آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کوئٹہ (پ ر)اکادمی ادبیات کوئٹہ کے زیراہتمام تعزیتی ریفرنس سے مقررین نے خطاب کرتےہوئے کہاہے کہ اردو جدید افسانے اور علامتی افسانے کی بنیاد رکھنے والوں میں ڈاکٹر انور سجاد ایک بنیادی حیثیت رکھتے ہیں انہوں نے اردو افسانے کو ایک نئی جہت دی خصوصاً اسلوب کے حوالے سے ان کی تحریروں میں ایک انفرادیت قائم رہی جسے بعدازاں بہت سے افسانہ نگاروں نے اپنانے کی کوشش کی ۔ مگر انور سجاد کا اسلوب ان کے افسانوں ، کردار نگاری اور موضوعات میں اپنا ایک الگ مقام لئے دکھائی دیا۔ ڈاکٹر انور سجاد نے افسانہ نگاری کے ساتھ ناول ،ڈرامے اور اداکاری کے شعبے میں بھی نمایاں حیثیت میں تخلیقات پیش کیں۔ڈاکٹر انور سجاد موضوعی اعتبار سے آفاقیت اور اجتماعیت کے قائل تھے ان کا قاری آج بھی ایک خاص تناظر میں ان کا مطالعہ کرتا ہے جو اسلوبیاتی حوالے سے اپنی مثال آپ ہے ان خیالات کا اظہار نامور افسانہ نگار وحید زہیر ؔتعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب کے آغاز میں ریذیڈنٹ ڈائریکٹر افضل مرادؔ نے ڈاکٹر انور سجاد کے حوالے سے اپنے مطالعے اور ان سے ملاقاتوں کے حوالے سے ابتدائی گفتگوکی ۔اس موقع پر نامور ڈرامہ نگار اے ڈی بلوچ نے ڈاکٹر انور سجاد کے ڈراموں کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے ڈرامے موضوع کے ساتھ ساتھ تیکنیک کے

حوالے سے بھی منفرد تھے اُن کے ڈراموں میں مونولاگ کی تیکنیک اور علامتی انداز کے کردار بڑی خوبصورتی سے سامنے آتے رہے ہم نے ان کے ڈراموں سے بہت کچھ سیکھا ہونا یہ چاہئے کہ ایسے بڑے رائٹرز کی فنکارانہ صلاحیتوںپر ہمارے میڈیا کے ادارے شعبے قائم کریں اور نئے لکھنے والوں کی رہنمائی ہو۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نامور افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس عارف ضیاء ؔ نے کہا کہ ڈاکٹر انور سجاد خاص طور پر سیاسی جبر کو موضوع بناتے ہوئے تخلیق کرتے رہے ۔ان کی تحریروں سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ایک وسیع المطالہ شخص تھے۔انہوں نے جو لکھا پوری دیانت اور ذہانت کے ساتھ اُسے پڑھنے والے تک پہنچایا اورمعاشرے میں تبدیلی کی خواہش کو مد نظر رکھا اُن کی اس دنیا ئے فانی سے چلے جانے سےایک خلا پیدا ہوگیا ہے لیکن ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فنکار کبھی نہیں مرتے ان کی تحریریں اور ان کا فن لافانی رہے گا۔اس تعزیتی نشست میں نوجوان لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے ڈاکٹر انور سجاد کے حوالے سے سوالات کئے ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں