کی ادائیگی کیلئے ہمیں پاکستان کےاندر سے ہی دولت اکٹھی کرنا ہوگی،کوشش ہے بزنس کمیونٹی اور ہم مل کر کام کریں ،ہر سال15 کھرب 72ارب روپے کی منی لانڈرنگ ،ایک سیاستدان نے نوکروں کے نام پر دبئی میں 5گھر لےرکھے ہیں،اثاثہ جات

اسکیم سیاستدانوں اور پبلک آفس ہولڈر کیلئے نہیں۔ جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن’’پاکستان کیلئے کرڈالو‘‘میں وزیراعظم عمران خان نے حامد میر سے گفتگو میں کہاکہ جو ٹیکس جمع کرتے ہیں آدھے سے زیادہ قرضوں کی ادائیگی میں چلے جاتے ہیں،60کی دہائی میں پاکستان تیزی سے اوپر جارہاتھا،عوام یہ سوچتی ہے کہ ٹیکس کیوں دیں جو عوام پر خرچ ہی نہیں ہوگا،ان شاء اللہ ہم عوام کاٹیکس عوام پر خرچ کریں گے، وزیر اعظم ہائوس کے پورٹل میں ایسا نظام دیں گے کہ لوگ مجھ سے براہ راست بات کرسکیں گے،اپنی ٹیم کو کہا ہے کہ اسپیشل ہیلپ لائن قائم کریں کسی کو شکایت ہو تو بتائے،کوشش کریں گے ایف بی آر میں پوری طرح ریفارمز لائیں،ملک چلتا ہے جب قوم اکٹھی ہوتی ہے،قوم اور حکومت مل کر اسکیم کو کامیاب بنا سکتی ہے، اگر کسی کے پاس ٹائم نہیں تو30 جون سے پہلے کم از کم خود کو رجسٹرڈ کرلے، 30جون کے بعد مزید وقت دیا تو لوگ سمجھیں گے اور بھی اسکیم آئے گی لہٰذا 30جون کے بعد کارروائی ہوگی،ایک سیاست دان نے اپنے نوکروں کے نام پر دبئی میں 5 گھر لیے ہوئے ہیں،سیاست دانوں اور پبلک آفس ہولڈر کے لیے یہ اسکیم نہیں ہے،بجٹ میں کوشش کی ہے غریب اور کاروباری طبقے کو فائدہ پہنچایا جائے،جب ایک ملک مقروض ہوجاتا ہے تو اس سے نجات کے لیے مشکل وقت دیکھنا پڑتا ہے،قوم یہ سوچے کہ مشکل کے بغیر قرضوں سے نجات مل جائے گی تو یہ نا ممکن ہے،ہم آمدنی بڑھا رہے ہیں اور اخراجات کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں،کوشش یہ ہے کہ بزنس کمیونٹی ہم مل کر کام کریں ایک دوسرے کی مدد کریں،نہ عمران خان کا کوئی بزنس ہے نہ کوئی فیکٹری ہے، نہ میرا کوئی رشتہ دار ہے نہ دوست کی پرواہ ہے، جو ملک کے لیے بہتر ہوگا وہ میں کروں گا،عوام اور بزنس کمیونٹی کی شکایات سننے کے لیے تیار ہیں، میری ٹیم موجود ہے،پاکستان اس وقت جہاںپہنچ گیا ہے اس میں عوام حکومت دونوں نے خود کو بدلنا ہے،میں نے وزیر اعظم ہائوس کا35 کروڑ روپے کا خرچہ کم کیا ہے،لوگوں کو یقین دلاتا ہوں ان کا دیا ہوا ٹیکس ان کی سہولیات پر خرچ ہوگا،ہمیں حکومت میں آکر پتا چلا ہے اللہ نے اس ملک کو کتنا نوازا ہے،اچھا وقت تو انشاء اللہ آنا ہے ،لیڈر جوابدہ ہوتا ہے میرے سارے اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں،25 سال ملک سے باہر کما کر وطن لایا ایک ایک روپے کا حساب ہے۔ پروگرام کے دوران حامد میر نے کہاکہ تھوڑی دیر پہلے لاہور چمبر کے صدر نے حفیظ شیخ سےپوچھا تو انہوں نے بھی یہی بات کی ہے آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ فائنل ہے تیس جون کے بعد یہ اسکیم جو ہے اس میں کوئی ایکسٹینشن نہیں ہوگی اس پر وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ وہ ہم کر نہیں سکتے 30جون کے بعد ایکسٹینڈ کیا اور پھر اگر یہ بھی لوگوں کو ہوا کہ ایک اور اسکیم مل جائے گی ایک اور اسکیم نہیں ملنے لگی اور آپ نے اس سے پہلے بات کی کہ ہمارے پاس جو انفارمیشن ہے آج جو پاکستان گورنمنٹ کے پاس انفارمیشن ہے وہ کبھی بھی کسی گورنمنٹ کے پاس پہلے نہیں تھی اس کی وجہ ہے کہ ایک باہر سے انفارمیشن آرہی ہے کیوں کہ ہم نے ایم او یو سائن کیے ہوئے ہیں ملکوں سے جو انفارمیشن دے رہے ہیں جو منی لانڈرنگ کے اوپر ساری دنیا کے اندر اب وہ قانون آگئے ہیں جو کبھی پہلے نہیں تھے تو وہ آپ اگر کسی پر بھی کہیں کہ ہمارا پیسہ پڑا ہے منی لانڈر تو منی لانڈرنگ مطلب کہ اگر کسی کا پیسہ باہر پڑا ہے اور وہ یہ بتا نہیں سکتا کہ سورس آف انکم کیا ہے کیا جائز طریقے سے پیسہ کمایا ہے نہیں اس کا مطلب منی لانڈرنگ کے اندر آجائے گا پھر اس کے اندر ان کے قوانین ایسے ہیں کہ اب وہ پاکستان کو انفارمیشن دیں گے پاکستان پیسہ واپس منگوا سکتا ہے دوسری چیز یہ کہ پاکستان میں بے نامی قوانین نہیں تھے قانون نہیں تھا ہمارے پاس اب بے نامی قانون ہے مطلب یہ کہ کسی نے اپنے نوکر کے نام یا کسی کے نام پر جائیداد کروائی ہوئی ہے اور اس کے پاس اگر نوکر یہ نہیں بتا سکتا کہ کہاں سے میرے پاس وسائل آئے ہیں اربوں روپے کی جائیداد جس طرح ہمیں پتہ ہے کہ ایک سیاستدان نے پانچ اپنے نوکر کے نام پر گھر لیے ہوئے ہیں دبئی میں اگر یہ نہیں آپ بتا سکتے اگر نوکر جیسٹفائی نہیں کرسکتا تو وہ ضبط ہوجائے گی تو سزا بھی ہوگی پراپرٹری بھی گورنمنٹ کی ہوجائے گی یہ کبھی پہلے پاکستان کے پاس قوانین نہیں تھے ۔ حامد میر نے سوال کیاکہ بہت سے لوگ پاکستان سے ٹی ٹی کے ذریعے رقم باہر بھیجتے ہیں اور وہاں پر وہ اثاثے بھی خرید لیتے ہیں تو اب آپ کی اسکیم کو ختم ہونے میں پانچ چھ دن باقی ہیں تو وہ جو ٹی ٹی والے لوگ ہیں جنہوں نے ٹی ٹی سے رقم باہر بھیجی ہوئی ہے تو وہ بھی کیا اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اگر وہ فائدہ اٹھانے کا اعلان کردیں اور اپنا سب کچھ ڈکلیئر کردیں تو نیب تو ان کو تنگ نہیں کرے گا ؟ اس پر عمران خان نے کہاکہ سب کو سمجھ جانا چاہیے کہ منی لانڈرنگ نے کیا کیا ہے پاکستان سے، منی لانڈرنگ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ یہاں سے پیسہ چوری کرتے ہیں اور اس کے بعد پھر آپ ہنڈی اور حوالے سے باہر بھیجوادیتے ہیں اور پھر باہر ایک قانون پاس کیا تھا 1992 ء؁ میں اکنامیک ریفارم ایکٹ ادھر سے remittanceکے نام پر منگوالیتے ہیں واپس، اب یہ ایک پیٹرن بنا ہوا ہے، اس کے اندر کافی حدبیہ پیپر مل بھی یہی تھا ہل میٹل بھی یہی جو جعلی اکائونٹس کا ہے جو ابھی اومنی گروپ یہ بھی وہی چیز ہے یہ بنیادی طور پر کرتے کیا ہیں جب پیسہ چوری کرتے ہیں تو اگر پاکستان میں رکھتے ہیں تو لوگوں کو پتہ چل جائے گا لہٰذا اس کو باہر بھجواتے ہیں دوگنا نقصان کرتے ہیں تو دس ارب ڈالر پاکستان میں سالانہ منی لانڈرنگ ہوتی ہے جو پیسہ باہر جاتا ہے ملک سے اور چھ ارب کا ہم آئی ایم ایف کا قرضہ لے رہے ہیں تو سوچیں اگر منی لانڈرنگ پر قابو پاجائں تو آج مسئلہ نہ ہوں تو جو سیاستدان ہیں پبلک آفیس ہولڈر ہیں ان کے لئے اسکیم نہیں ۔پروگرام میں لاہور چیمبر کامرس کے سینئر وائس صدر خواجہ شہزاد ناصر صاحب نے وزیر اعظم سے سوال کیاکہ اس وقت لوگوں کا پیسہ ڈالر کے اوپر جانے سے کم ہوگیا ہے ایسے میں یہ انڈیسٹر ی کے لئے بہت مشکل ہوگیا ہے کاروبار چلانا تو بینک کا جو ریٹ ہے شرح بینک اس کو کم کیا جائے سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے اور کمرشل بینک بھی اس کو کم سے کم کرے تاکہ وہ بینکوں سے قرضہ لے کر اپنا کاروبار چلائیں اور اس ملک کی ترقی میں ساتھ دیں۔ اس پر عمران خان نے کہاکہ یہ بات ٹھیک بھی کہتے ہیں کہ جو چھوٹی اور درمیانی انڈیسٹری ہے جو ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے ملک کے لئے اس کو کافی نقصان پہنچا ہے ، میری کوشش ہے دو طبقوں کو فائدہ ہو ایک غریب طبقہ اس کے لئے ہم نے پورا یہ جو احساس پروگرام ہے ان حالات میں مشکل حالات میں90ارب روپے مزید اور بڑھایا ہے،190ارب روپے ٹوٹل ہمارے غریب طبقے کے لئے اب لفٹ کے لئے دی ہے جو کبھی پاکستان میں پہلے نہیں ہوا، دوسرا طبقہ ہے ہماری بزنس انڈیسٹری اس کے لئے ہم نے جو ان مشکل حالات میں کوشش کی ہے جس طرح کی حفیظ آپ کو ایگزیکٹ تفصیل دے دیں گے کہ کس طرح اپنی انڈیسٹری کو revive کرنے کی کوشش کی ہے کیوں کہ ملک میں اگر ہم نے یہ قرضہ واپس کرنا ہے تو پہلے تو ہم ویلتھ جنریٹ کریں گے نا ہم اپنے ملک میں مثلاً انڈیسٹرلائز کریں گے تاکہ وہ پیسے بنے لوگوں کو نوکریاں ملیں گروتھ ریٹ بڑھے اور پھر اس پیسے سے ہم یہ قرضے واپس کریں اور لوگوں کو غربت سے نکالیں دو طبقوں کو ہم نے پورا فائدہ دینے کی کوشش کی ہے اب جو خواجہ صاحب نے بات کی میں صرف ایک چیز کہنا چاہتا ہوں کہ جب ایک ملک ایک گھر مقروض ہوجاتا ہے تو اس سے نکلنے کے لئے تھوڑا مشکل وقت آپ کو برداشت کرنا پڑتا ہے، یہ دنیا میں نہیں ہوا کہ ایک ملک مقروض ہوجائے یا آج ہم قرضے لے رہے ہیں قرضوں کی قسطیں ادا کرنے پر اس کو ڈیب ٹریپ کہتے ہیں اب اس سے نکلنے کے لئے اگر یہ سمجھیں گے کہ سارا ملک تکلیف کے بغیر نکل جائے گا یہ ناممکن ہے، تھوڑی دیر مشکل وقت آئے گا لیکن اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ ملک میں جو اللہ نے نعمتیں بخشی ہیں یہ ملک بڑی تیزی سے اوپر جائے گا۔پروگرام کےدوران کراچی چمبر کے ہارون فاروق نے سوال کیاکہ اس وقت ہمارا فنانس بل آیا ہے اس میں کچھ چند ایسی چیزیں announce کی گئی ہیں جو کہ اوور نائٹ سمجھا جارہا ہے کہ شاید ایک دن میں پورے کا پورا ماحول 180 ڈگری میں چینج ہوجائے گا ہم سب چاہتے ہیں کہ سب رجسٹرڈ ہوں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں لیکن ہم ان رجسٹرڈ کو اوور نائٹ ان کو کیچ کرنا چاہیں تو humanly ممکن نہیں ہے چاہے وہ ایف بی آر کی کتنی بھی صلاحیت بڑھا لیں یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ کام سارے کا سارا enforcement ونگ نے کرنا ہے ایف بی آر کی بلڈنگ میں نہیں ہوگا یہ enforcement سطح پر ہوگا اور اس کو enforce کرنے کے لئے ہمارا جو مائنڈ سیٹ ہے enforcement لیول پر اس کو چینج کرنے کی ضرورت ہے وہ بھی اوور نائٹ چینج نہیں ہوسکتا میری صرف یہ درخواست ہے کہ ہمیں جتنی بھی کریکشن کرنی ہے یہ ہمیں بتدریج کرنی پڑیں گی آپ نے اگر سیف لینڈنگ کرنی ہے smooth لینڈنگ کرنی ہے تو وہ descending order میں ہی کریں گے ۔ اس پر عمران خان نےکہاکہ کئی چیزیں اس میں پہلی دفعہ ہوئی ہیں، کوشش یہ ہے کہ بزنس کمیونٹی اور ہم مل کر یہ کریں، ایک چیز کہتا ہوں کوشش کر رہے ہیں نہ عمران خان کی کوئی بزنس ہے نا اس کی فیکٹری ہیں کوئی میرا اس وقت کوئی ذاتی انٹرسٹ نہیں ہے مسئلہ کیا ہوتا ہے ہمارے ملک میں جو تیس سال میں لیڈر شپ آئی تھی وہ خود بزنس میں تھی ان کے خود انٹرسٹ تھے ان کے اپنی فیکٹریاں تھیں یعنی ان کو فائدہ ہوتا تھا قانون چینج کرنے سے وہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچا سکتے تھے میرا تو کوئی لابی نہیں ہے نا میرا کوئی رشتہ دار ہے نہ مجھے کسی دوست کی پروا ہے میں صرف اس وقت اپنے ملک کا سوچ رہا ہوں اپنے ملک کے لئے جو آپ مجھے کنوینس کریں گے یہ ملک کی بہتری ہے میں آپ کے ساتھ چلوں گا میں کوشش کروں آپ کو کنوینس کرنے کے لئے کیوں کہ آج جہاں پاکستان کھڑا ہے جو بیرون ملک پاکستانی ہیں کبھی ان سے پوچھیں اُن کو کتنی قدر ہے اپنے ملک کی جو ملک سے باہر جاتا ہے اس کو سمجھ آتا ہے کہ اللہ نے کتنا بڑا تحفہ دیا ہے اس ملک میں جو وسائل دیئے ہیں جو مینرلز ، کوئلہ ، تانبہ ہمیں اندر آکر پتہ چلا ہے کہ اللہ نے اس ملک کو کیا کیا چیزیں دیں ہیں جو ہماری زمین ہے چائنہ کی صرف یہ بتا دوں جو ایم او یو سائن کیا ہے چائنہ اسی زمین سے کم پانی میں تین گنا زیادہ پیداوار نکال رہا ہے دودھ جو ہم چھ لیٹر ایک گائے ہماری ایوریج پر دیتی ہے وہاں بیس چوبیس لیٹر دیتی ہے گائے ہم اگر تھوڑا سا بھی اپنی productivity بڑھائیں یہ ملک کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے یہ جو مشکل وقت ہے اس سے ہم نے نکلنا ہے اس میں صرف آپ کی ایڈوائز چاہوں گا ابھی بھی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایڈوائز دے سکتے ہیں آپ سمجھتے ہیں کہ ہم بہتر کرسکتے ہیں ان circumstances میں میری ٹیم بیٹھی ہوئی ہے سننے کے لئے تیار ہیں ۔ پروگرام میں پشاورسرحد چیمبر کےحاجی افضل نے کہاکہ عمران خان کی موجودگی کا فائدہ لیتے ہوئے دو معصومانہ سوال ہیں ایک تو یہ ہے کہ آپ کے جو ایم این ایز ہیں جو وزراء ہیں بجائے دس فیصد کے وہ اس قوم کے لئے قربانی دیں اپنی سو فیصد تنخواہ اگر سرینڈر کردیں ایک سال کے لئے تو بجٹ پر اچھا اثر پڑے گا اور دوسرا جو میرے چھوٹے تاجر ہیں ان کی نمائندگی کرتے ہوئے کہ ہمارے اسٹاکس اس وقت یا انٹریڈ ہیں یا مارکیٹ میں ہمارے پیسے لوگوں کے پاس ہیں اب ہم ان کو جولائی اگست ستمبر میں شاید جو قرضہ ہے مارکیٹ میں ملے یا اسٹاک میرا بعد میں سیل ہو اس کو ہم کیسے ڈکلیئر کریں تاکہ ہم آپ کی اسکیم کو کس طرح کامیاب کریں اس کا مجھے معصومانہ جواب چاہیے اس پرعمران خان نے کہاکہ یہ اتنے معصومانہ جواب نہیں ہیں، سوال اچھے ہیں پہلی چیز کہ آپ کے پاس اگر آپ کہتے ہیں پیسہ قسطوں میں آئے گا بعد میں آئے گا تو یہ آپ کو وضاحت دیں گے شبر زیدی بھی اور ڈاکٹر حفیظ شیخ کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری اس وقت یہ پوزیشن ہے ستمبر اکتوبر تک بتادیں ان کو کہ exactly آپ کے پاس کب آئے گا تو وہ اس کی پرویژن کر دیں گے لیکن جو نہیں ہوگا جو پہلی ایمنسٹی اسکیم میں کیا گیا کہ پہلے کیش ڈکلیئر کردیا میرے پاس اتنا پیسہ ہے آگے بھی پیسہ دو نمبری سے کمانا تھا اس کو پہلے ڈکلیئر کر دیا آپ کو بتانا پڑے گا کہ اس تاریخ تک بینک میں پیسہ رکھنا پڑے گا ۔ جہاں تک آپ نے ایم این اے ایم پی ایز کی بات کی ہے میں صرف یہ کہوں گا کہ جو ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں اگر آپ چاہتے ہیں وہ صحیح طرح یہاں اپنا کام کریں تو ان کوجو ابھی تنخواہ مل رہی ہے مشکل گزارا ہوتا ہے ان میں لیکن جو منسٹرز ہیں منسٹرز نے دس فیصد اپنی ہم سب نے تنخواہیں کم کی ہیں ۔پروگرام میں حامد میر نے وزیراعظم سےسوال کیاکہ اس کی کیا گارنٹی ہےکہ ٹیکس کےپیسے ایم این اے ایم پی ایزکے ڈیولپمنٹ فنڈ ز کی طرف نہیں جائیں گے ایسے کاموں میں نہیں جائیں گے جو کہ ماضی کی سیاسی حکومتیں کرتی رہی ہیں ؟ اس پر عمران خان نے کہاکہ یہ جو آپ نے آخری سوال پوچھا اس کا میں جواب اس طرح دیتا ہوں دیکھیں میں یہ ایک چیز Repeatکرتا ہوں پاکستان جدھر آج پہنچ گیا ہے اس کے اندر ہمیں عوام کو بھی اپنے آپ کوتبدیل کرنا ہے ہمیں جو گورنمنٹ ہے اور گورنمنٹ کے ادارے ہیں ہمیں بھی تبدیل کرنا ہے قرآن کی آیت ہے اللہ کہتا ہے میں کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے ،اس کا مطلب ہم سب کوبدلنا ہے جیسے ہم گورنمنٹ چلاتے آئے ہیں اب تک ہمیں بدلنا ہے میں نے پہلے دن سے کیا کوشش کی ہے کہ اپنے سے شروع کیا ہے آج حامد میں اپنے یہ بتادوں کہ میرا جو 35 کروڑ روپیہ کم کیا ہے میں نے پرائم منسٹر سیکریٹریٹ سے جو پرائم منسٹر کا سیکریٹریٹ ہے میرا جو پرائم منسٹر ہاؤس ہے اس کو ہم بڑے بڑے جب باہر سے گیسٹ آتے ہیں ان کو ٹھہرانے کے لئے یا وہاں فنکشن کے لئے رکھا ہوا ہے جو اتنی بڑی زمین ہے اس کی ایک زبردست ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی بنارہے ہیں جو کہ ٹیکنیکل یونیورسٹی ہے آرٹیفیشل انٹیلی جنس وغیرہ چائنہ کے ساتھ مل کے اپنے میں گھر میں رہتا ہوں اپنا گھر کا سارا خرچہ خود دیتا ہوں، کوئی کیمپ آفس نہیں زمان پارک میرا گھر کیمپ آفس نہیں ، کوئی بجلی بل وغیرہ وغیرہ سارے بل میں خود دیتا ہوں اور میری جوتنخواہ ملتی ہے اس میں میرا گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتالیکن میں نے اپنے سے قربانی شروع کی ہے ہم اپنے سے قربانی اپنے وزیروں سے اپنے رہن سہن سے کوئی میں نے دورہ نہیں کیا جس دورے سے میری قوم کوفائدہ نہیں ہے حالانکہ مجھے اور بھی دوروں پر Inviteہوا تھا مجھے انگلینڈ میں بھی Inviteکیا ہوا تھا کہ ورلڈکپ بھی دیکھ لیں گے میں نے یہ سوچا کہ میں کوئی یہ پاکستان کا پیسہ خرچ نہیں کروں گا جب تک میری قوم کو فائدہ نہیں یہ سوچ میں انشاء اللہ ساری گورنمنٹ میں آہستہ آہستہ نیچے تک لے آؤں گا میں Complete کرلوںدوسری چیز جو ہماری ایف بی آر ہے اس کو بالکل ہم نے بدلنا ہے اس کے اندر ریفارمز لے کے آنی ہے شبر زیدی اور میں نے یہ میں نے ذمے داری لی ہے کہ میں نے اور شبر زیدی نے اس کو ٹھیک کرنا ہے ہم دونو ںنے وہ ایکسپرٹ ہیں میں نے لوگوںکو احساس دلوانا ہے کہ آپ جب ٹیکس دیں گے آپ پر خرچ ہوگا اور ایف بی آر کے اندر ہم نے ریفارمز لانی ہیں جو لوگوں کو خوف ہے ایف بی آر سے وہ ہم نے ختم کرنا ہے ساتھ ساتھ ادارے جو ہیں گورنمنٹ کے جو ہمارے لاء انفورسٹمنٹ کے ایف آئی اے ہے پولیس ہے وغیرہ وغیرہ جوان اداروں کو ہم نے لوگوں کو یہ احساس ہو کہ یہ ہمارے دشمن نہیں ہیں ان کو ہم نے ٹھیک کرنا ہے ساتھ ساتھ یہ ریفارمزچلتی جائے گی یہ ریفارمز پراسیس چلتا جائے گا اور انشاء اللہ میں یہ سمجھتاہوں کہ آپ دیکھیں کہ یہ ادارے بھی ٹھیک ہوں گے ہم بھی چینج ہوں گے اور میں یہ امید رکھتاہوں کہ وہ عوام جو دنیامیں چند ملکوں میں سے سب سے زیادہ ٹیکس دیتی ہے میں یہ امید رکھتا ہوں خیرات دیتی ہے ہم سب سے زیادہ دنیا میں پانچ ملکوں میں خیرات دیتے ہیں ہم سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں ہم ٹیکس کو بھی ایک نیشنل ڈیوٹی سمجھیں گے ہم یہ سمجھیں گے کہ ملک کو اٹھانے کے لئے ہم ٹیکس دیتے ہیں۔ حامد میر نےکہاکہ اس کا مطلب ہے آپ کہہ رہے ہیں اچھا وقت آرہا ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے؟ عمران خان نے کہا کہ اچھا وقت توحامد میر انشاء اللہ اس ملک میں آنا ہے آنا تو ہے کیونکہ اس ملک کو یہ اللہ نے خاص یہ واحد ملک تھا جو اسلام کے نام پر بنا تھا اور ہم دور چلے گئے اپنے آئیڈیل سے جو مدینہ کی ریاست کے آئیڈیلزتھے وہ انشاء اللہ وہ واپس لے کے آئیں گے پاکستان کو اس کووہ ملک بنائیں گے کہ جدھر ریاست ذمے داری لے گی اپنے کمزورلوگوں کوایک فلاحی ریاست بنائیں گے صرف ہم نے لوگوں کو Convinceکرنا ہے بیرون ملک پاکستانی بیٹھے ہیں وہ ہمارے سب سے بڑے سپورٹرز ہیں ان کو احساس ہے کہ یہ کتنا قیمتی ملک ہے اندر جو پاکستانی ہمارے ہیں ان کو ہم نے یہ احساس دلوانا ہے کہ جس طرح اب تک ہم سمجھتے تھے کہ ٹیکس دینا ایک اس گورنمنٹ کو ٹیکس دینا ہے جو کہ عیاشیوں میں اڑاتی ہے بڑے بڑے محلوں میں ا ن کو یہ احساس دینا ہے کہ انشاء اللہ ان کا ٹیکس عوام پر خرچ کریں گے۔پروگرام میں کوئٹہ چیمبر آف کامرس انڈسٹری سے صلاح الدین خلجی نے کہاکہ بدقسمتی سے کوئٹہ بلوچستان کو ایران کے ساتھ ٹریڈ میں مشکلات آرہی ہے کہ ہمارا کوئی بینکنگ سسٹم نہیں ہمیں حوالے اور ہنڈی پر مجبور کیاجارہاہے تو ہم کیا کریں کس طرف جائیں ہماری یہاں سے جو گڈز جاتی ہیں پنجاب میں اس کی ڈاکیومنٹ کو وہ Reject کردیتے ہیں وہ بلوچستا ن کے ڈاکیومنٹ کو نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ جی یہ بلوچستان کے ڈاکیومنٹ ہیں مثلاً کہ ایک ویران صوبہ ہے اور اس میں اگر یہ پوزیشن ہے بن رہی ہے تو کیا کیاجائے تیسرا یہ ہے کہ Charity begin from homeتو عمران خان اور ان کی ٹیم کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنے ڈکلیئرز کریں تاکہ عوام کے لئے ذرا Exampleپیدا ہو کہ واقعی کچھ ہمارے بڑے بھی ہمارے لئے کررہے ہیں جیسے مدینے کی ریاست میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کرتے تھے؟ اس پر عمران خان نے کہا کہ بالکل بات ٹھیک کہہ رہے ہیں دونوں باتیں ٹھیک کی ہیں انہوں نے، پہلے تو ادھرآئیں کہ جو لیڈر شپ ہے وہ اپنے سے شروع کرتی ہے اور ہمیں پتا سب انگریزوں میں اور یہ جو مغرب کے اندر تویہ چیزیں بعد میں آئی ہیں لیکن مدینہ کی ریاست میں تو یہ سب سے پہلے آگئی کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہا کہ میری بیٹی بھی قانون توڑے تو وہ ذمے دار ہوگی یعنی انہوںنے کوئی قانون سے اوپر نہیں اور پھر حضرت عمر کا جو مشہورہےکہ ایک عام آدمی بھی پوچھتا ہے کہ کدھر سے آپ نے یہ لباس لیاتو ایک لیڈر جواب دہ ہوتا ہے تو آپ بالکل بات ٹھیک کہہ رہے ہیں ،میں نے اپنی پارٹی کے اندر 2012ء سے ساری سینئر لیڈر شپ کو کہا تھا کہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں، میرے سارے اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں سارا میرا پیسہ پاکستان میں ہے، میں نے 25 سال باہر کمائی کی سارا پیسہ بینکنگ چینل سے پاکستان لے کے آیا ہوں ایک ایک پیسہ میرا پاکستان میں ہے اور میں ساری اپنی لیڈر شپ کو کہا ہے کہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں، جب آپ اپنے اثاثے ڈکلیئر کردیتے ہیں آپ ٹیکس نہیں پھر چوری کرسکتے تو آپ کے لئے اور پھر دوسری چیزمیں یہ کہناچاہتاہوں کہ یہ جو انہوں نے کوئٹہ میں بات کی جو بلوچستان میں ایشو ہے یہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں اب تک ہمارے قبائلی علاقے کے اندر بھی اوربلوچستان میں جو لوگ بارڈر پر رہتے ہیں وہ ایک قسم کا پرانا ایک traditionبنی ہوئی ہے کہ وہاں سے چیزیں آتی ہیں اسمگلنگ ہوتی ہے ،اس پر ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم کیسے ان کی مدد کریں ،ابھی افغان صدر آرہے ہیں ان کے ساتھ ہم افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بات کررہے ہیںکیوں کہ اگر پاکستان میں اسمگلنگ رہے گی تو ہماری انڈسٹری تو کھڑی نہیں ہوگی اور انڈسٹریلائزیشن کے بغیر نہ تو ہم لوگوں کو غربت سے نکال سکتے ہیں نہ روزگار دے سکتے ہیںکیوں کہ انڈسٹریلائزیشن ہوگی تو روز گار ملے گا چائنا جو لوگوں کو غربت سے نکالا ہے انہوں نے اندسٹریلائز کیا تھا ہماری اسمگلنگ کی وجہ سے اور جو ہماری پچھلے دور میں بنی کہ ہم نے ٹیکس جمع کرتے کرتے اپنی انڈسٹری کو تباہ کردیا ہم واپس اپنی انڈسٹری کو کھڑا کررہے ہیں ،اس کے لیے ہمیں اسمگلنگ کو روکناپڑے گا،کیوں کہ اسمگلنگ اس طرح ہوتی رہی تو انڈسٹری اس طرح کھڑی نہیں ہوگی میں صرف یہ کہ جو کوئٹہ والے ہمارے دوست ہیں انہوں نے جو باتیں کیںمیںا ن سے بالکل اتفاق کرتا ہوں ہم سوچ رہے ہیں کہ قبائلی علاقوں سے بھی لوگ بارڈرز سے اسمگلنگ کو ایک تجارت سمجھتے تھے تو اب جو چینج آچکا ہے فاٹا بھی پختونخوا کا حصہ ضم ہوچکا ہے اور بلوچستان میں strengthning ہورہی ہے اس لیے ہم سوچ رہے ہیں کہ ان کے لیے ہم کس طرح کا کریںکوئی ایسی اکنامک زون بنائیں کہ دونوں طرف بارڈر کا کوئی ایسا زریعہ معاش بنائیں کہ تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو لوگوں کو روزگار ملے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں