آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلے اثاثے ڈیکلیئر کریں، ادائیگی قسطوں میں بھی کرسکتے ہیں،مشیرخزانہ

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن ’’پاکستان کیلئے کرڈالو‘‘ میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین سید شبر زیدی اور وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر نے شرکت کی اور میزبان حامد میر اور پروگرام میں شریک شرکاء کے سوالات کے جواب دیئے ۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہاکہ پاکستان کا ایک مستقل مسئلہ کم ٹیکس وصولی رہا ہے، ٹیکس ریونیو ہماری جی ڈی پی کا 11سے 12 فیصد ہے جو اس خطے میں سب سے کم ہے، بے نامی قانون کے تحت کارروائی سے پہلے ایک موقع دینا چاہتے ہیں ، ترسیلات اگر جائز آمدنی سے ٹیکس ادائیگی کے بعد آرہی ہیں تو انہیں ڈکلیئر کرکے ان پر ٹیکس دینے کی ضرورت نہیں ، وقت اگر نہیں ہے تو پہلے اثاثے ڈکلیئر کریں ، ادائیگی بعد میں قسطوں میں بھی کرسکتےہیں ۔ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ ظاہر اثاثے کسی فورم پر بھی انکے خلاف بطور ثبوت پیش نہیں ہوسکتے ، چھاپے مارنے کے اختیار پر نظر ثانی کررہے ہیں، ایک لاکھ 52ہزار آف شور اکاؤنٹس کا ڈیٹا ہمارے پاس

ہے ، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس اسکیم میں شامل نہیں ، لوگ ان پر ایمنسٹی لیکر پھر لاکھوں گاڑیاں منگوالیتے ہیں ، اسکیم ریونیو کیلئے نہیں ہے معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے ہے۔ چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی نے کہا کہ سیلز ٹیکس ڈیفالٹر 2فیصد دیدیں تو پرانی سیل کا نہیں پوچھا جائیگا، پچھلی اسکیم میں ظاہر اثاثوں پر کسی کیخلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا ایک مستقل مسئلہ کم ٹیکس وصولی رہا ہے، ٹیکس ریونیو ہماری جی ڈی پی کا 11سے 12 فیصد ہے جو اس خطے میں سب سے کم ہے، لوگوں کی بنیادی ضروریات تعلیم،صحت اور انصاف کے نظام کو درست کرنے اور ملک کے دفاع کی ضرورت اسی وقت پوری ہوسکتی ہے جب ہم اپنے پائوں پر کھڑے ہوں، ٹیکس وصول کریں اور باہر کی دنیا سے قرضے لینے کیلئے مجبور نہ ہوں، ہم لوگوں کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں جن کی بے نامی پراپرٹیز ہیں یا کیش ہیں کہ وہ سیاہ اکانومی سے سفید اکانومی کی طرف آجائیں اور ٹیکس کے نظام میں آکر انہیں ڈکلیئر کردیں، اگر آپ کے پاس کیش ہے تو آپ فقط 4فیصد ادا کر کے اسے وائٹ کرسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ آپ وہ کیش دکھائیں اور بینک میں رکھیں، اسی طرح آپ کے پاس جو ریئل اسٹیٹ ہے اس کو بھی آپ ڈیڑھ فیصد دے کر وائٹ کرسکتے ہیں۔ حامد میرکی جانب سے پوچھےگئے سوال کہ آپ کے پاس کیا ضمانت ہے کہ لوگ آپ پر اعتبار کر کے اپنے اثاثے ظاہر کردیں اور اس کے بعد ایف بی آر انہیں تنگ نہیں کرے گی؟ پر وزیرمملکت ریونیو حماد اظہر نے کہاکہ ہم نے بڑا واضح طورپر قانون میں لکھ دیا ہے کہ لوگ اس میں جو بھی اثاثے ظاہر کریں گے وہ پاکستان کی کسی بھی عدالت میں یا فورم میں ان کے خلاف بطور ثبوت استعمال نہیں ہوسکیں گے، اس کے علاوہ ہم ایک اور احتیاط کریں گے کہ ایف بی آر کے اندر بھی اس ڈیٹا کو محفوظ بنایاجائے ،یعنی ایف بی آر کے افسران کو یہ ڈیٹا مستقبل میں کسی بھی وقت فراہم نہیں کیا جائے گا، میں مکمل طور پر لوگوں کو تسلی دینا چاہتا ہوں کہ قانون میں واضح لکھ دیا گیا ہے، آپ کا ڈیٹا اور شناخت جو آپ اثاثہ ظاہر کریں گے اس کی وجہ سے آپ کوا نشاء اللہ کوئی پرابلم نہیں آئے گی۔ حامد میر نے سوال کیا کہ شبر زیدی صاحب ابھی بہت سے لوگ ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ، ان کے پاس ٹیکس نمبر بھی نہیں لیکن ملک میں ایک ماحول بن رہا ہے ، اگر کوئی ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے تو کیا وہ اس ٹیکس اسکیم کے ساتھ فائدہ اٹھاسکتا ہے؟ اس پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ بالکل، اس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ایک سوال کہ جن لوگوں نے اپنے ملازمین یا رشتہ داروں یا دوستوں کے نام پر اثاثے رکھے ہوئے ہیں وہ اگر اب رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو اوپن کرتے ہیں، سب کچھ ڈکلیئرڈ کردیتے ہیں تو ان کیخلاف کوئی کارروائی تو نہیں ہوگی؟ پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ کوئی کارروائی نہیں ہوگی، جس طرح حماد اظہر نے بتایا کہ اس کیخلاف کارروائی نہیں ہوگی، بے نامی کو بھی اپنے نام پر ڈکلیئر ڈ کیا جاسکتا ہے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔حامد میر نےکہا کہ چھاپے مارنے کا اختیار ملنے کے حوالے سے خبریں چل رہی ہیںاس پر حماد اظہر نے کہاکہ ایسی کوئی بات نہیں ہم چادر اور چار دیواری کو پامال نہیں کریں گے ۔پروگرام کے دوران کراچی چیمبر کے ہارون فاروقی کے سوال کےجواب میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ کسی آدمی نے کوئی بھی اثاثہ چاہے وہ پراپرٹی ہو یا کوئی اثاثہ اگر under declare کیا ہوا ہے، اگر ایک بلڈنگ 50کروڑ کی ہے اس کو20کروڑ declare کیا ہے تو وہ اس ایمنسٹی میں differencial پر4فیصد دے کر اس کو اپنی ویلیو پرلاسکتا ہے، یہ پازیٹو میں ہے نیگیٹو میں نہیں ۔حامد میرکے سوال کہ اثاثے ڈکلیئرڈ کرنےکے بعد کیا وہ شخص قسطوں میں ٹیکس کی رقم ادا کرسکتا ہے؟ پر مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہاکہ جی یہ قسطوں کا نظام بھی سہولت کیلئے پیش کیا گیا ہے، جو لوگ یہ شکایت کررہے ہیں کہ ہمیں وقت نہیں مل رہا ہے ان سے عرض کروں گا کہ اسی وجہ سے قسطوں کا نظام بھی رکھا گیا ہے لیکن آپ ڈکلریشن تو کرلیں، جہاں تک ڈیکلریشن کا سوال ہے جس میں پیسوں کی فوری منتقلی نہیںہےتو آپ وہ کریں۔ پروگرام میں سرحد چیمبر کے زاہد اللہ شنواری نےسوال کیاکہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کیا ریونیو اکٹھا کرنے کی اسکیم ہے یا documentation of economy کی اسکیم ہے ؟پر وزیرمملکت ریونیو حماد اظہر نے کہاکہ یہ اسکیم ریونیو جنریشن کے لئے بالکل بھی نہیں، یہ ایک فیصد بھی ریونیو جنریشن کیلئے نہیں ، اس میں ہم نے ایسی شقیں ڈالی ہیں کہ یہ tax broadning کیلئے ہے، آف شور ائونٹس کا ڈیٹا ہمارے پاس آگیا ہے، ایک لاکھ 52ہزار اکائونٹس ، 28ممالک میں موجود ہیں اور دس ممالک سے مزید تفصیلات آرہی ہیں جوپاکستانیوں کی ہیں،اب ہمارے پاس یہ سارا ڈیٹا موجود ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اس آسان اسکیم کا فائدہ اٹھائیں اور کسی ٹینشن میں پڑے بغیر اس اسکیم کے ذریعہ اپنے سارے اثاثے ظاہر کردیں۔حامد میر کے سوال کہ کیا باہر سے بھیجی گئی ریمی ٹنس کو اسکیم میںظاہر کرنے کی ضرورت ہے؟ پرچیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ نہیں ایمنسٹی اسکیم میںاسے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ان کی وائٹ منی ہے۔ اس پر مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہاکہ جو بھی remmittances آرہے ہیں اگر ان کیلئے جائز انکم ہے اور وہ باہر اپنے ملک میں ٹیکس دے رہے ہیں تو یہاں پر وہ taxable نہیں ہیں۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں مگر ان اوورسیز پاکستانیوں کو گھبرانے کی ضرورت ہے جن کی income chargeable tax in Pakistan ہے اور انہوں نے نہیں دیا ہے، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہاکہ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی پاکستانی پاکستان سے پیسے کما کر ٹیکس نظام سے آئوٹ سائیڈ ہو کر کسی اور ملک مثلاً برطانیہ چلا گیا اب اس کے پاس وہاں پر ایک ملین پائونڈ ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس کو وائٹ کرے تو وہ کرسکتا ہے۔حامد میرنے پروگرام کے دوران امریکا میں مقیم صدف نامی ایک خاتون کا سوال بھی لیا ،ان کا سوال تھاکہ میرے پاکستان میں 3،4پلاٹس ہیں تو ان کے بارے میں پوچھنا تھا، میرے نام پر رجسٹرڈ ہیں لیکن جب لیے تھے بہت پہلے کی بات ہے کوئی 23لاکھ کا ایک پلاٹ دس سال پہلے لیا تھا، پلاٹس میرے نام پر رجسٹرڈ ہیں لیکن ہنڈی کے ذریعہ اور ویسے ہی جب ہم پاکستان گئے تو پیسے لے کر گئے اس وقت مرحلہ وار ادا کیے تو ان کیلئے ٹیکس وغیرہ کا سسٹم کیسے ہے، ان پر ہمیں ٹیکس دینا ہوگا؟اس پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ پہلی بات وہ پلاٹ ایک خاص مدت 3سال سے زیادہ پرانا ہے تو وہ taxable نہیں اگر وہ اسے بیچیں گی،سوال یہ آرہا ہے کہ پاکستان میں پراپرٹی کی ظاہر شدہ ویلیو ہمیشہ فیئر ویلیو سے کم تھی تو انہوں نے درحقیقت ایک کروڑ روپیہ دیا ہوگا اور پلاٹ پچاس لاکھ روپے پر رجسٹر ہوا ہوگا، ٹ، تکنیکی اعتبار سے ان کا50لاکھ پلاٹ کی شکل میں وائٹ نہیں ، ہم نے یہ بھی شق رکھی ہے کہ وہ اس فرق پر ڈیڑھ فیصد دے کر اسے فیئر ویلیو پر لاسکتی ہیں ،دوسری صورت میں جب وہ بیچیں گی تو کیپٹل گین کا امائونٹ تھوڑا ہوگا لیکن ابھی کوئی مجبوری نہیں۔حامد میر کے سوال کہ پاکستان میں بہت سی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ہیںاور ہمارے شمالی پاکستان میں تو بہت ہیںکیا ان کو بھی ظاہر کرنے کی ضرورت ہے؟ اس پر چیئرمین ایف بی آر شبر زید ی نے کہاکہ نہیں،اس کی اجازت نہیں۔وزیرمملکت ریونیو حماد اظہر نے کہاکہ بہت سارے لوگ ماضی میں لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں منگوالیتے تھے اور پھر انتظار کرتے تھے کوئی ایمنسٹی آئے، ایمنسٹی آتی تھی وہ گاڑیاں ڈکلیئرڈکرتے تھے اور پھر نئی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں منگالیتے تھے، ہمارا یہ تہیہ ہے یہ میں آج آپ کویہاں بتارہا ہوں کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی پہلی اور آخری ایسیٹ ڈکلیریشن اسکیم ہے۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا اگر گاڑی کسٹم پیڈ ہے اور ڈکلیئرڈ نہیں ہے تو ایمنسٹی مل جائے گی لیکن اگر امپورٹ ہی غیرقانونی ہوئی ہے تو اس پر نہیں ہے، اسمگل شدہ گاڑی پر نہیں ہے۔پروگرام کے دوران حامد میر نےکوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر جمعہ خان بادیزئی کوسوال کرنے کا موقع دیا ،انہوں نے سوال کیاکہ اگر کسی آدمی کے پاس30جون 2018 ء میں کیش تھا اور انہوں نے پراپرٹی خرید لی ہے وہ اب اس ایمنسٹی اسکیم میں ظاہر نہیں کرسکتا ہے تو اس کا کیا حل ہے؟ ایمنسٹی اسکیم کا 30 جون 2019ء تک جو وقت ہے وہ بہت کم ہے، اور ایک جو کیش کی شر ط ہے کہ آپ نے بینک میں کیش میں رکھنا ہے اور رسید دکھا کر آپ ایمنسٹی سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں اس میں لوگوں کیلئے بڑا مسئلہ ہے اور مشکل ہے؟ اس پر مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہاکہ دیکھیں یہ شرط کیوں لگائی گئی ہے کہ کیش کو بینک میں لاکر ڈالا جائے کیونکہ جو پچھلی ایمنسٹی اسکیمز وغیرہ ہوئیں ان میں یہ شرط نہیں تھی اور لوگ کچھ بھی رقم بتاسکتے تھے، اس کے بعد کیا ہوا کہ انہوں نے مستقبل کی انکم بھی اس سے وائٹ کرلی اور اس میں وہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگئے، اس سال ریونیو جنریشن میں جو کچھ کمی آپ دیکھ رہے ہیں وہ اسی وجہ سے ہوئی کہ پچھلے سال جب ایمنسٹی اسکیم آئی تو لوگوں نے فیوچر کی انکم کو وائٹ کروا کر ٹیکس کا فائدہ لے لیا، ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ پاکستانی عوام کیلئے یہی فیئر ہے کہ جو بھی کیش لاکر بینک میں ڈالے اس سے سب کو اطمینان اور تسلی ہوجائے گی کہ actually یہ موجودہ جو اثاثے ہیں ان کو وائٹ کروارہے ہیں اور کہیں ہمیں اگلے سال اس پر ریونیو کی چوٹ نہ آئے۔وزیرمملکت ریونیو حماد اظہر نے کہاکہ ایمنسٹی اسکیم کی ڈیڈلائن میں توسیع کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہوگا، یہ اسکیم ڈیڑھ ماہ سے موجودہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ بیچ میں عید کی چھٹیاں بھی آئیں جس میں تقریباً پانچ دن یا ایک ہفتہ چھٹیوں میں تھا، لیکن ابھی بھی ایک ہفتہ ہے، اسکیم آپ دیکھیں، بل کی شکل دیکھیں تو ڈکلیئرڈ کرنا، آن لائن فارم ڈائون لوڈ کرنا بہت آسان ہے،اسکیم کی سہولت کیلئے ہم ہفتہ اور اتوار بھی کھلے رہیں گے اور اسٹیٹ بینک بھی کھلا ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں وزیرمملکت ریونیو حماد اظہرنے کہاکہ میں صرف یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ جس نے پچھلے سال ایمنسٹی اسکیم میں جو چیز ظاہر کی اب اس کی بنیاد پر اسے پکڑا جارہا ہے، ہمارے فیلڈ آفیسرز کے پاس وہ ڈیٹا ہے ہی نہیں جو پچھلے سال لوگوں نے ڈکلیئر کیا ہے۔اس موقع پرچیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ اگر کسی نے4اثاثےظاہر کیے اور پانچواںاور چھٹا نہیں کیا اور میں کل چھٹے کے پیچھے جائوں تو آپ مجھے بولیں کہ میں ایمنسٹی کے پیچھے جارہا ہوں۔لہٰذاعوام اپنے تمام اثاثے ظاہر کریں۔ شبر زیدی نے کہاکہ میں اگلی بات یہ بتادوںکہ جو لوگ آج ٹیکس کے سسٹم میں آنے سے گھبرارہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بعد میں ہمیں ایف بی آر تنگ کرے گا توہمارا پورا پراسس یہ ہے کہ ہم confidence building کرنا چاہتے ہیں، اس کیلئے ہم نے کوشش کی ہے کہ جتنا ہوسکے ہم ذاتی مداخلت ختم کردیں، جتنی چیزیں ہوسکیں آن لائن ہوں، مثال کے طور پر آج ہی میں نے پریس ریلیز جاری کی ہے کہ آئندہ سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن آن لائن ہوگی اس میں کوئی ذاتی مداخلت نہیں ہوگی، اسی طرح شیخ صاحب نے اتفاق کیا ہے کہ تین سال کا جو آڈٹ ہے وہ بھی تین سال آڈٹ نہیں اس کو ٹیسٹ کریں گے، کسی کو ر ی آڈٹ نہیں کریں گے۔ لاہور چیمبر کے الماس حیدر کے سوال کہ بہت سے لوگ جو ایمنسٹی اسکیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ وکیلوں کی مدد کے بغیر نہیں آنا چاہتے، لاہو ر چیمبر کی طر ف سے پہلے درخواست یہ ہے کہ آپ اسکیم کی تاریخ میں ضرور توسیع کردیجئے گا اور اگر وزیراعظم سے اجازت لینی پڑتی ہےتو برائےکرام ضرور لیں ۔ دوسرا یہ کہ کیش ٹرانزیکشنز اور کیش کو کیس نے سونے ، ڈالر اور پرائز بانڈز میں تبدیل کیا ہوا ہے اور وہ ساری کی ساری چیزیں ہم نے ایمنسٹی سے نکال دی ہیں، اس کا کوئی راستہ نکالنا پڑے گا، مثال کے طور پر گولڈ ہے تو کیا ہم کسی بینک کے پاس، نیشنل بینک میں یا کسی اور جگہ جمع کرواسکتے ہیں تاکہ اس کو بھی consider کیا جائے؟پر حفیظ شیخ نے کہا کہ الماس حیدر کے پوائنٹس میں بہت validity ہے، جہاں تک ڈالرز کا ہے تو ڈالرز کو کیا جاسکتا ہے، جو گولڈ اور پرائز بانڈز کا جوبیئرر اثاثوں کا ہے اس کے بارے میں ہم آپ کو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تکنیکی پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ چیزیں شامل نہیںکی گئیں، تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی۔اسی سوال پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ الماس بھائی لوگوں نے ایک عمومی تاثر دیا ہے خاص طور پر لاہور میں کہ اسٹاک اینڈ ٹریڈ جیسے کپڑے کا پڑا ہوا ہے یا شوگر کا پڑا ہوا ہے وہ نہیں کرسکتا، یہ غلط ہے اسٹاک اینڈ ٹریڈ کو declare کرسکتا ہے۔ حامد میر کے سوال کہ ایک صاحب کہہ رہے ہیں کہ ان کے اپنے گھر میں ان کی والدہ کا، ان کی دادی کے تین چار کلو سونے کے زیورات پڑے ہوئے ہیں تو وہ بھی ڈیکلیئر کرنے کی ضرورت ہے؟تو شبر زیدی نے کہا کہ ذاتی سونے کی اجازت نہیں ہے ۔ اسی سوال پر حماد اظہر نے کہا کہ اسکیم ریونیو کیلئے نہیں ہے معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے ہے، جب ہم بات کرتے ہیں اپنی بلیک اکانومی کی تو یہ کیش اکانومی ہوتی ہے جہاں پر کیش کے ذریعہ سارے معاملات چلتے ہیں، بینکنگ سسٹم کے ذریعہ نہیں چلتے، وہ ٹیکسیشن کی نظر سے بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور بینکنگ سسٹم میں بھی وہ سرکولیشن نہیں آتی، گولڈ اور بانڈز جو خاص طور پر بیئرر بانڈز ہیں، رجسٹرڈ کی میں بات نہیں کررہا، اس کی اسی لئے ہم نے اجازت نہیں دی تاکہ لوگ اب ان اثاثوں کی طرف آئیں جو documented ہیں جو اس شکل میں ہوسکتے ہیں جو ڈیکلیئر ہوسکتی ہے، اب کوئی شخص لکھ کر دیدے کے میرے پاس گھرمیں اتنا گولڈ پڑا ہے، ہم تو نہیں تصدیق کرسکتے۔حامد میر نے پوچھا کہ تین ٹن سونے والے ؟تو حماد اظہر نے کہا کہ تین ٹن سونے والے کرسکتے ہیں جس پر شبر زیدی نے کہا کہ وہ تو اسٹاک کرتے ہیں۔حماد اظہر نے وضاحت کی کہ اگر میں ایک عام آدمی ہوں میرے گھر میں سونا پڑا ہوا ہے میں نہیں declare کرسکتا، مجھے وہ wealth statement میں ظاہر کرنا پڑے گا، نارمل ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، اگر کوئی شخص سنار ہے اس کی جیولری کی دکان ہے تو وہ stocking trade میں یعنی اپنی کتابوں میں اس سونے کو declare کرسکتا ہے، میں سمجھتا ہوں زیادہ سونا بھی انہی لوگوں کے پاس ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ اگر وہ stocking trade میں لائیں گے تو اگلے سال stocking trade سے کاروبار شروع ہوگا، اس کو وہ وہاں سے دوبارہ نکال نہیں سکتے، ہم کاروبار وہیں سے شروع کریں گے۔ حامد میر نے صدر ٹیکس بار عبدالقادر میمن کو سوال پوچھنے کی دعوت دی تو عبدالقادر میمن نے کہا کہ میرے دو سوالات ہیں ، میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ اگر میرا کوئی ایسٹ اس وقت پچاس روپے کا ہے اور میں نے اس کو ری ویلیو کر کے پچاس روپے اور کر کے سو روپے مارکیٹ ویلیو پر لے آیااور اگر اس کو ایک سو دس پر بیچا تو پھر اس میں صرف میرا گین دس روپے ہوگا ۔ دوسرا یہ کہ ہم بطور وکیل ہمیشہ اپنے کلائنٹ کو یہ کہتے ہیں کہ یہ آخری اسکیم ہے اس کے بعد گورنمنٹ نے کسی بھی قسم کی ریاعت کسی بھی ایسے آدمی کے ساتھ نہیں کرنی جس نے پاکستان میں پیسہ کمایا اور پراپر ٹیکس نہیں دیا ۔شبر زیدی نےکہا کہ پہلے والے سوال صحیح ہے اس کا دس گین اتنا ہی ہوگا اس کو ویلیوشن الائوڈ ہے ۔دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جنرلی جو ڈیسکلیشن لاء آتا ہی گورنمنٹ کے پہلے سال میں ہے اس گورنمنٹ نے فرسٹ ایئر میں دیا ہے اور یہ لاسٹ اسکیم ہے ۔ حامد میر نے کہا کہ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس لئے تاریخ کو بڑھایا جائے کہ یہ ان کو سمجھنے میں بہت دیر لگی جس پر حماد اظہر نے کہا کہ آسان ہم بنا رہے ہیں ۔ جو اب اگلہ فارم یہ فنانشل جو آخری ڈیٹ اگلے فنانشل ایئر کی اور اس سال کی اس میں انشا اللہ تعالیٰ اس میں لوگ اپنے ٹیلی فون سے بھی اسمارٹ فون سے ریٹرن فارم جمع کراسکیں گے۔اس معاملے پر شبر زیدی نے کہا کہ ہمارے پاس یہ چوائس تھی اس کو مینولی کردیتے لیکن مینول کرنے میں وہ سیکریسی اور جو پرابلم تھی وہ ختم ہوجاتی ۔ حامد میر کے سوال کہ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایف بی آر کو ایسٹ ڈکلیئر کیے ہوئے ہیں انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائے ہوئے ہیں جب وہ ایف بی آر پر جا کر اپنا نام چیک کرتے ہیں تو جو گاڑی انہوں نے ڈکلیئر کی ہوئی ہے وہاں انہیں نظر نہیں آتی اس کی کیا وجہ ہے ، شبر زیدی نے کہا کہ پورٹل ایک indicative ہوسکتا ہے وہ گاڑی مس ہوگئی ہو یا نہیں ہو پورٹل صرف indicative ہے ، اس کا مقصد یہ ہے ہمیں بھی نہیں پتہ کون فائل کر رہا ہے unless we see یہ جو ہم نے سیکریسی کا concept رکھا ہوا ہے وہ اسی لے رکھا ہوا ہے کہ کمپیوٹر کے تھرو ہو اور کسی آدمی کو دوسرے کا نہ پتہ ہو۔ پروگرام میں حامد میر فیصل آباد چمبر آف کامرس انڈیسٹر کے صدر ضیاء عالم دار کوسوال کی دعوت دی جس پر انہوں نے کہا کہ میرا حکومت سے یہ سوال ہے جو سابقہ حکومت کا سب سے اسٹارنگ منسٹر اسحاق ڈار تھا اور وہ دو فیصد جی ایس ٹی واپس نہیں کرسکے تو میرے لئے بڑی حیران کن بات ہے کہ سترہ فیصد جی ایس ٹی وہ یہ موجودہ حکومت واپس کیسے کرے گی ؟ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ جو بنیادی ایشو ہے اس میں یہ ٹیکسٹائل کی جانب سے ہماری پاس آئی ہے کہ ہمارا کیا ویو ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ ایکسپورٹز جہاں تک ہیں اس پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا لیکن اگر کوئی ڈومیسٹک سیلز کر رہا ہے یعنی پاکستان کے اندر کوئی کپڑے بیچ رہا ہے تو اس کے اوپر سیلز ٹیکس لگے گا اب ہمارے لوگوں کا اندازہ یہ ہے کہ کوئی بارہ سو ارب روپے کا یہاں پر کپڑا بکتا ہے اور وہ چھ سے سات بلین ٹیکس صرف جمع کرتا تو یہ چیز موجودہ بحران کی صورتحال میں قابل قبول نہیں ہے اور ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ایکسپورٹز کے اوپر کوئی ٹیکس نہیں لگے آپ جتنی ایکسپورٹ کریں ہم آپ کی مدد کریں گے ہم ان کو بجلی پر سبسڈی دے رہے ہیں ہم گیس سبسڈائز کر رہے ہیں ہم ان کے لون سبسڈائز کر رہے ہیں ہم کسی طرح کا کوئی ٹیکس ایکسپورٹ پر نہیں لگا رہے یہ بہت قیمتی ہیں ہمارے لئے ہم یہ کہہ رہے ہیں جو ہمارا دوسرا گول ہے ریونیو کو بڑھانے کا اس میں آپ ہماری مدد کریں اور اور یہ فیگر قابل قبول نہیں ہیں جہاں تک ان کی بات میں بہت میرٹ ہے کہ کہیں ریفرنڈز جو ہیں ان کے پھنس نہ جائیں اور میں نے ان سے کمیٹ کیا ہے اور ٹیم نے کمیٹ کیا ہے ۔ سینئر وائس پرزیڈنٹ آف سیالکوٹ چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری وقاص اکرم ایوان نے سوال کیا کہ زیرو رجیم کے خاتمے سے ایکسپورٹ بڑھیں گی SRO1125 جو کہ وید ھ ڈرا کیا گیا ہے اس بجٹ میں اس کے جو اثرات ہیں وہ ایکسپورٹ پر ایک بم گرانے کے مترادف ہیں ؟ اس پر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ہمارے بجٹ کے دو بنیادیں ہیں ایک ایکسپورٹ کا بڑھانا دوسرا ہے ریونیو کا بڑھانا اور ہم چاہتے ہیں کہ دونوں پر ہم آپ کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں جہاں تک ایکسپورٹ کا ہے تو اب بھی میں یہ دہرادوں کہ ایکسپورٹ پر کسی طرح کا کوئی ٹیکس نہیں لگایا جارہا ہے یہ ایک غلط تاثر پھیل رہا ہے کہ خدانخواستہ کوئی ایکسپورٹ پر ٹیکس لگایا جارہا ہے ایسی کوئی بات نہیں ۔ شبر زیدی نے کہا کہ جب ہم ایک جنرل گریڈ سسٹم پر جارہے ہیں جس میں سب پراڈاکٹ پر سترہ فیصد کا ریٹ ہے جب ایکسپورٹ انڈیسٹریز کے لئے ہم separate ریٹ رکھتے ہیں تو ہمارا سسٹم ڈیسٹرب ہوتا ہے کیوں کہ صرف اس میں کاٹن ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ آئٹم اور زیادہ بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کا abuse بھی ہوتا ہے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لوکل سیل جس طرح شیخ صاحب نے سمجھایا لوکل سیل ٹیکس ایبل ہے تو لوکل سیل کا input بھی بعض دفعہ abuse ہوتا ہے against ایکسپورٹ سے تو یہ کچھ مسائل ہیں تو یہ کچھ وسائل ہیں جس کی وجہ سے اور جس طرح شیخ صاحب نے کہا اگر ریفنڈ میں مینج نہیں کرسکے تو ہم review کے لئے ہمیشہ دستیاب ہیں حامد میر کے سوال کہ کیا اس سے صرف انفرادی طور پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یا بڑی بڑی کمپنیاں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں؟ حماد اظہر نے کہا کہ جو ہماری ایسٹ ڈکلیئریشن اسکیم ہے اس میں اور ماضی کی اسکیم میں یہی منفرد چیز ہے کہ آپ اپنی بیلنس شٹ بھی ریوائس کرسکتے ہیں اگر آپ کے پاس گڈز ہیں جو آپ سیلز ٹیکس کے اندر ڈکلیئر کرسکتے ہیں تو اس کے اندر وضع کیا گیا ہے طریقہ کہ کتنی اس کی ادائیگی ٹیکس کر کے ان گڈز کو بھی بیلنس شٹ میں لاسکتے ہیں ہمارے ملک میں بدقسمتی سے کافی دہائیوں سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ لوگ دو دو کتابیں لے کر چلتے ہیں ایک وہ کتاب جو ایف بی آر کو دیکھانی ہوتی ہے اور وہ کتاب جو حقیقت پر مبنی ہوتی ہے اب وقت آگیا ہے پاکستان بدل گیا ہے دنیا بدل گئی ہے ٹیکنالوجی بدل گئی ہے ہمارے پاس ڈیٹا آگیا ہے ہمارے پاس بے نامی قوانین آگئے ہیں اب ہمارے پاس بہت سارے ایسے جہاں پر بھی آپ کوئی ٹرانزیکشن کرتے ہیں کیش سے کریں یا بینک سے کریں اس کا ایک signature رہ جاتا ہے اکنامی کے اندر وہ ہم ڈکٹیٹ کرنے کی قوت رکھتے ہیں اور یہ حکومت تو خاص طور پر یقین رکھتی ہے کہ ٹیکس کے اندر بہتری لائے بغیر اب ملک ترقی نہیں کرسکتا تو میں سمجھتا ہوں اب یہ وقت آگیا ہے ہم نے یہ سہولت دے دی ہے کہ کمپنیز اپنی بیلنس شت کوریوائس کرسکتی ہیں اور کمپنیز کو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ اس پر شبر زیدی نے کہا کہ اس میں ایک بات کردوں لسٹیڈ کمپنی نہیں آسکتی پبلک لسٹیڈ بھی نہیں آسکتی اور نان لسٹیڈ آسکتی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں