آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان کے ضلع لورالائی پولیس لائن پر دہشت گردانہ کارروائی کے دوران 3 مسلح خودکش حملہ آور ہلاک ہوگئے، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واقعے کی مذمت کی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے لورالائی پولیس لائن پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں پولیس اہلکار کی شہادت اور2 اہلکاروں کے زخمی ہونے پر دکھ کا اظہار کیا۔

ڈی پی او لورالائی جواد طارق کے مطابق لورالائی میں پولیس کے محکمانہ امتحان کی تیاری جاری تھی کہ اچانک 3 مسلح افراد نے پولیس لائن میں دا خل ہونے کی کوشش کی ۔

ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے مسلح افراد کو روکنے کی کوشش کی جس پر دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس پر پولیس کی جوابی کارروائی پر 2 مسلح افراد نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا لیا جبکہ ان کے تیسرے ساتھی کو پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق لورالائی پولیس لائن میں حملہ کرنے والے تینوں مسلح افراد خودکش تھے، ایک خودکش پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا، جبکہ باقی 2 نےخود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق لورالائی پولیس لائن واقعے میں مسلح ا فراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوا جس کی شناخت ہیڈ محرر اللہ نواز کےنام سے ہوئی جبکہ ایس پی عطاء الرحمان اور ایک خاتون سمیت 3 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

واقعےکے بعد بم ڈسپوزبل ٹیم اور سیکیورٹی فورسز نے لورالائی پولیس لائن کو کلیئر کیا۔

وزیراعلیٰ نے واقعے میں شہید پولیس اہلکار کے خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ فورس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور شہداء کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔

دوسری جانب ترجمان حکومت بلوچستان نے بتایاکہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے لورالائی واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے ، انہوں نے حملے میں شہید اہلکار کی بہادری پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کی ہدایت جاری کی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں