آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میں شہباز اور مریم کی رائے کے درمیان کھڑا ہوں،خواجہ آصف

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگوکرتے ہوئے ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہاہے کہ ن لیگ میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ حکومت کو ہٹانے کیلئے فوری طور پر تحریک چلائی جائے،ن لیگ میں اس موضوع پر مختلف آراء ہیں، میں شہباز شریف اور مریم نواز کی رائے کے درمیان کھڑا ہوں،ان دونوں پالیسیوں کو ملا کر ہماری پالیسی ہونی چاہئے، ان دونوں آراء کے درمیان کہیں ہمارا راستہ ہے، نواز شریف سے میرا جذباتی لگاؤ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ میری رائے نواز شریف کی رائے کے قریب ہوگی، عرب ممالک میں نواز شریف کے ذاتی تعلقات آج بھی موجود ہیں، سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے کہا کہ موجودہ حالات میں اسپیکر کو اختیارحاصل ہے کہ لفظ سلیکٹڈ کو غیرپارلیمانی قرار دیدے، اسپیکر نے حالات کے مطابق جو فیصلہ کیا ہے وہ آئین و قانون کے مطابق ہے،سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ عرب ممالک کسی شخص کے نہیں پاکستان کے دوست ہیں۔امریکا ایران جنگ روکنے کی کوشش کرنی چاہئے، ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے

کہا کہ عرب ممالک میں نواز شریف کے ذاتی تعلقات آج بھی موجود ہیں، پاکستان کے عرب ممالک سے تعلقات نواز شریف کی معرفت نہیں تھے، ریاستوں کے باہمی تعلقات افراد کے باہمی تعلقات سے سبقت رکھتے ہیں، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات پاکستان کے خیرخواہ ہیں،اس سے قطع نظر کہ حکمران کون ہیں انہیں ملک کا مفاد مدنظر رکھنا چاہئے، خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی تعلقات ہیں، پاکستان میں حکمران کوئی بھی ہوں یہ تعلقات اسی طرح رہیں گے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی درست ہے کہ عرب ممالک نواز شریف سے کچھ ناراض رہے ہیں، ایکسپو کے معاملہ پر پاکستان نے یو اے ای کے مقابلہ میں ترکی کو ووٹ دیا تھا، متحدہ عرب امارات اس پر ناراض ہوگیا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے نواز شریف کے ساتھ ذاتی تعلقات ہیں، یو اے ای کے وزیرخارجہ نے مجھ سے ملاقات میں اس چیز کا اظہار بھی کیا تھا، ذاتی تعلقات ریاستوں کے باہمی تعلقات میں پیار و محبت کا اضافہ کرتے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی بات گڈ کوپ بیڈ کوپ والی نہیں ہے، مریم نے جو بات کی ہے وہ میری اور شہباز شریف کی بھی رائے ہے کہ حکومت ہماری میثاق معیشت کی پیشکش پر عملدرآمد چاہتی ہے تو بجٹ میں عوام دشمن اقدامات کو واپس لے کر عوام دوست اور بزنس فرینڈلی بجٹ بنایا جائے، بجٹ میں ترامیم کی جاسکتی ہیں اس کیلئے بجٹ میں ایک دو دن تاخیر بھی ہوجائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگر ہماری تجاویز پر پیشرفت ہوتی ہے تو حکومت اور اپوزیشن میثاق معیشت بھی کرسکتی ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا بیانیہ وہی ہے جو نواز شریف کا ہے، پارٹی میں مکمل اتفاق ہے کہ بیانیہ نواز شریف کا ہے اور وہی چلے گا،نواز شریف کا بیانیہ آئین کا بیانیہ ہے کہ حاکمیت پاکستان کی عوام کا ہے، اگر شہباز شریف اور مریم نواز کا کوئی اختلاف ہے تو وہ ایسا نہیں جسے جھگڑے سے تشبیہ دی جاسکے۔ سابق وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ن لیگ میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ حکومت کو ہٹانے کیلئے فوری طور پر تحریک چلائی جائے،ن لیگ میں اس موضوع پر مختلف آراء ہیں، میں شہباز شریف اور مریم نواز کی رائے کے درمیان کھڑا ہوں، ان دونوں پالیسیوں کو ملا کر ہماری پالیسی ہونی چاہئے، ان دونوں آراء کے درمیان کہیں ہمارا راستہ ہے، نواز شریف سے میرا جذباتی لگاؤ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ میری رائے نواز شریف کی رائے کے قریب ہوگی، مجھے کلیم ہے کہ میں نواز شریف کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ انکوائری کمیشن بنانا ہے تو 2002ء سے 30جون 2019ء تک قرضوں سے لے کر کولیشن سپورٹ فنڈ سمیت دیگر مدات میں باہر سے آنے والے پیسے کا حساب کتاب ہونا چاہئے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مشرف حکومت اور پی ٹی آئی حکومت کا بھی حساب ہونا چاہئے، حکومت حساب دے پانچ ہزار روپے قرضہ لے کر کہاں خرچ کیا۔ سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے کہا کہ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کو اسمبلی کے رولز کے مطابق ہاؤس آرڈر میں رکھنے کیلئے مکمل اختیارات ہوتےہیں، ڈپٹی اسپیکر کے مطابق سلیکٹڈ کا لفظ غیرپارلیمانی اور اراکین کی توہین ہے اس لئے اس پر پابندی لگائی ہے، اس وقت اسمبلی میں سلیکٹڈ کا لفظ جس پس منظر میں استعمال کیا جارہا ہے وہ ایک قسم کا طعنہ ہے، ان حالات میں اسپیکر کو اختیارحاصل ہے کہ لفظ سلیکٹڈ کو غیرپارلیمانی قرار دیدے، اسپیکر نے حالات کے مطابق جو فیصلہ کیا ہے وہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ایک لفظ پر پابندی لگ جائے تو سیاسی لوگ نئے نئے لفظ تلاش کرتے ہیں جو غیرپارلیمانی بھی نہ ہوں اور ان کا مفہوم بھی ادا ہوجائے، موجودہ پارلیمنٹ میں ماضی کے مقابلہ میں زیادہ تلخی پائی جاتی ہے، اس کی بڑی وجہ پارلیمنٹ میں حکومت کی اکثریت کم ہونا ہے، الیکشن جن حالات میں ہوئے اس کے بعد الزام تراشی بہت بڑھ گئی ہے، تحریک انصاف نے اپوزیشن میں ن لیگ کیخلاف بڑی تحریک چلائی، ایسی روایات ایک دفعہ قائم ہوجائیں تو تسلسل سے جاری رہتی ہیں۔سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ ملکوں کے تعلقات میں جذباتیت نہیں مفادات چلتے ہیں، عرب ممالک کسی شخص کے نہیں پاکستان کے دوست ہیں، عرب ممالک بینظیر بھٹو کے مقابلہ میں نواز شریف کو ترجیح دیتے تھے، نواز شریف کے مقابلہ میں عرب ممالک کا پلڑا عمران خان کے حق میں جھکتا نظر آرہا ہے،عرب ممالک کے پاکستان سے تعلقات میں بنیادی تعلق فوج سے ہے، عرب ممالک فوجی طاقت کی وجہ سے ہمیشہ پاکستان سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں اور اس کی مدد بھی لیتے ہیں۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ،قطر اور سعودی عرب کی طرف سے بیک وقت پاکستان کی امداد ہماری سفارتی کامیابی ہے،تمام خلیجی ممالک کی پاکستان کی امداد کا مطلب ہے کہ آپ ایران کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں، پاکستان کو کسی مالی امداد کے عوض کسی نئی خلیجی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہئے،پاکستان کو امریکا ایران جنگ روکنے کی کوشش کرنی چاہئے، اگر جنگ ہوجاتی ہے تو ہمیں غیرجانبدار رہنا چاہئے۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے بعد قطر سے بھی پاکستان کو پیسے مل گئے ہیں، قطر سے پاکستان کو تین ارب ڈالرز ملیں گے، حکومت پچھلے آٹھ ماہ میں عرب ممالک سے تقریباً نو ارب ڈالرز اور دیگر مراعات لے چکی ہے، قطر کے امیر ہفتے کو پاکستان کے دورے پر آئے، ان کی وطن واپسی کے بعد قطر کی نیوز ایجنسی نے خبر جاری کی کہ قطر کے امیر کی ہدایت پر نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے پاکستان میں 3ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جو ڈپازٹ اور براہ راست سرمایہ کاری کی صورت میں ہوگی، قطر واحد عرب ملک نہیں اس سے پہلے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کیلئے امدادی پیکیجز کا اعلان کرچکے ہیں، وزیراعظم کے دورہ کے بعد سعودی عرب سے پاکستان کو تین ارب ڈالرز اور تیل کی ادائیگیوں کی مد میں تین ارب ڈالرز سے زائد کی رعایت بھی ملی، اس کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورئہ پاکستان میں پاکستان میں 21ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے اعلانات کیے گئے،حکومت کو اگلی کامیابی متحدہ عرب امارات سے ملی، متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالرز جمع کرانے کا اعلان کیا ،اس کے علاوہ اعلان کیا گیا کہ یو اے ای پاکستان کے آٹھ ترقیاتی منصوبوں کو فائنانس کرے گا جن کی مالیت ایک اعشاریہ پانچ ارب درہم ہے۔شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ یہ ساری خبریں حکومت کے لحاظ سے اچھی نظر آرہی ہیں لیکن کیا سابق وزیراعظم نواز شریف کیلئے بھی یہ خبریں اچھی ہیں کیونکہ ملکی سیاست میں یہ تاثر رہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور قطر سے اچھے تعلقات ہیں، جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹ کر نواز شریف کو جیل میں ڈالا تو سعودی عرب کی مداخلت کے بعد شریف خاندان ڈیل کے تحت سعودی عرب چلا گیا جہاں اسٹیل مل لگانے کیلئے انہیں زمین بھی فراہم کی گئی اور فائنانسنگ میں بھی مدد کی گئی،نواز شریف دوبارہ اقتدار میں آئے تب بھی ان کے سعودی عرب سے تعلقات اچھے رہے، اس دور میں سعودی عرب نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد دی ، یہ امداد کیوں دی گئی آج تک اس کا پتا نہیں چل سکا ہے۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ ان حالات کی وجہ سے شریف خاندان سعودی عرب کے قریب سمجھا جاتا رہا، مگر پاناما کے معاملات میں خیال کیا جاتا رہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نواز شریف سے ناراض ہیں، اسی طرح نواز شریف قطر کے بھی قریب سمجھے جاتے تھے ،پاناما کا معاملہ سامنے آنے کے بعد نواز شریف مشکل میں آئے تو اس وقت سابق قطری وزیراعظم کا خط سامنے آیا، نواز شریف کے دور میں قطر کے ساتھ ایل این جی کی ڈیل بھی فائنل ہوئی، مگر یہی عرب ممالک جو نواز شریف کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے وہ اب عمران خان کے قریب ہوگئے ہیں اور ان کی حکومت کو بھرپور امداد کر کے سہارا دے رہے ہیں، کیا یہ بات درست ثابت ہوگئی ہے کہ ملکوں کے تعلق ذاتی نہیں بلکہ اپنے مفاد کے ساتھ ہوتے ہیں، اب اس وقت مفاد وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں ہے تو تعلقات اسی طرح جاری ہیں یا نواز شریف سے کوئی ناراضگی ہوئی اس کے بعد عرب ممالک ان سے دور ہوئے۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ شریف خاندان میں ایک بار پھر اختلافات کی خبریں سامنے آرہی ہیں، مدعا بظاہر وہی ہے کہ سیاست جارحانہ ہونی چاہئے یا مفاہمانہ ہونی چاہئے، اس اہم معاملہ پر ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز الگ الگ پیج پر نظر آرہے ہیں، یہ معاملہ 19جون سے شروع ہوا جب شہباز شریف نے بجٹ تقریر میں حکومت کو میثاق معیشت کی پیشکش کا اعادہ کیا، لیکن میثاق معیشت سے متعلق مریم نواز الگ پیج پر نظر آئیں اورا نہوں نے برملا اس کو رد کردیا، مریم نواز نے میڈیا سے بات چیت میں شہباز شریف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو جس بات پر وزیراعظم کو عبرت کا نشان بنانا چاہئے اس پر میثاق کیسے ہوسکتا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت جب سے آئی ہے آزادیٴ رائے کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں، حکومت کے اوپر تنقید بھی ہوتی ہے حکومت کی برداشت پر بھی تنقید ہوتی رہی ہے، اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو عمران خان پر تنقید کرنی ہے تو اس کیلئے الفاظ کے استعمال کا خیال رکھنا ہوگا، قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی لگادی گئی ہے، اس پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اعتراضات اٹھائے ہیں، پیرکو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سلیکٹڈ کے لفظ کی وضاحت کی اورا سے تاریخی سنسرشپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے الفاظ تو حذف کردیئے جاتے ہیں مگر حکومت کے نہیں ہوتے، مریم اورنگزیب اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے درمیان بھی سلیکٹڈ کے لفظ پر دلچسپ مکالمہ ہوا، ڈپٹی اسپیکر نے مریم اورنگزیب کی جانب سے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کرنے پر نوٹس لیا جس کے بعد ن لیگ کی ترجمان نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کیلئے اپنے الفاظ تبدیل کرتے ہوئے سلیکٹڈ کی جگہ ہینڈ پکڈ کا لفظ استعمال کیا،دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان اپوزیشن میں تھے تو پارلیمنٹ اور منتخب اراکین کے بارے میں بہت نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے۔  

اہم خبریں سے مزید