آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارلیمنٹ ہاؤس میں شہباز شریف کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے اے پی سی میں بلاول بھٹو اور شہباز کی شرکت کا فیصلہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی قیادت میں مسلم 10 رکنی وفد اے پی سی میں شرکت کرے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے وفد میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، امیر مقام، عبدالقادر بلوچ، شاہ محمد شاہ اور رانا ثناء اللہ شامل ہیں جب کہ چیئرمین مسلم لیگ (ن) راجہ ظفر الحق بھی اے پی سی میں شرکت کریں گے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے کُل جماعتی کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے 5 رکنی وفد کا اعلان کیا ہے جو یوسف رضا گیلانی، رضا ربانی، نئیر بخاری، شیری رحمان اور فرحت اللہ بابر پر مشتمل ہے۔

میاں شہباز شریف کا متحدہ اپوزیشن کے اجلاس سے گفتگو میں کہنا تھا کہ نندی پور میں راجا پرویز اشرف کی درخواست مسترد کی گئی،بابراعوان کو بری کیا گیا،یہ سلیکٹد احتساب ہے،نیب کا معیار آپ نے دیکھ لیا۔




اپوزیشن اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری  کا کہنا تھا کہ ہم عوام دشمن بجٹ کومسترد کرتے ہیں،دو معززممبران کے پروڈکشن آڈر جاری نہیں ہوئے،یہ حکومت دھاندلی سے بجٹ پاس کرانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن صاحب ہمیشہ اپوزیشن کوملاتے ہیں،میں ای پی سی میں شرکت کرونگا،میں نے زبان دی ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر سراج الحق، ساجد نقوی، ساجد میر اور اویس نورانی کو بھی دعوت دی گئی ہے لیکن جماعت اسلامی نے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔

واضح رہے کہ کُل جماعتی کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی تبدیلی، بجٹ منظوری روکنے سے متعلق معاملات پر مشاورت ہوگی، اس کے علاوہ حکومت مخالف تحریک اور لاک ڈاؤن کے فیصلے پر بھی غور کیا جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں