آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بورس جانسن اور برطانیہ کے مسلمان

تحریر:عامر سرفراز، ٹریژر
کنزرویٹو پارٹی… برطانیہ
ایسا لگتا ہے کہ بورس جانسن جلد ہی’’کنزرویٹو پارٹی‘‘ کے منتخب سربراہ اور برطانیہ کے وزیر اعظم ہوں گے بہت سی وجوہات ہیں کہ میں سمجھتاہوں کہ جانسن کی وزارت عظمیٰ برطانیہ کے مسلمانوں کیلئے ایک بہت اچھی ہوگی۔ برطانیہ کے مسلمان بھی دوسرے لوگوں کی طرح انہی چیزوں یعنی مستحکم معیشت، اچھا معیارصحت، مناسب قیمت میں رہائش اورایسی زندگی جو بریگزیٹ سے آگے ہو، کے بارے میں سوچتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ بورس جانسن کی وزارت عظمیٰ ’’بریگزیٹ سیٹلمنٹ‘‘کا ورق پلٹے گی اور ہمیں ایک طاقتور اور قابل لیڈر ملے گا۔ یہاں کچھ چیزیں ہیں جو بورس جانسن کے بارے میں شاید آپ نہ جانتے ہوں۔
1۔ بورنس جانسن کے پڑدادا علی کمال جو کہ ترک مسلمان تھے انہوں نے’’اتومان ایمپائر‘‘کی وزارت داخلہ کے وزیر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دیں دنیا کی پہلی جنگ کے اختتام پر انہوں نے ’’ پیرس پیس کانفرنس‘‘میں’’اتومان ایمپائر‘‘کی نمائندگی کی۔ بورس کو ہمیشہ اپنے مسلم آباؤ اجداد پر فخر رہا اور علی کمال کے ’’اتومان ایمپائر‘‘کیلئے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
2۔ آج، بورس جانسن کے کاموں کی وجہ سے برطانیہ کے طلباء کو’’ شریعہ کمپلیائنٹ لون‘‘ تک رسائی حاصل ہے جب وہ لندن کے میئر تھے

تو انہوں نے لندن میں’’ورلڈ اسلامک اکانومی فورم ‘‘کی میزبانی کی یہ پہلی دفعہ تھا جب یہ ایک مسلم ملک کے باہر منعقد ہوا اس موقع پر برطانیہ میں پہلی بار’’شریعہ کمپلائنٹ لون‘‘ کا آغاز کیا گیا۔
3۔ بورس جانسن کے کاموں کی وجہ سے مغرب میں لندن ایک بہت بڑا اسلامی معاشی مرکزہے یہ ان کے بطور میئر ہوتے ہوئے ہوا کہ انہوں نے ذاتی طور پر انڈسٹری کی ترقی کیلئے کام کیا اور جس کے نتیجے میں اسلامی معیشت میں لندن دنیا کے 10بڑے شہروں میں شامل ہے۔
-4 برما میں روہینگیا کے مسلمانوں کی حالت زار کو صرف ایک مغربی وزیر خارجہ سامنے لائے جو بورس جانسن تھے۔ جب وہ پچھلے سال فارن سیکرٹری تھے تو دنیا کے بہت سے سربراہان روہینگیا کے مسئلے پر خاموش تھے
لیکن بورس جانسن نے روہینگیا کے پناہ گزینوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کے بارے میں آواز اُٹھائی اور عوامی شعور پیدا کیا۔ انہوں نے ایسا کیا حالانکہ ان کو ایسا کرنے کیلئے منع بھی کیا گیا تھا۔
5۔ رمضان کے دوران، بورس نے غیر مسلموں کو روزہ رکھنے، مقامی مسجدوں میں افطار کے وقت جانے اور اسلام کے بارے میں سیکھنے کیلئے ترغیب دی۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے بہت سے سبق ہیں جو کہ تمام مذاہب کے لوگ اسلام سے سیکھ سکتے ہیں جیساکہ برادری کی اصلاح کی اہمیت، خاندان کے تعلقات، ہمدردی، اور غریبوں کی مدد کرنا جو کہ یہ تمام رمضان کی بہت اہم تعلیمات ہیں۔
مجھے اُمید ہے کہ’’کنزرویٹو پارٹی‘‘اسلام کے بنیادی کاروباری اصولوں کو منظم کرتی ہے۔مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ اگر بورس جانسن منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ ایسے وزیر اعظم ہوں گے جن پر برطانیہ کے مسلمانوں کو فخر ہوگا۔

یورپ سے سے مزید